غزل ِ درویش

فاروق درویش — ستمبر 25، 2011 7:04 شام
حُسن کا اِنتخاب قاتل ھے
عشق کا اِضطراب قاتل ھے
زندگی میں شباب قتل کرے
آخرت کا عذاب قاتل ھے
جان لیوا ہے ہر ادا جس کی
موت وہ بے نقاب قاتل ھے
لکھ دیا ہم نے حال فرقت کا
اُن کا چُپ سا جواب قاتل ھے
مارا یوسف کو خود نمائی نے
اور زلیخا کا خواب قاتل ھے
مارا مجنوں کو شوق ِ لیلیٰ نے
دشت ِ غم کا سراب قاتل ھے
مفلسی بِک رہی ہے بے پردہ
بھوک اِک بے حجاب قاتل ھے
ننگِ ملت ہیں قوم کے رھبر
ننگِ دیں ھر نواب قاتل ھے
جو دیا زھر عاشقی نے دیا
عشق خانہ خراب قاتل ھے
پیاسی بنجر زمیں ہے کربل سی
ھائے دریا بے آب قاتل ھے
صبح مسجد میں رات مندر میں
شاہ کا اِنقلاب قاتل ھے
شہر ڈوبے ہیں خونِ ناحق میں
ڈھونڈتا کیا ثواب قاتل ھے
خوف ھے روز ِ حشر کا طاری
فکر ِ روز ِ حساب قاتل ھے
شہد سے شیریں ھیں میری باتیں
میرا طرز ِ خطاب قاتل ھے
شہر ِ درویش ظلمتوں کا نگر
میرا عالی جناب قاتل ھے
فاروق بٹ درویش
محمد وارث — ستمبر 26، 2011 6:50 صبح
انتہائی خوبصورت غزل ہے فاروق صاحب اور اردو محفل میں خوش آمدید۔
شمشاد — ستمبر 26، 2011 6:59 صبح
فاروق صاحب اردو محفل میں خوش آمدید
اپنا تعارف تو دیں۔
الف عین — ستمبر 27، 2011 8:11 صبح
اچھی غزل ہے، اردو محفل میں خوش آمدید۔
فاروق درویش — اکتوبر 2، 2011 6:37 صبح
محترم و مکرمی شمشاد صاحب بندہ ء فقیر فاروق رشید بٹ لاھور سے ھے ستائیس برس بینکنگ کے پیشے سے منسلک رھا 2008 مین حبیب بینک سے گولڈن ھینڈ شیک لیا اورآج کل صحافت کے پیشے سے منسلک ھے اورتیس سال سے ادب سیکھنے، آمریت کے ٹارچر سیلز کے مزے لوٹتا ھوا اب آپ کے قدموں میں آن پہنچا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://www.facebook.com/darwaish786
https://www.facebook.com/fbdarwaish
https://www.facebook.com/groups/157661354323024
www.farooqdarwaish.com
والسلام

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%90-%D8%AF%D8%B1%D9%88%DB%8C%D8%B4.34709/