عرفان علوی — جنوری 21، 2023 4:44 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
بَیاض میں کوئی پندرہ سال پرانی ایک غزل نگاہ سے گزری جو خاکسار نے جناب طارق منظور كے مصرعے پر کہی تھی . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
مہتاب و کہکشاں کی مثالوں كے باوجود
تاریک کیوں ہے شہر اجالوں كے باوجود
خوش ہوں کہ اہلِ شہر كے ما بین رسم و راہ
قائم ہے میرِ شہر کی چالوں كے باوجود
محتاط ہو گئے ہیں زمانے کو دیکھ کر
’خوشبو کہیں نہ مشک، غزالوں كے باوجود‘
اے زیست ، تجھ میں اتنی کشش کیوں ہے آج بھی
اندوہ و درد و یاس كے سالوں كے باوجود
کچھ رنج آدمی کو کبھی چھوڑتے نہیں
ساقی ، مۓ طرب كے پیالوں كے باوجود
ہَم ہی میں عیب ہے جو تمہاری نگاہ میں
نا معتبر ہیں نیک خیالوں كے باوجود
غیرت نے میرے سارے دکھوں کو رکھا ہے راز
احباب و اقربا كے سوالوں كے باوجود
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
عابدؔ وہ بات جس پہ تھیں پابندیاں ہزار
ہَم کہہ گئے زبان پہ تالوں كے باوجود
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
مقبول — جنوری 21، 2023 7:29 شام
بہت خوب ، جناب
صابرہ امین — جنوری 21، 2023 9:17 شام
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
واہ، عمدہ غزل ۔ داد قبول کیجیے۔۔
عرفان علوی — جنوری 22، 2023 3:59 شام
عرفان علوی — جنوری 22، 2023 4:01 شام
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
واہ، عمدہ غزل ۔ داد قبول کیجیے۔۔
بہت شکریہ ، صابرہ بہن !
ایس ایس ساگر — جنوری 22، 2023 4:21 شام
مہتاب و کہکشاں کی مثالوں كے باوجود
تاریک کیوں ہے شہر اجالوں كے باوجود
خوش ہوں کہ اہلِ شہر كے ما بین رسم و راہ
قائم ہے میرِ شہر کی چالوں كے باوجود
محتاط ہو گئے ہیں زمانے کو دیکھ کر
’خوشبو کہیں نہ مشک، غزالوں كے باوجود‘
اے زیست ، تجھ میں اتنی کشش کیوں ہے آج بھی
اندوہ و درد و یاس كے سالوں كے باوجود
کچھ رنج آدمی کو کبھی چھوڑتے نہیں
ساقی ، مۓ طرب كے پیالوں كے باوجود
ہَم ہی میں عیب ہے جو تمہاری نگاہ میں
نا معتبر ہیں نیک خیالوں كے باوجود
غیرت نے میرے سارے دکھوں کو رکھا ہے راز
احباب و اقربا كے سوالوں كے باوجود
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
عابدؔ وہ بات جس پہ تھیں پابندیاں ہزار
ہَم کہہ گئے زبان پہ تالوں كے باوجود
واہ ۔ واہ۔ غزل کا ہر شعر لاجواب۔
عمدہ غزل ہے
عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2023 11:21 شام
بہت خوب ، عرفان بھائی ! خوب غزل ہے !
عرفان علوی — جنوری 23، 2023 3:46 صبح
واہ ۔ واہ۔ غزل کا ہر شعر لاجواب۔
عمدہ غزل ہے
عرفان علوی بھائی۔
سلامت رہیئے۔ آمین۔
ساگر صاحب ، حوصلہ افزائی كے لیے ممنون ہوں . بہت شکریہ !
عرفان علوی — جنوری 23، 2023 3:50 صبح
بہت خوب ، عرفان بھائی ! خوب غزل ہے !
ظہیر بھائی ، آپ کی داد حسب معمول باعث صد مسرت ہے . بہت شکریہ !
سید عاطف علی — جنوری 23، 2023 4:30 صبح
ہَم کہہ گئے زبان پہ تالوں كے باوجود
واہ ابہت خوب عابد بھائی ،
عمدہ اشعار ہیں ۔ بہت خوب ۔آباد رہئیے۔
محمد عبدالرؤوف — جنوری 23، 2023 4:51 صبح
ماشاءاللہ، حسبِ معمول عمدہ غزل ہے
امین شارق — جنوری 23، 2023 4:58 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے !
بَیاض میں کوئی پندرہ سال پرانی ایک غزل نگاہ سے گزری جو خاکسار نے جناب طارق منظور كے مصرعے پر کہی تھی . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
مہتاب و کہکشاں کی مثالوں كے باوجود
تاریک کیوں ہے شہر اجالوں كے باوجود
خوش ہوں کہ اہلِ شہر كے ما بین رسم و راہ
قائم ہے میرِ شہر کی چالوں كے باوجود
محتاط ہو گئے ہیں زمانے کو دیکھ کر
’خوشبو کہیں نہ مشک، غزالوں كے باوجود‘
اے زیست ، تجھ میں اتنی کشش کیوں ہے آج بھی
اندوہ و درد و یاس كے سالوں كے باوجود
کچھ رنج آدمی کو کبھی چھوڑتے نہیں
ساقی ، مۓ طرب كے پیالوں كے باوجود
ہَم ہی میں عیب ہے جو تمہاری نگاہ میں
نا معتبر ہیں نیک خیالوں كے باوجود
غیرت نے میرے سارے دکھوں کو رکھا ہے راز
احباب و اقربا كے سوالوں كے باوجود
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
عابدؔ وہ بات جس پہ تھیں پابندیاں ہزار
ہَم کہہ گئے زبان پہ تالوں كے باوجود
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
واہ، عمدہ غزل ۔ داد قبول کیجیے۔۔
عرفان علوی — جنوری 27، 2023 3:38 صبح
واہ ابہت خوب عابد بھائی ،
عمدہ اشعار ہیں ۔ بہت خوب ۔آباد رہئیے۔
عاطف بھائی ، نوازش ، کرم ، شکریہ ، مہربانی !
عرفان علوی — جنوری 27، 2023 3:40 صبح
ماشاءاللہ، حسبِ معمول عمدہ غزل ہے
روفی بھائی ، عنایت كے لیے ممنون ہوں . جزاک اللہ .
عرفان علوی — جنوری 27، 2023 3:45 صبح
واہ، عمدہ غزل ۔ داد قبول کیجیے۔۔
شارق بھائی، حوصلہ افزائی کا شکریہ!
یاسر شاہ — جنوری 28، 2023 10:00 صبح
خوش ہوں کہ اہلِ شہر كے ما بین رسم و راہ
قائم ہے میرِ شہر کی چالوں كے باوجود
ہَم وہ نہیں جو راہ كے کانٹوں سے خوف کھائیں
عزمِ سفر ہے پاؤں كے چھالوں كے باوجود
عابدؔ وہ بات جس پہ تھیں پابندیاں ہزار
ہَم کہہ گئے زبان پہ تالوں كے باوجود
عمدہ ۔بہت خوب ماشاء اللہ ۔
علوی بھائی مگر گرہ کا مصرع مجھے کمزور لگا۔ابتدا میں تو بیانیہ ہی سمجھ میں نہ آسکا ۔
عرفان علوی — جنوری 29، 2023 5:49 شام
عمدہ ۔بہت خوب ماشاء اللہ ۔
علوی بھائی مگر گرہ کا مصرع مجھے کمزور لگا۔ابتدا میں تو بیانیہ ہی سمجھ میں نہ آسکا ۔
یاسر بھائی ، اظہار خیال اور داد کا بہت بہت شکریہ !
الف عین — جنوری 30، 2023 3:59 صبح
پندرہ سالوں کے باوجود اچھی غزل ہے، یعنی اس کا ثبوت کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات نہیں، سالوں پہلے بھی اچھی غزلیں کہتے تھے
عرفان علوی
عرفان علوی — جنوری 30، 2023 10:51 شام
پندرہ سالوں کے باوجود اچھی غزل ہے، یعنی اس کا ثبوت کہ جمعہ جمعہ آٹھ دن کی بات نہیں، سالوں پہلے بھی اچھی غزلیں کہتے تھے
عرفان علوی
محترم اعجاز صاحب ، بھلا میں کیا اور میری ناچیز غزلیں کیا . مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ پندرہ برس قبل بھی میں محض تکبندی کرتا تھا اور آج بھی وہی حال ہے . ہاں ، اگر کبھی کوئی کاوش آپ جیسے سخن فہم شخص کو پسند آ جائے تو لگتا ہے کہ یہ سفر رائگاں نہیں گیا . حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ !