غزل: مسند نشین کے نہ کسی تاجدار کے ۔۔۔

محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 10:16 صبح
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک مختصر سی نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
فکرِ معاش ہے نہ غمِ روزگار اب
آزاد ہو گئے ہیں مقدر سے ہار کے
یخ بستگیٔ عشق کا عالم نہ پوچھیے
آتی ہے اب تو یاد بھی اس کی پکار کے!
راحلؔ تو چھوڑ عقل کو، اب دل کی سن کے دیکھ
شاید ہو رازِ زیست ورے خلفشار کے!
محمد تابش صدیقی — اپریل 4، 2021 11:11 صبح
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بہت خوب
آزاد ہوئے ہم تو مقدر سے ہار کے
ہوئے کو فاع باندھنا درست ہے؟
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 12:29 شام
بہت شکریہ تابش بھائی ۔۔۔
ہوئے کو فاع باندھنا درست ہے؟
اصل مصرع یوں تھا ۔۔۔ آزاد ہو گئے ہیں ۔۔۔ مگر اس میں فاعل غیر موجود تھا، غزل پوسٹ کرتے ہوئے خیال آیا تو بدل دیا، اور دھیان نہیں دیا۔ فی الحال تو پرانی صورت پر بحال کر دیتا ہوں، بعد کی بعد میں دیکھتے ہیں :)
توجہ دلانے کے لیے شکر گزار ہوں۔
محمد تابش صدیقی — اپریل 4، 2021 12:43 شام
بہت شکریہ تابش بھائی ۔۔۔
اصل مصرع یوں تھا ۔۔۔ آزاد ہو گئے ہیں ۔۔۔ مگر اس میں فاعل غیر موجود تھا، غزل پوسٹ کرتے ہوئے خیال آیا تو بدل دیا، اور دھیان نہیں دیا۔ فی الحال تو پرانی صورت پر بحال کر دیتا ہوں، بعد کی بعد میں دیکھتے ہیں :)
توجہ دلانے کے لیے شکر گزار ہوں۔
آزاد ہم ہوئے ہیں۔۔۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 12:44 شام
آزاد ہم ہوئے ہیں۔۔۔
یہ بھی ذہن میں آیا تھا ۔۔۔ مگر مجھے شعر کے ماحول کے حساب سے ’’فٹ‘‘ نہیں لگا ۔۔۔ شدتِ تاکید مطلوب ہے :)
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 4، 2021 12:45 شام
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک مختصر سی نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
فکرِ معاش ہے نہ غمِ روزگار اب
آزاد ہو گئے ہیں مقدر سے ہار کے
یخ بستگیٔ عشق کا عالم نہ پوچھیے
آتی ہے اب تو یاد بھی اس کی پکار کے!
راحلؔ تو چھوڑ عقل کو، اب دل کی سن کے دیکھ
شاید ہو رازِ زیست ورے خلفشار کے!
خوبصورت خوبصورت!!!
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 12:46 شام
بہت شکریہ خلیلؔ بھائی ۔۔۔ بڑے دن بعد آپ کے درشن ہوئے :)
داد و پذیرائی کے لیے سپاس گزار ہوں۔
محمد عبدالرؤوف — اپریل 4، 2021 1:34 شام
بہت خوب احسن بھائی، مزا آ گیا
یاسر شاہ — اپریل 4، 2021 1:50 شام
السلام علیکم احسن بھائی
امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
کیوں نہیں ضرور -
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
دیار تو عام ہے -تخصیص چاہیے جیسے :
لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
اس مصرع میں دیار باندھ کر اسے اجڑے ہوئے سے خاص کیا گیا ہے اور پھر اس کی نسبت اگلے مصرع کے عالم ناپائیدار سے کی گئی ہے -
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
خوب ما شاء الله -الله کرے زور قلم اور زیادہ :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 2:55 شام
بہت خوب احسن بھائی، مزا آ گیا
بہت شکریہ بھائی عبدالرؤوف ۔۔۔ غزل پسند فرمانے کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 3:00 شام
السلام علیکم احسن بھائی
کیوں نہیں ضرور -
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
دیار تو عام ہے -تخصیص چاہیے جیسے :
لگتا نہیں ہے جی مرا اجڑے دیار میں
اس مصرع میں دیار باندھ کر اسے اجڑے ہوئے سے خاص کیا گیا ہے اور پھر اس کی نسبت اگلے مصرع کے عالم ناپائیدار سے کی گئی ہے -
کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
خوب ما شاء الله -الله کرے زور قلم اور زیادہ :)
وعلیکم السلام، بہت شکریہ یاسر بھائی، غزل پسند فرمانے کے لیے ممنون و متشکر ہوں۔
آپ نے اچھا نکتہ اٹھایا۔
میں نے در اصل یہاں لفظ دیا عام معنی میں ہی استعمال کیا ہے یعنی وطن کے مفہوم میں ۔۔۔ آپ کی بات درست لگتی ہے کہ کچھ موجودہ صورت میں کچھ تشنگی رہ جاتی ہے ۔۔۔ مگر بحر و قافیہ کی بندش کے سبب کوئی اور اضافت لانا مشکل تھا۔
ایک بار پھر آپ کی توجہ اور پذیرائی کے لیے شکریہ۔
عرفان علوی — اپریل 4، 2021 7:47 شام
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک مختصر سی نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
فکرِ معاش ہے نہ غمِ روزگار اب
آزاد ہو گئے ہیں مقدر سے ہار کے
یخ بستگیٔ عشق کا عالم نہ پوچھیے
آتی ہے اب تو یاد بھی اس کی پکار کے!
راحلؔ تو چھوڑ عقل کو، اب دل کی سن کے دیکھ
شاید ہو رازِ زیست ورے خلفشار کے!
راحل صاحب ، آپ کی غزل مختصر لیکن مؤثر ہے . :) بہت ساری داد!
مطلع میں یاسر صاحب کا تخصیص کا مطالبہ بجا ہے . اِس کی ایک آسان ترکیب یہ ہے کہ آپ ’خاک‘ کی جگہ ’تیرے‘ یا ’اس كے‘ کر دیں اور یہ قاری پر چھوڑ دیں کہ کس كے دیار کا ذکر ہے . جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ تخصیص کی ضرورت مجھے دوسرے شعر میں ’سبزے‘ كے لیے بھی محسوس ہوئی . ویسے ’غم کی زَرْد سرسوں‘ کی ترکیب خوب ہے . تیسرے شعر پر تابش صاحب کی رائے قابل غور ہے . اگر آپ کو فاعل ’ہَم‘ کی جگہ ’میں‘ قبول ہو تو ’گئے ہیں‘ کو ’گیا ہوں‘ کر دیجئے . اِس طرح فاعل کا ذکر بھی نہیں کرنا پڑیگا اور اس کا اعلان بھی ہو جائےگا . مقطع میں ’تو‘ کی ضرورت نہیں ہے . ایسے اضافی الفاظ سے پرہیز کیجیے .
نیازمند،
عرفان عابدؔ
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 4، 2021 8:29 شام
راحل صاحب ، آپ کی غزل مختصر لیکن مؤثر ہے . :) بہت ساری داد!
مطلع میں یاسر صاحب کا تخصیص کا مطالبہ بجا ہے . اِس کی ایک آسان ترکیب یہ ہے کہ آپ ’خاک‘ کی جگہ ’تیرے‘ یا ’اس كے‘ کر دیں اور یہ قاری پر چھوڑ دیں کہ کس كے دیار کا ذکر ہے . جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ تخصیص کی ضرورت مجھے دوسرے شعر میں ’سبزے‘ كے لیے بھی محسوس ہوئی . ویسے ’غم کی زَرْد سرسوں‘ کی ترکیب خوب ہے . تیسرے شعر پر تابش صاحب کی رائے قابل غور ہے . اگر آپ کو فاعل ’ہَم‘ کی جگہ ’میں‘ قبول ہو تو ’گئے ہیں‘ کو ’گیا ہوں‘ کر دیجئے . اِس طرح فاعل کا ذکر بھی نہیں کرنا پڑیگا اور اس کا اعلان بھی ہو جائےگا . مقطع میں ’تو‘ کی ضرورت نہیں ہے . ایسے اضافی الفاظ سے پرہیز کیجیے .
نیازمند،
عرفان عابدؔ
جزاک اللہ عرفانؔ بھائی ۔۔۔ داد و پذیرائی اور گرانقدر ناقدانہ تجزیے کے لیے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
الف عین — اپریل 5، 2021 6:20 صبح
ہو گیا ہوں... واقعی اچھی اصلاح ہے، فاعل کی ضرورت نہیں
مطلع کو
مقروض ہم ہیں صرف اسی خاک دیار کے
کیسا رہے گا؟
باقی غزل پسند آئی
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 5، 2021 6:41 صبح
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک مختصر سی نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
یخ بستگیٔ عشق کا عالم نہ پوچھیے
آتی ہے اب تو یاد بھی اس کی پکار کے!
راحلؔ تو چھوڑ عقل کو، اب دل کی سن کے دیکھ
شاید ہو رازِ زیست ورے خلفشار کے!
ماشاءاللہ ،
اللہ کریم آپ کے قلم میں خوب برکتیں عطا فرمائیں،
بہت عمدہ اور شاندار غزل
فکرِ معاش ہے نہ غمِ روزگار اب
آزاد ہو گئے ہیں مقدر سے ہار کے
بہت عمدہ شعر ۔پسند آیا
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 5، 2021 10:06 صبح
ہو گیا ہوں... واقعی اچھی اصلاح ہے، فاعل کی ضرورت نہیں
مطلع کو
مقروض ہم ہیں صرف اسی خاک دیار کے
کیسا رہے گا؟
باقی غزل پسند آئی
داد اور حوصلہ افزائی کے لیے سپاس گزار ہوں استادِ محترم۔
آپ کا مشورہ سر آنکھوں پر :)
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 5، 2021 10:07 صبح
ماشاءاللہ ،
اللہ کریم آپ کے قلم میں خوب برکتیں عطا فرمائیں،
بہت عمدہ اور شاندار غزل
بہت عمدہ شعر ۔پسند آیا
بہت شکریہ عدنان بھائی ۔۔۔ اظہارِ پسندیدگی کے لیے ممنون و متشکر ہوں۔ جزاک اللہ :)
امین شارق — اپریل 5، 2021 10:42 صبح
عزیزانِ گرامی، آداب!
ایک مختصر سی نئی غزل آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔ امید ہے کہ آپ سب اپنی قیمتی آرا سے ضرور نوازیں گے۔
دعاگو،
راحلؔ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسند نشین کے، نہ کسی تاجدار کے
مقروض ہم اگر ہیں تو خاکِ دیار کے!
بس غم کی زرد سرسوں تھی سبزے پہ موجزن
اور شور یہ اٹھا تھا کہ دن ہیں بہار کے
فکرِ معاش ہے نہ غمِ روزگار اب
آزاد ہو گئے ہیں مقدر سے ہار کے
یخ بستگیٔ عشق کا عالم نہ پوچھیے
آتی ہے اب تو یاد بھی اس کی پکار کے!
راحلؔ تو چھوڑ عقل کو، اب دل کی سن کے دیکھ
شاید ہو رازِ زیست ورے خلفشار کے!
میری طرف سے داد ہے سر کیجئے قبول
اچھے لکھیں اشعار نکھار وسنوار کے
محمد احسن سمیع راحلؔ — اپریل 5، 2021 7:57 شام
میری طرف سے داد ہے سر کیجئے قبول
اچھے لکھیں اشعار نکھار وسنوار کے
بہت شکریہ شارق صاحب، جزاک اللہ
ظہیراحمدظہیر — اپریل 7، 2021 5:21 شام
بہت خوب راحل بھائی ! اچھے اشعار ہیں !
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ!
مقطع سے ورے کو اگر پرے کردیتے تو بہتر تھا ۔ یہ لفظ متروک ہے ۔ جدید غزل میں اس کا غیر ضروری استعمال نہ ہو تو میری ناقص رائے میں اچھاہے ۔ ململ میں جینز کا پیوند معلوم ہوتا ہے ۔ بلکہ جینز میں ململ کا پیوند کہئے ۔ :):):)
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%B3%D9%86%D8%AF-%D9%86%D8%B4%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%92-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%AC%D8%AF%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94.115777/