غزل: پیار کرنا تمھیں سکھا دیتے

سید اِجلاؔل حسین — جون 22، 2013 11:39 صبح
غزل
پیار کرنا تمھیں سکھا دیتے
ظلمتوں میں دیے جلا دیتے
آشیاں اک نیا بنا دیتے
اور تم سے اُسے سجا دیتے
خودفریبی میں گر نہ رہتے تم
کیا سے کیا ہم تمھیں بنا دیتے
اپنی فطرت سے ہو گئے مجبور
ورنہ شیشہ تمھیں دکھا دیتے
ہم لٹے لوگ اب کدھر جائیں
لوٹ آتے جو تم صدا دیتے
آج دل کے تمام افسانے
آپ سنتے تو ہم سنا دیتے
(سیّد اِجلؔال حسین)
الف عین
محمد خلیل الرحمٰن
مزمل شیخ بسمل
محمد اسامہ سَرسَری
محمد اسامہ سَرسَری — جون 22، 2013 12:15 شام
واہ واہ! ماشاءاللہ بہت خوب غزل کہی!
محمد خلیل الرحمٰن — جون 22، 2013 12:28 شام
بہت پیاری غزل ہے جناب۔ بہت داد قبول ہو۔
الف عین — جون 23، 2013 6:06 صبح
واہ، اچھی غزل ہے
سید اِجلاؔل حسین — جون 23، 2013 8:22 صبح
واہ واہ! ماشاءاللہ بہت خوب غزل کہی!
بہت پیاری غزل ہے جناب۔ بہت داد قبول ہو۔

داد ملتے ہی خامُشی سے ہم
اشک دو چار ہیں بہا دیتے
غزل پسند فرمانے پر آپ سب حضرات کا تہِ دل سے ممنون ہوں۔
اللہ سلامت رکھے!

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%BE%DB%8C%D8%A7%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-%D8%AA%D9%85%DA%BE%DB%8C%DA%BA-%D8%B3%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%DB%92.65100/