غزل: پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر

محمداحمد — مارچ 19، 2022 7:53 صبح
غزل

پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر
پھر نیا اک آدمی تیار کر
یہ غُرور و فخر ہے کِس بات کا
عاجزی کو طُرہٴ دستار کر
سہل انگاری کہاں تک، اُٹھ ذرا
زندگی کو اور مت دشوار کر
خوش امیدی کو بنا بانگِ جرس
آرزو کو قافلہ سالار کر
روشنی کے رنگ کا پرچم بنا
عزم کو اس کا علم بردار کر
اب تلک جو ہو چکا، سو ہو چکا
سیکھ جینا زیست کو ہموار کر
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
دیکھ صورت کو مِری، آنکھوں میں جھانک
کچھ تو دل داری مرے دل دار کر
ہوں سبک سر میں، سبک رفتار زیست
کچھ توقف اے کہانی کار کر
کیوں ہے احمد تو پریشاں، بات سن
بیٹھ اک گوشے میں، استغفار کر
محمد احمدؔ
محمد عبدالرؤوف — مارچ 19، 2022 8:03 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔۔ کیا ہی خوب غزل ہے۔۔
سب ہی شعر خوب ہیں لیکن
سہل انگاری کہاں تک، اُٹھ ذرا
زندگی کو اور مت دشوار کر

اب تلک جو ہو چکا، سو ہو چکا
سیکھ جینا زیست کو ہموار کر
ان دو اشعار کی کیا ہی بات ہے۔
بہت سی داد حاضر ہے احمد بھائی
محمداحمد — مارچ 19، 2022 10:18 صبح
واہ واہ واہ۔۔۔۔ کیا ہی خوب غزل ہے۔۔
سب ہی شعر خوب ہیں لیکن
ان دو اشعار کی کیا ہی بات ہے۔
بہت سی داد حاضر ہے احمد بھائی

بہت شکریہ عبدالرؤوف بھائی!
حوصلہ افزائی کے لئے بے حد ممنون ہوں۔ :)
زوجہ اظہر — مارچ 19، 2022 12:20 شام
غزل
پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر
پھر نیا اک آدمی تیار کر
یہ غُرور و فخر ہے کِس بات کا
عاجزی کو طُرہٴ دستار کر
سہل انگاری کہاں تک، اُٹھ ذرا
زندگی کو اور مت دشوار کر
خوش امیدی کو بنا بانگِ جرس
آرزو کو قافلہ سالار کر
روشنی کے رنگ کا پرچم بنا
عزم کو اس کا علم بردار کر
اب تلک جو ہو چکا، سو ہو چکا
سیکھ جینا زیست کو ہموار کر
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
دیکھ صورت کو مِری، آنکھوں میں جھانک
کچھ تو دل داری مرے دل دار کر
ہوں سبک سر میں، سبک رفتار زیست
کچھ توقف اے کہانی کار کر
کیوں ہے احمد تو پریشاں، بات سن
بیٹھ اک گوشے میں، استغفار کر
محمد احمدؔ
خوب بہت خوب، جناب
ایس ایس ساگر — مارچ 19، 2022 1:19 شام
خوبصورت خیالات سے مزین اشعار ہیں سب۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے محمداحمد بھائی۔
سلامت رہیں۔ آمین۔
صابرہ امین — مارچ 19، 2022 5:14 شام
پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر
پھر نیا اک آدمی تیار کر
مطلع سے مقطع تک خوبصورت اشعار سے سجی ایک پر لطف غزل ۔ ۔
الف عین — مارچ 20، 2022 3:33 صبح
اچھی غزل ہے مگر جانے کیوں مجھے محمداحمد کے رنگ کی نہیں لگ رہی ہے!
سید عاطف علی — مارچ 20، 2022 5:25 صبح
عاجزی کو طُرہٴ دستار کر
اچھی غزل ہے مگر جانے کیوں مجھے @محمداحمد کے رنگ کی نہیں لگ رہی ہے!
لگتا ہے کہ دستار باندھ کر کہی ہے ۔
اچھی غزل ہے ۔
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:15 صبح

بہت شکریہ! حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:16 صبح
خوبصورت خیالات سے مزین اشعار ہیں سب۔ ماشاءاللہ۔
داد قبول کیجیے @محمداحمد بھائی۔
بہت شکریہ ساگر بھیا!
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
جزاک اللہ !
شاد آباد رہیے۔ :)
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:17 صبح
مطلع سے مقطع تک خوبصورت اشعار سے سجی ایک پر لطف غزل ۔ ۔

بہت بہت شکریہ !
حوصلہ افزائی کے لئے ممنون ہوں۔
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:39 صبح
اچھی غزل ہے مگر جانے کیوں مجھے محمداحمد کے رنگ کی نہیں لگ رہی ہے!
بہت شکریہ استادِ محترم!
شاید یہ غزل کہتے ہوئے کیفیت کچھ مختلف رہی ہوگی۔ :)
محمداحمد — مارچ 21، 2022 11:40 صبح
لگتا ہے کہ دستار باندھ کر کہی ہے ۔
:) :) :)

شکریہ عاطف بھائی!
سیما علی — مارچ 21، 2022 12:14 شام
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
بہت خوب بہت خوب 🌟🌟🌟🌟🌟
یہ غُرور و فخر ہے کِس بات کا
عاجزی کو طُرہٴ دستار کر
بہترین بہترین
کیا کہنے 🌷🌷🌷🌷🌷
کیوں ہے احمد تو پریشاں، بات سن
بیٹھ اک گوشے میں، استغفار کر
ماشاء اللہ
بہت اعلیٰ
محمداحمد — مارچ 22، 2022 5:25 صبح
بہت خوب بہت خوب 🌟🌟🌟🌟🌟
بہترین بہترین
کیا کہنے 🌷🌷🌷🌷🌷
ماشاء اللہ
بہت اعلیٰ
بے حد شکریہ!
حوصلہ افزائی کے لئے بہت ممنون ہوں۔ :)
خورشیداحمدخورشید — مارچ 22، 2022 10:53 صبح
ساری غزل بہت خُوب ہے!
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
کیا کہنے!
ایک تجویز ہے سر
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
اے خُدا مجھ کو عصا بردار کر​
محمداحمد — اپریل 2، 2022 8:24 صبح
ساری غزل بہت خُوب ہے!
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
کیا کہنے!
بہت شکریہ !
ایک تجویز ہے سر
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
اے خُدا مجھ کو عصا بردار کر​
آپ کی تجویز اچھی ہے۔
خوش رہیے!
خورشیداحمدخورشید — اپریل 4، 2022 2:07 شام
بہت شکریہ !
آپ کی تجویز اچھی ہے۔
خوش رہیے!
شکریہ!
عرفان علوی — اپریل 10، 2022 8:45 شام
غزل
پہلے اپنے آپ کو مِسمار کر
پھر نیا اک آدمی تیار کر
یہ غُرور و فخر ہے کِس بات کا
عاجزی کو طُرہٴ دستار کر
سہل انگاری کہاں تک، اُٹھ ذرا
زندگی کو اور مت دشوار کر
خوش امیدی کو بنا بانگِ جرس
آرزو کو قافلہ سالار کر
روشنی کے رنگ کا پرچم بنا
عزم کو اس کا علم بردار کر
اب تلک جو ہو چکا، سو ہو چکا
سیکھ جینا زیست کو ہموار کر
کچھ فریبی اژدہوں کا خوف ہے
تو ذرا مجھ کو عصا بردار کر
دیکھ صورت کو مِری، آنکھوں میں جھانک
کچھ تو دل داری مرے دل دار کر
ہوں سبک سر میں، سبک رفتار زیست
کچھ توقف اے کہانی کار کر
کیوں ہے احمد تو پریشاں، بات سن
بیٹھ اک گوشے میں، استغفار کر
محمد احمدؔ
اَحْمَد صاحب ، عمدہ غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
محمداحمد — اپریل 14، 2022 6:33 شام
اَحْمَد صاحب ، عمدہ غزل ہے . داد قبول فرمائیے .
بہت شکریہ محترم!
ممنون ہوں۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%A7%D9%BE%D9%86%DB%92-%D8%A2%D9%BE-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%90%D8%B3%D9%85%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1.118260/