غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے

محمد تابش صدیقی — جنوری 17، 2018 2:21 شام
ایک کاوش احبابِ محفل کی بصارتوں کی نذر:
وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
صعوبتوں کی کتاب رستے
ہیں سہل الفت کے رہرووں کو
ہوں چاہے جتنے خراب رستے
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
چمک سے دھندلا گئی ہے منزل
بنے ہوئے ہیں سراب رستے
رہِ عزیمت کے راہیوں کو
گناہ مسکن، ثواب رستے
کمی ہے تیرے جنوں میں تابشؔ
جو بن گئے ہیں عذاب رستے

٭٭٭
محمد تابش صدیقی
محمد عدنان اکبری نقیبی — جنوری 17، 2018 2:31 شام
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
واہ کیا خوب ارشاد فرمایا ،
بہت شاندار غزل ،
اللہ کریم ذوق سخن میں حرارت پیدا فرمائے۔آمین
امان زرگر — جنوری 17، 2018 3:02 شام
آہا۔۔۔۔۔ کیا روانی ہے۔ بہت خوبصورت بہت اعلٰی، لطف آگیا
اے خان — جنوری 17، 2018 3:19 شام
عمدہ :)
کاشف اختر — جنوری 17، 2018 3:23 شام
سبحان اللہ! منفرد قافیہ کی بہت منفرد اعلیٰ غزل ہوئی ہے ماشاء اللہ! ہر شعر عمدہ ہے! بہت لطف آیا آپ کی اس غزل کو پڑھ کر!
یوسف سلطان — جنوری 17، 2018 3:51 شام
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
بہت خوب۔
ہادیہ — جنوری 17، 2018 4:38 شام
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
چمک سے دھندلا گئی ہے منزل
بنے ہوئے ہیں سراب رستے
واہ۔اعلٰی (y)(y)(y)
فرقان احمد — جنوری 17، 2018 5:38 شام
ہیں سہل الفت کے رہرووں کو
ہوں چاہے جتنے خراب رستے
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
چمک سے دھندلا گئی ہے منزل
بنے ہوئے ہیں سراب رستے
رہِ عزیمت کے راہیوں کو
گناہ مسکن، ثواب رستے

بہترین!

مطلع کی مکمل تفہیم نہ ہو سکی، لگتا ہے، اپنا مطالعہ بڑھانا پڑے گا۔
عرفان سعید — جنوری 17، 2018 9:33 شام
سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا ندرت ہے قوافی و ردیف میں، لطف آ گیا۔چھوٹی بحر میں سونامی اٹھا دیا جناب نے۔
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
اس کی کیا بات ہے!
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:13 صبح
واہ کیا خوب ارشاد فرمایا ،
بہت شاندار غزل ،
اللہ کریم ذوق سخن میں حرارت پیدا فرمائے۔آمین
بہت شکریہ عدنان بھائی۔
تابش تو پہلے ہی غزل میں موجود ہے، اور کتنی حرارت چاہیے۔ :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:14 صبح
آہا۔۔۔۔۔ کیا روانی ہے۔ بہت خوبصورت بہت اعلٰی، لطف آگیا
بہت شکریہ امان بھائی۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:14 صبح
شکراً
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:15 صبح
سبحان اللہ! منفرد قافیہ کی بہت منفرد اعلیٰ غزل ہوئی ہے ماشاء اللہ! ہر شعر عمدہ ہے! بہت لطف آیا آپ کی اس غزل کو پڑھ کر!
ممنون ہوں کاشف بھائی۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:15 صبح
شکریہ یوسف بھائی
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:16 صبح
بہت شکریہ ہادیہ بہن
محمد وارث — جنوری 18، 2018 3:19 صبح
خوبصورت غزل ہے صدیقی صاحب، کیا کہنے۔ لاجواب!
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:19 صبح
شکریہ فرقان بھائی۔
مطلع کی مکمل تفہیم نہ ہو سکی، لگتا ہے، اپنا مطالعہ بڑھانا پڑے گا۔
ارے فرقان بھائی کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ کمی ضرور میرے بیانیہ میں ہے، جو ربط واضح نہ ہو سکا۔
پہلے مصرع میں جو بات کہی ہے، دوسرے میں اس کی وضاحت ہے۔
وفا کا بہترین نصاب رستے ہیں
کیوں؟
وفا کے رستے میں لوگوں نے جو مصائب جھیلے ہیں، وہ رستوں پر ہی تو رقم ہیں۔
شاید، پھر بھی نہ سمجھ آئے تو یقیناً شعر میں بہتری کی ضرورت ہے۔ :)
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:22 صبح
سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا ندرت ہے قوافی و ردیف میں، لطف آ گیا۔چھوٹی بحر میں سونامی اٹھا دیا جناب نے۔
اس کی کیا بات ہے!
محبت ہے آپ کی عرفان بھائی۔
محمد تابش صدیقی — جنوری 18، 2018 3:23 صبح
خوبصورت غزل ہے صدیقی صاحب، کیا کہنے۔ لاجواب!
آپ کو پسند آ گئی، تو گویا محنت وصول ہوئی۔ :)
ظہیراحمدظہیر — جنوری 22، 2018 7:46 شام
واہ واہ!! بہت خوب تابش بھائی !
کیا اچھا شعر ہے !
جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو
ارادہ ہو تو، گلاب رستے
کیا بات ہے گلاب رستے کی ! اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ !
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%D9%81%D8%A7-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%B0-%D9%86%D8%B5%D8%A7%D8%A8-%D8%B1%D8%B3%D8%AA%DB%92.99829/