مہدی نقوی حجاز — اپریل 2، 2015 11:59 صبح
غزل
وہ پیار پیار میں کیا کیا خرید لاتا ہے
جو چاند دے کے ستارہ خرید لاتا ہے
تمام عمر کماتا ہے آبرو عاشق
اور اس کو دے کے تماشا خرید لاتا ہے
وہ اپنے لال کو بھوکا سلا نہیں سکتا
سو باپ جا کے نوالہ خرید لاتا ہے
وہ بیچنے کو نکلتا ہے اپنے اشک مگر
وہ جب بھی جاتا ہے لاشہ خرید لاتا ہے
حجازؔ مہدی
فاروق احمد بھٹی — اپریل 5، 2015 5:16 شام
بہت خوب جناب کیا کہنے
فاتح — اپریل 5، 2015 5:31 شام
ہمارا ناتواں دماغ اس شاہکار کے رموز و اسرار پانے سے قاصر ہے
مہدی نقوی حجاز — اپریل 6، 2015 7:38 صبح
مہدی نقوی حجاز — اپریل 6، 2015 7:38 صبح
ہمارا ناتواں دماغ اس شاہکار کے رموز و اسرار پانے سے قاصر ہے
یہ کسی کیفیت کی غزل ہے، اپنے ناتواں دماغ پر ایسا زور نہ ڈالیے

loneliness4ever — اپریل 6، 2015 7:46 صبح
محترم مہدی نقوی حجاز بھائی ۔۔۔۔۔ بھئی بہت خوب
غزل
تمام عمر کماتا ہے آبرو عاشق
اور اس کو دے کے تماشا خرید لاتا ہے
حجازؔ مہدی
کیا کہنے ہیں جی ۔۔۔ ڈھیروں داد قبول فرمائیں
مہدی نقوی حجاز — اپریل 6، 2015 8:35 صبح
محترم مہدی نقوی حجاز بھائی ۔۔۔۔۔ بھئی بہت خوب
کیا کہنے ہیں جی ۔۔۔ ڈھیروں داد قبول فرمائیں
بہت شکریہ

نذر حسین ناز — اپریل 7، 2015 9:57 صبح
واہ ۔ بہت سی داد۔ عمدہ غزل ہے۔
مہدی نقوی حجاز — اپریل 7، 2015 10:40 صبح
واہ ۔ بہت سی داد۔ عمدہ غزل ہے۔
بہت شکریہ
عمر سیف — اپریل 7، 2015 7:12 شام
بہت خوب
زبیر مرزا — اپریل 7، 2015 10:14 شام
واہ میاں بہت خُوب
مہدی نقوی حجاز — اپریل 10، 2015 9:12 صبح