غزل: کوچہ کوچہ نگر نگر دیکھا!

Sarwar A. Raz — دسمبر 28، 2005 5:18 صبح
یاران بزم: آداب
خواجہ میر “درد“ کاایک مشہور شعر ہے:
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
اس زمین میں خادم نے بھی طبع آزمائی کی ہے جو پیش کر رہا ہوں۔ دیکھئے کہ کسی قابل ہے کہ نہیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوچہ کوچہ نگر نگر دیکھا
خود میں دیکھا اسے اگر دیکھا
قصہ زیست مختصر دیکھا
جیسے اک خواب رات بھر دیکھا
در ہی دیکھا نہ تو نے گھر دیکھا
زندگی! تجھ کو خوب کر دیکھا!
کوئی حسرت رہی نہ اس کے بعد
اُس کو حسرت سے اک نظر دیکھا
ہم کو دیر و حرم سے کیا نسبت؟
اُس کو دل میں ہی جلوہ گر دیکھا
درد میں، رنج و غم میں ، حرماں میں
آپ کو خوب دربدر دیکھا
حال دل اپنا دیدنی کب تھا؟
دیکھتے کیسے، ہاں مگر دیکھا!
سچ کہو بزم شعر میں کوئی
تم نے “سرور“ سا بے ہنر دیکھا؟
========================= سرور عالم راز “سرور“
الف نظامی — دسمبر 28، 2005 6:37 شام
بہت خوب۔
نبیل — دسمبر 29، 2005 8:23 شام
محترم سرور عالم راز صاھب۔ آپ کا بے حد مشکور ہوں کہ آپ نے ایک مرتبہ پھر اتنی خوبصورت غزل پوسٹ کی اور اس ادبی محفل کو عزت بخشی۔ میرا اتنا علم نہیں کہ آپ کے طرز اسلوب کا تفصیلی جائزہ لے سکوں لیکن امید کرتا ہوں کہ میرے دوسرے صاحب ذوق دوست آپ کی غزل پر اپنا تبصرہ ارسال کریں گے۔
فرخ — فروری 3، 2006 3:35 شام
واہ، واہ۔۔۔
بہت خوب۔۔۔ :)
فرذوق احمد — مارچ 4، 2006 1:08 شام
السلام علیکم
بہت اچھی غزل ہیں آپ کی
مریم افتخار — جولائی 7، 2018 9:12 صبح
ہم کو دیر و حرم سے کیا نسبت؟
اُس کو دل میں ہی جلوہ گر دیکھا
واہ واہ!
محمد عدنان اکبری نقیبی — جولائی 7، 2018 9:13 صبح
کوئی حسرت رہی نہ اس کے بعد
اُس کو حسرت سے اک نظر دیکھا
کیا بات ہے زبردست ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81-%DA%A9%D9%88%DA%86%DB%81-%D9%86%DA%AF%D8%B1-%D9%86%DA%AF%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D8%A7.782/