غزل: وہ مجھے یاد کرے اب یہ ضروری تو نہیں

ثاقب سراج نگری — مئی 16، 2016 7:58 صبح
وہ مجھے یاد کرے اب یہ ضروری تو نہیں
باغ دل میں کھلے گل پھر یہ ضروری تو نہیں
رنج جاناں کے شراروں سے جلے جب تن من
اشکوں سے آگ بجھاؤں یہ ضروری تو نہیں
راہ الفت کے مسافر کو اندھیری شب میں
کہکشاں راہ دکھائے یہ ضروری تو نہیں
شام غم بیت ہی جائے گی چراغوں کے بنا
خون سے دیپ جلاؤں یہ ضروری تو نہیں
جیت کا جشن منانا تو سنبھل کر ثاقب
تم ہی جیتو گے ہمیشہ یہ ضروری تو نہیں۔
محمد ریحان قریشی — مئی 16، 2016 8:23 صبح
جناب قوافی تو ہیں ہی نہیں۔
ثاقب سراج نگری — مئی 17، 2016 6:43 شام
وہ مجھے بھول نہ پائے یہ ضروری تو نہیں
ساز غم وہ بھی بجائے یہ ضروری تو نہیں
شعلئہ ہجر سے جب جب جلے اس کا تن من
اشکوں سے آگ بجھائے یہ ضروری تو نہیں
راہ الفت کے مسافر کو اندھیری شب میں
کہکشاں راہ دکھائے یہ ضروری تو نہیں
شام غم بیت ہی جائے گی چراغوں کے بنا
دیپ وہ خوں سے جلائے یہ ضروری تو نہیں
جیت کا جشن منانا تو سنبھل کر ثاقب
تم کو کوئی نہ ہرائے یہ ضروری تو نہیں۔
ثاقب سراج نگری — مئی 17، 2016 6:44 شام
جناب قوافی تو ہیں ہی نہیں۔
بہت بہت شکریہ جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%DB%81-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%8C%D8%A7%D8%AF-%DA%A9%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D8%A8-%DB%8C%DB%81-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.89922/