غزل: مصوّر کا اگر شہکار ہوں میں

عرفان علوی — مئی 30، 2022 1:52 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے .
ایک تازہ غزل پیش خدمت ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی گراں قدر رائے سے نوازیے .
مصوّر کا اگر شہکار ہوں میں
تو کیوں اتنا ذلیل و خوار ہوں میں
ہنر مندی سے گو سرشار ہوں میں
زمانے كے لیے بےکار ہوں میں
مرض وہ ہے کہ بس لاچار ہوں میں
گرفتِ نفس کا بیمار ہوں میں
کہاں ہوں، کون ہوں اور کس لیے ہوں
انہیں افکار سے دو چار ہوں میں
زلیخا کی نظر کی جستجو ہے
میں یوسف ہوں، سَرِ بازار ہوں میں
انا کا ایک دریا درمیاں ہے
وہ ہے اُس پار تو اِس پار ہوں میں
چنی ہے خود فضا ئے دشت میں نے
میں گل ہوتا، مگر اک خار ہوں میں
ازل سے دَر حقیقت نیند میں ہوں
تمہیں چاہے لگے، بے دار ہوں میں
جہاں سے بے نیازی کیوں نہ ہوگی
خود اپنی ذات سے بے زار ہوں میں
کہانی مختصر ہے میری عابدؔ
جسے مرنا ہے وہ کردار ہوں میں
نیازمند‘
عرفان عابدؔ
محمد شکیل خورشید — جون 12، 2022 8:20 شام
کہانی مختصر ہے میری عابدؔ
جسے مرنا ہے وہ کردار ہوں میں
بہت عمدہ محترم، داد قبول فرمایئے
عرفان علوی — جون 14، 2022 2:59 صبح
بہت عمدہ محترم، داد قبول فرمایئے
بہت نوازش ، شکیل صاحب ! ممنون ہوں .
الف عین — جون 14، 2022 4:56 صبح
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ
سید عاطف علی — جون 14، 2022 5:15 صبح
جسے مرنا ہے وہ کردار ہوں میں
واہ عمدہ غزل ہے ۔ بہت خوب علوی صاحب ،
عرفان علوی — جون 15، 2022 3:57 صبح
عمدہ غزل ہے ماشاء اللہ
محترم اعجاز صاحب ، حوصلہ افزائی كے لیے بے حد ممنون ہوں . شکریہ !
عرفان علوی — جون 15، 2022 4:00 صبح
واہ عمدہ غزل ہے ۔ بہت خوب علوی صاحب ،
عاطف صاحب ، بڑی عنایت . بہت شکریہ !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%D8%B5%D9%88%D9%91%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DA%AF%D8%B1-%D8%B4%DB%81%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA.118505/