غزل: پرندے کو ٹھکانہ چاہیے ہے!

مہدی نقوی حجاز — فروری 27، 2014 2:06 شام
غزل
(کامی شاہ صاحب کی نذر)
پرندے کو ٹھکانہ چاہیے ہے
کہیں دل کو لگانا چاہیے ہے
تو اپنے آپ سے ڈرتا ہے بےجا
تجھے تو کھل کے آنا چاہیے ہے
نظامِ خورد رب نے کر دیا ہے
ہمیں پینا پلانا چاہیے ہے
حسینوں پر لٹانے کے لیےتو
محبت کا خزانہ چاہیے ہے
یہ میں نے جتنا ان دیکھا ہے دیکھا
یہ دنیا کو دکھانا چاہیے ہے
میں کامیؔ شاہ کا ہمدم ہوں صاحب
مجھے اوپر بٹھانا چاہیے ہے
حجازؔ آپ اتنے اچھے ناخدا ہیں
سو یہ بیڑا اٹھانا چاہیے ہے
مہدی نقوی حجازؔ
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 27، 2014 2:49 شام
زبردست۔۔۔۔
محمد علم اللہ — فروری 27، 2014 3:06 شام
خوب۔۔۔۔
یہ کامی صاحب کون ہیں حضور؟
ذراتعارف بھی کرا دیتے
مہدی نقوی حجاز — فروری 27، 2014 5:08 شام
محبت! :)
مہدی نقوی حجاز — فروری 27، 2014 5:24 شام
خوب۔۔۔ ۔
یہ کامی صاحب کون ہیں حضور؟
ذراتعارف بھی کرا دیتے
سید کامی شاہ صاحب، اکیسویں صدی کے بہترین نوجوان شاعر ہیں۔ انکی کتاب "تجھ بن ذات ادھوری ہے" کے دو ایڈیشنز آ چکے ہیں، اور اب ان کی غزلیات کا مجموعہ "قدیم" راہ میں ہے۔
محمد علم اللہ — فروری 27، 2014 6:38 شام
دوستانہ:)
نایاب — فروری 27، 2014 7:03 شام
خوب ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
الف عین — فروری 28، 2014 2:29 صبح
بہت اچھے۔۔ لیکن اگر ہے کی بجائے ردیف ’تھا‘ ہوتی تو مزید بہتر ہوتی
مہدی نقوی حجاز — فروری 28، 2014 2:35 صبح
خوب ہے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بہت دعائیں
آداب
مہدی نقوی حجاز — فروری 28، 2014 2:36 صبح
بہت اچھے۔۔ لیکن اگر ہے کی بجائے ردیف ’تھا‘ ہوتی تو مزید بہتر ہوتی
جناب، یہ وہی استادانہ بات ہے جو محض استاد کی زبان سے نکلتی ہے۔ بہت مناسب تجویز ہے۔ ردیف "تھا" کر لیتے ہیں!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%92-%DA%A9%D9%88-%D9%B9%DA%BE%DA%A9%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%86%D8%A7%DB%81%DB%8C%DB%92-%DB%81%DB%92.72456/