غزل: واسطہ کیا نشانِ منزل سے

نامعلوم اول — فروری 11، 2013 1:55 شام
واسطہ کیا نشانِ منزل سے​
غرقِ دریا ہوں دور ساحل سے​
سو بلاؤں کے میزباں ٹھہرے​
تنگ آئے فراخئِ دل سے​
کوئی دریا ہی اب ملے تو بجھے​
لے کر آئے ہیں پیاس ساحل سے​
ایک اداسی سی چھا گئی ہر سو​
کون اٹھا آج اپنی محفل سے​
وقت ظالم ہے تیری یادیں بھی​
محو ہو جائیں گی مرے دل سے​
زندگی بھر لڑاکئے اے دوست​
ایک کے بعد ایک مشکل سے​
بیٹھے بیٹھے اداس ہو جانا​
آپ بھی ہو گئے ہیں کاملؔ سے​
مہ جبین — مارچ 7، 2013 4:40 صبح
سو بلاؤں کے میزباں ٹھہرے
تنگ آئے فراخئِ دل سے
کوئی دریا ہی اب ملے تو بجھے
لے کر آئے ہیں پیاس ساحل سے
بہت زبردست کاشف عمران بھائی
ماشاءاللہ سارا کلام ہی بہترین ہے
لیکن آپکے کلام پر داد دینا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے
اور میں نے یہ جسارت کرلی۔۔۔۔:oops:
کاشف عمران — مارچ 7، 2013 4:47 صبح
سو بلاؤں کے میزباں ٹھہرے
تنگ آئے فراخئِ دل سے
کوئی دریا ہی اب ملے تو بجھے
لے کر آئے ہیں پیاس ساحل سے
بہت زبردست کاشف عمران بھائی
ماشاءاللہ سارا کلام ہی بہترین ہے
لیکن آپکے کلام پر داد دینا تو سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے
اور میں نے یہ جسارت کرلی۔۔۔ ۔:oops:
کیوں شرمندہ کرتی ہیں بہن۔ نوازش ہے آپ کی۔
شیزان — مارچ 7، 2013 4:50 صبح
وقت ظالم ہے تیری یادیں بھی
محو ہو جائیں گی مرے دل سے
واہ واہ کیا بات ہے جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%D8%A7%D8%B3%D8%B7%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%D9%86%D8%B4%D8%A7%D9%86%D9%90-%D9%85%D9%86%D8%B2%D9%84-%D8%B3%DB%92.59757/