غزل: وہ جب ملے تو نیا سا دکھائی دیتا ہے

جاسمن — جولائی 13، 2025 10:06 صبح
جمالِ یار بھی کیسا دکھائی دیتا ہے
کبھی قمر، کبھی تارہ دکھائی دیتا ہے
یہ بات ہی تو اسے منفرد بناتی ہے
وہ جب ملے تو نیا سا دکھائی دیتا ہے
نہ دیکھو شکل، سُنے جاؤ بس وہی آواز
یہ سودا ہجر کا سستا دکھائی دیتا ہے
مری نظر بھی عجب معجزے دکھاتی ہے
شبانِ ہجر میں سایہ دکھائی دیتا ہے
مرا فریب تو اِس بار ووٹ ہار گیا
مزاج شہر کا سچا دکھائی دیتا ہے
وہ میری آنکھ کا آنسو تھا پُر فسوں، پُرسوز
جو تیری آنکھ سے بہتا دکھائی دیتا ہے
جو شب کی اوٹ سے چندا چمکتا رہتا ہے
دیارِ غیر میں اپنا دکھائی دیتا ہے
خُدا کی دید کے طالب چلو کہ ہم جھانکیں
وہ کوہِ طور پہ موسیٰ دکھائی دیتا ہے
درِ حبیب کی چوکھٹ پہ سر جھکا دو اگر
وہ دل پہ ہاتھ سا رکھا دکھائی دیتا ہے
تری گلی کا وہ چہرہ جسے نہیں دیکھا
مجھے تو وہ بھی شناسا دکھائی دیتا ہے
جو شخص توڑ کے بندھن گیا تھا دعوے سے
یہ کیا وہی ہے جو آتا دکھائی دیتا ہے
ہم اپنی ذات میں اِ ک انجمن ہیں دیکھو تو
جہان سارے کا سارا دکھائی دیتا ہے
یہ دُنیا کس لیے پاگل اسےسمجھتی ہے
جو اپنے آپ پہ ہنستا دکھائی دیتا ہے
جدائیاں ہوں اگر زیست کی مسافت میں
تو پھر جوان بھی بوڑھا دکھائی دیتا ہے
ہمارے ساتھ تو رہتا ہے اپنا غم ورنہ
ہر ایک شخص ہی تنہا دکھائی دیتا ہے
اور اُس کے سامنے کچھ بات ہی نہیں بنتی
یہ چاند اُس کا ہی سایا دکھائی دیتا ہے
مجھے یقین ہے جُوہی وہ مجھ کو ڈھونڈے گا
وہ جس کے ہاتھ میں تارا دکھائی دیتا ہے
جاسمن
یہاں اس غزل کی مرمت ہوئی تھی۔
نوٹ: اس غزل میں ایک طرح مصرح ہے لیکن عرصہ ہوا تو معلوم نہیں ہو پارہا۔:)
شاید
وہ مصرح بھی اپنا دکھائی دیتا ہے۔:D)
الف عین — جولائی 13، 2025 8:28 شام
جمالِ یار بھی کیسا دکھائی دیتا ہے
کبھی چنداکبھی تارہ دکھائی دیتا ہے
یہ بات ہی تو اسے منفرد بناتی ہے
وہ جب ملے تو نیا سا دکھائی دیتا ہے
نہ دیکھو شکل، سُنے جاؤ بس وہی آواز
یہ سودا ہجر کا سستا دکھائی دیتا ہے
مری نظر بھی عجب معجزے دکھاتی ہے
شبانِ ہجر میں سایہ دکھائی دیتا ہے
مرا فریب تو اِس بار ووٹ ہار گیا
مزاج شہر کا سچا دکھائی دیتا ہے
وہ میری آنکھ کا آنسو تھا پُر فسوں، پُرسوز
جو تیری آنکھ سے بہتا دکھائی دیتا ہے
جو شب کی اوٹ سے چندا چمکتا رہتا ہے
دیارِ غیر میں اپنا دکھائی دیتا ہے
خُدا کی دید کے طالب چلو کہ ہم جھانکیں
وہ کوہِ طور پہ موسیٰ دکھائی دیتا ہے
درِ حبیب کی چوکھٹ پہ سر جھکا دو اگر
وہ دل پہ ہاتھ سا رکھا دکھائی دیتا ہے
تری گلی کا وہ چہرہ جسے نہیں دیکھا
مجھے تو وہ بھی شناسا دکھائی دیتا ہے
جو شخص توڑ کے بندھن گیا تھا دعوے سے
یہ کیا وہی ہے جو آتا دکھائی دیتا ہے
ہم اپنی ذات میں اِ ک انجمن ہیں دیکھو تو
جہان سارے کا سارا دکھائی دیتا ہے
یہ دُنیا کس لیے پاگل اسےسمجھتی ہے
جو اپنے آپ پہ ہنستا دکھائی دیتا ہے
جدائیاں ہوں اگر زیست کی مسافت میں
تو پھر جوان بھی بوڑھا دکھائی دیتا ہے
ہمارے ساتھ تو رہتا ہے اپنا غم ورنہ
ہر ایک شخص ہی تنہا دکھائی دیتا ہے
اور اُس کے سامنے کچھ بات ہی نہیں بنتی
یہ چاند اُس کا ہی سایا دکھائی دیتا ہے
مجھے یقین ہے جُوہی وہ مجھ کو ڈھونڈے گا
وہ جس کے ہاتھ میں تارا دکھائی دیتا ہے
جاسمن
یہاں اس غزل کی مرمت ہوئی تھی۔
نوٹ: اس غزل میں ایک طرح مصرح ہے لیکن عرصہ ہوا تو معلوم نہیں ہو پارہا۔:)
شاید
وہ مصرح بھی اپنا دکھائی دیتا ہے۔:D)
لیکن مطلع کے دوسرے مصرعے کو میں نے اس وقت نا قابل اصلاح قرار دیا تھا، کہ مجھے خود کوئی مناسب گرہ نہیں سوجھ رہی تھی۔ مگر لگتا ہے کہ تم نے اسی بے بحر مصرع کو قبول کر لیا!
جاسمن — جولائی 13، 2025 11:23 شام
لیکن مطلع کے دوسرے مصرعے کو میں نے اس وقت نا قابل اصلاح قرار دیا تھا، کہ مجھے خود کوئی مناسب گرہ نہیں سوجھ رہی تھی۔ مگر لگتا ہے کہ تم نے اسی بے بحر مصرع کو قبول کر لیا!
استادِ محترم! نکال دیا ہے۔ :)
معذرت ۔
عظیم — جولائی 14، 2025 6:52 صبح
استادِ محترم! نکال دیا ہے۔ :)
معذرت ۔
نکالنا تو میرے خیال میں ٹھیک نہ رہے شاید کہ مطلع ہے، اگر کچھ فکر کی جائے تو کوئی صورت نکل سکتی ہے
مثلاً
جمال یار ںھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے
کبھی تو مہ کبھی تارہ دکھائی دیتا ہے
کبھی قمر ..
یا
جمال یار بھی کیسا ....
کبھی قمر کبھی تارہ ....
جاسمن — جولائی 14، 2025 10:04 صبح
نکالنا تو میرے خیال میں ٹھیک نہ رہے شاید کہ مطلع ہے، اگر کچھ فکر کی جائے تو کوئی صورت نکل سکتی ہے
مثلاً
جمال یار ںھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے
کبھی تو مہ کبھی تارہ دکھائی دیتا ہے
کبھی قمر ..
یا
جمال یار بھی کیسا ....
کبھی قمر کبھی تارہ ....
اچھا!!!
چلیے ایسے کر لیتے ہیں۔
جزاک اللہ
لاریب مرزا — جولائی 14، 2025 10:33 صبح
بہت خوب کاوش ہے. ڈھیروں داد آپ کے لیے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%DB%81-%D8%AC%D8%A8-%D9%85%D9%84%DB%92-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%8C%D8%A7-%D8%B3%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92.121738/