غزل : چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا

محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 2، 2012 7:14 صبح
غزل​
از : محمد حفیظ الرحمٰن​
چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا​
بستیوں میں کر رہی ہے اپنی من مانی ہوا​
یاد کی پھولوں بھری سوغات مجھ کو دے گئی​
وہ ٹھٹھرتی کانپتی ہنستی زمستانی ہوا​
کل اچانک اس گلی سے پھر ہوا میرا گزر​
اجنبی تھے لوگ لیکن جانی پہچانی ہوا​
توڑ کر یوں سارے بندھن چل دیا اے دل کہاں​
ساتھ تجھ کو لے چلی کیا آج مستانی ہوا​
آندھیوں نے وقت کی کیا خواب کجلائے حفیظ​
لٹ گیئں سب بستیاں تھی ایسی شیطانی ہوا​
اسد قریشی — اکتوبر 4، 2012 7:44 صبح
کل اچانک اس گلی سے پھر ہوا میرا گزر
اجنبی تھے لوگ لیکن جانی پہچانی ہوا
واہ بہت خوب!
فاتح — اکتوبر 4، 2012 7:48 صبح
واہ کیا کہنے
الف عین — اکتوبر 5، 2012 3:22 صبح
واہ، کیا اچھی غزل ہے۔ مبارک ہو حفیظ۔ محض ایک مشورہ۔ اگر اس شعر کو یوں کر دیا جائے تو۔
آندھیوں نے وقت کی کیا خواب کجلائے حفیظ​
لٹ گیئں سب بستیاں تھی ایسی شیطانی ہوا​
مزید بہتر اور واضح ہو سکتا ہے:
وقت کی​
آندھی نے کیسے​
خواب کجلائے حفیظ​
لٹ گیئں سب بستیاں تھی ایسی شیطانی ہوا​
اسامہ جمشید — اکتوبر 5، 2012 7:42 صبح
بهت عمده ۔ داد قبول كريں؎
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2012 10:44 صبح
اسد قریشی صاحب غزل کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2012 10:46 صبح
فاتح صاحب غزل آپ کو پسند آئی بڑی خوشی ہوئی۔ بہت شکریہ
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2012 10:50 صبح
استاد محترم الف عین صاحب۔ سر غزل مجھے بڑی خوشی ہے کہ غزل آپ کو پسند آئی۔ مصرع میں اصلاح سے واقعی مفہوم زیادہ واضح ہو گیا ہے۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — اکتوبر 9، 2012 10:52 صبح
جمشید صاحب داد کے لئے بہت شکریہ قبول کیجئے۔ بڑی بوازش۔
Zahida Raees Raji — دسمبر 9، 2012 5:07 صبح
غزل​
از : محمد حفیظ الرحمٰن​
چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا​
بستیوں میں کر رہی ہے اپنی من مانی ہوا​
یاد کی پھولوں بھری سوغات مجھ کو دے گئی​
وہ ٹھٹھرتی کانپتی ہنستی زمستانی ہوا​
کل اچانک اس گلی سے پھر ہوا میرا گزر​
اجنبی تھے لوگ لیکن جانی پہچانی ہوا​
توڑ کر یوں سارے بندھن چل دیا اے دل کہاں​
ساتھ تجھ کو لے چلی کیا آج مستانی ہوا​
آندھیوں نے وقت کی کیا خواب کجلائے حفیظ​
لٹ گیئں سب بستیاں تھی ایسی شیطانی ہوا​

کیا بات ہے سر۔ بہت ہی خوبصورت اور دل کو چھو لینی والی غزل کہی ہے آپ نے۔ داد قبول کیجیئے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 12، 2012 5:46 صبح
زاہدہ ریئس راجی صاحبہ۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے ازحد ممنون ہوں۔ حوصلہ افزائی کے لئے بہت بہت شکریہ۔
پپو — دسمبر 12، 2012 5:56 صبح
چل رہی ہے ہر طرف یہ کیسی انجانی ہوا
بستیوں میں کر رہی ہے اپنی من مانی ہوا
احسن مرزا — دسمبر 13، 2012 4:46 شام
واااہ جناب۔ بہت عمدہ۔ ڈھیروں ڈھیر داد حاضر ہے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 14، 2012 7:33 صبح
احسن مرزا صاحب۔ غزل کی پسندیدگی پر بہت مشکورہوں۔بڑی نوازش۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%86%D9%84-%D8%B1%DB%81%DB%8C-%DB%81%DB%92-%DB%81%D8%B1-%D8%B7%D8%B1%D9%81-%DB%8C%DB%81-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%86%DB%8C-%DB%81%D9%88%D8%A7.54988/