غزل: میں تو گریز پا تھا

محمداحمد — جولائی 2، 2022 12:22 شام
غزل
میں تو گریز پا تھا
دل نے تجھے چُنا تھا
خود ہی سے ہر گِلہ تھا
تجھ سے نہ کچھ کہا تھا
میں نے جو خط لکھا تھا
راہوں میں کھو گیا تھا
کانٹے سے چُبھ رہے تھے
میں پُھول چُن رہا تھا
میں مَر گیا تھا شاید
اعلان ہو رہا تھا
کوئل چلی گئی جب
تب پیڑ جَل گیا تھا
دِل کو سنبھالنے میں
میں ٹوٹنے لگا تھا
آندھی چَڑھی ہوئی تھی
ٹُوٹا ہوا دیا تھا
پتھرا گئی تھیں آنکھیں
اِک انتظار سا تھا
میں ہنس رہا تھا سُن کر
میرا ہی ماجرا تھا
آواز کیسے آتی
میں کب کا جا چکا تھا
اک نام تھا کسی کا
لکھ کر مٹا دیا تھا
اک ہم نوا تھا دل ہی
اور وہ بھی بے نوا تھا
تم نے اُسے سُنا، کل
احمدؔ غزل سرا تھا


محمد احمدؔ
محمد عبدالرؤوف — جولائی 2، 2022 12:30 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ بہت خوب احمد بھائی ۔۔ ہر شعر ہی خوبصورت ہے
محمداحمد — جولائی 2، 2022 12:38 شام
واہ واہ واہ۔۔۔ بہت خوب احمد بھائی ۔۔ ہر شعر ہی خوبصورت ہے

بہت شکریہ عبدالرؤوف بھائی!
بہت ممنون ہوں۔
ایس ایس ساگر — جولائی 2، 2022 1:31 شام
زبردست محمداحمد بھائی۔ خوبصورت اشعار ہیں۔
بہترین۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین۔
محمداحمد — جولائی 4، 2022 11:25 صبح
زبردست محمداحمد بھائی۔ خوبصورت اشعار ہیں۔
بہترین۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین۔

بہت شکریہ ساگر بھیا!
حوصلہ افزائی کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
نیرنگ خیال — جولائی 4، 2022 2:04 شام
خود ہی سے ہر گِلہ تھا
تجھ سے نہ کچھ کہا تھا

میں مَر گیا تھا شاید
اعلان ہو رہا تھا

دِل کو سنبھالنے میں
میں ٹوٹنے لگا تھا

میں ہنس رہا تھا سُن کر
میرا ہی ماجرا تھا

اک ہم نوا تھا دل ہی
اور وہ بھی بے نوا تھا
احمد بھائی! یوں تو مکمل غزل ہی لاجواب ہے۔۔۔ لیکن یہ اشعار بالخصوص بہت پسند آئے۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ مزا آگیا۔۔۔
محمداحمد — جولائی 4، 2022 4:46 شام
احمد بھائی! یوں تو مکمل غزل ہی لاجواب ہے۔۔۔ لیکن یہ اشعار بالخصوص بہت پسند آئے۔۔۔ کیا کہنے۔۔۔ مزا آگیا۔۔۔
بہت شکریہ نین بھائی!
آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی میرے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
عرفان علوی — جولائی 4، 2022 6:02 شام
غزل
میں تو گریز پا تھا
دل نے تجھے چُنا تھا
خود ہی سے ہر گِلہ تھا
تجھ سے نہ کچھ کہا تھا
میں نے جو خط لکھا تھا
راہوں میں کھو گیا تھا
کانٹے سے چُبھ رہے تھے
میں پُھول چُن رہا تھا
میں مَر گیا تھا شاید
اعلان ہو رہا تھا
کوئل چلی گئی جب
تب پیڑ جَل گیا تھا
دِل کو سنبھالنے میں
میں ٹوٹنے لگا تھا
آندھی چَڑھی ہوئی تھی
ٹُوٹا ہوا دیا تھا
پتھرا گئی تھیں آنکھیں
اِک انتظار سا تھا
میں ہنس رہا تھا سُن کر
میرا ہی ماجرا تھا
آواز کیسے آتی
میں کب کا جا چکا تھا
اک نام تھا کسی کا
لکھ کر مٹا دیا تھا
اک ہم نوا تھا دل ہی
اور وہ بھی بے نوا تھا
تم نے اُسے سُنا، کل
احمدؔ غزل سرا تھا

محمد احمدؔ
بہت خوب ، احمد صاحب ! عمدہ اشعار ہیں . داد حاضر ہے .
الف عین — جولائی 5، 2022 4:49 صبح
اچھے اشعار ہیں احمد، پسند آئے
محمداحمد — جولائی 13، 2022 12:10 شام
بہت خوب ، احمد صاحب ! عمدہ اشعار ہیں . داد حاضر ہے .

بہت شکریہ عرفان صاحب!
بے حد ممنون ہوں۔
محمداحمد — جولائی 13، 2022 12:11 شام
اچھے اشعار ہیں احمد، پسند آئے

بہت شکریہ استادِ محترم!
بے حد ممنون و متشکر ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%B2-%D9%BE%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.118615/