غزل میرا قائد تھا شاہکار بندہ

سیدہ سارا غزل — دسمبر 25، 2011 2:23 شام
غزل میرا قائد تھا شہکار بندہ
تخیل بلند اور پختہ عزائم
حقیقت شناس اور وعدے پہ قائم
ہر اک بات ہوتی تھی جس کی مکمل
وہ بیدار مغز اور شاہکار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
چٹانوں کی مانند اس کے ارادے
خیالوں کی دنیا میں ہلچل مچا دے
جھکا نہ سکی جس کو غیروں کی دولت
وہ مرد ِ قلندر وہ خود دار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
حریفوں پہ اس واسطےفتح پائی
کہ بے لوث ملت کی کی رہنمائی
نہ لالچ میں اور نہ وہ دھوکے میں آیا
وہ غیروں کے حربوں سے ہوشیار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
بھنور میں گھرا تھا سفینہ ہمارا
نظر سے بہت دور تھا گو کنارا
مگر وہ سفینے کو ساحل پہ لایا
وہ عاقل وہ دانا و ہ بیدار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
نہ مرتا اگر کچھ ستم اور سہتا
ہمارے لئے اور کچھ روز رہتا
ہوئے شادماں اس کے مرنے سے دشمن
سدھارا وہ ملت کا غمخوار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
غزل میرا قائد تھا شہکار بندہ
وہ ملک اور ملت کا غمخوار بندہ
ہم اپنے سخن کے سفر کی شروعات میں لکھی ہوئی ایک پرانی نظم یوم بانئ پاکستان حضرت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پوسٹ کرنے کی جسارت کر رہے ہیں ۔ہمیں فورم میں حضرت قائد اعظم کے نام سے کوئی باب نظر نہیں آیا اس لئے مجبورا یہاں پوسٹ کر دی، اگر سعود بھیا اور محمود بھیا مناسب سمجھیں تو اسے متعلقہ سب فورم میں منقتل کر دیں۔ شکریہ
سیدہ سارا غزل — دسمبر 25، 2011 2:46 شام
sara10.jpg
محمد امین — دسمبر 26، 2011 1:03 شام
غزل بہنا اچھی شاعری ہے ماشاءاللہ۔۔۔ اور سب فورم تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے :) :) آپکی شاعری ہی تو ہے :)
ایس فصیح ربانی — دسمبر 29، 2011 6:28 شام
بہت خوب محترمہ غزل صاحبہ
بہت اچھی نظم پیش کی ہے آپ نے،
بلا کی روانی ہے، داد قبول کیجیے۔
جھکا نہ سکی جس کو غیروں کی دولت
اور
نہ لالچ میں اور نہ وہ دھوکے میں آیا
درج بالا دو مصرعوں میں لفظ نہ کا استعمال درست نہیں، بدل جائیں تو اچھا ہو۔
جیسے دوسرا مصرعہ یوں ہو سکتا ہے، وہ لالچ میں آیا نہ دھوکے میں آیا
سیدہ سارا غزل — دسمبر 29، 2011 6:49 شام
بہت خوب محترمہ غزل صاحبہ
بہت اچھی نظم پیش کی ہے آپ نے،
بلا کی روانی ہے، داد قبول کیجیے۔
جھکا نہ سکی جس کو غیروں کی دولت
اور
نہ لالچ میں اور نہ وہ دھوکے میں آیا
درج بالا دو مصرعوں میں لفظ نہ کا استعمال درست نہیں، بدل جائیں تو اچھا ہو۔
جیسے دوسرا مصرعہ یوں ہو سکتا ہے، وہ لالچ میں آیا نہ دھوکے میں آیا
سر فصیح ربانی صاحب یہ میرے سخن کے سفر کی شروعات کی نظم ہے، بنا کسی سے اصلاح لئے ویسے ہی کاپی پیسٹ کر دی، لیکن اب آپ کی اصلاح کے بعد بہتر ہو گئی ہے۔ آپ کی اس شفقت کے لئے بیحد مشکور اور آپ کی صحت کے لئے دعا گو ہیں ۔ سدا سلامت رہیں
مغزل — جنوری 14، 2012 10:13 صبح
بہت خوب سارا بہنا ، جیتی رہو ماشا اللہ بہت عمدہ کہتی ہو آپ ۔ سلامت رہو

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%DB%8C%D8%B1%D8%A7-%D9%82%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D8%B4%D8%A7%DB%81%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%A8%D9%86%D8%AF%DB%81.49206/