غزل : چراغ جان کے یونہی جلا لیا گیا تھا

اشرف نقوی — اپریل 12، 2015 6:20 شام
چراغ جان کے یونہی جلا لیا گیا تھا
ہمیں بھی طاق کی زینت بنا لیا گیا تھا
تمہارے لمس سے محظوظ کس طرح ہوتے
کہ ہم کو خواب سے باہر بلا لیا گیا تھا

اِسی لیے تو ابھی تک میں نامکمل ہوں
ادُھورا چاک سے مجھ کو اُٹھا لیا گیا تھا
اُتر ہی جاتے کسی ساحلِ مراد پہ ہم
ہمیں ہوا کے بھنور میں پھنسا لیا گیا تھا
تھے صرف ہم ہی جو رکھتے تھے دل بھی ، دُنیا بھی
سو آگ پانی کو باہم ملا لیا گیا تھا
ابھی تلک ہیں اُسی کے اثر میں ہم اشرف
جو نغمہ وصل کا خلوت میں گا لیا گیا تھا
اشرف نقوی
اشرف نقوی — اپریل 12، 2015 6:28 شام
مطلع اِس طرح پڑھا جائے : چراغ جان کے یونہی جلا لیا گیا تھا
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 12، 2015 7:24 شام
مطلع اِس طرح پڑھا جائے : چراغ جان کے یونہی جلا لیا گیا تھا
تدوین کردی ہے
الف عین — اپریل 13، 2015 6:56 صبح
واہ بہت خوب
’سمت‘ کے لئے بھی بھیجیں
ادب دوست — اپریل 17، 2015 4:22 شام
آپ سے گزارش ہے کہ تعارف والے زمرے میں اپنا تعارف بھی پیش کیجئے تاکہ ہم آپ کو محفل میں باقاعدہخوش آمدید کہہ سکیں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%86%D8%B1%D8%A7%D8%BA-%D8%AC%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%92-%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C-%D8%AC%D9%84%D8%A7-%D9%84%DB%8C%D8%A7-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%AA%DA%BE%D8%A7.81312/