غزل: کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے

عرفان علوی — مارچ 17، 2024 4:22 شام
احباب گرامی ، سلام عرض ہے . آپ سب کوماہ رمضان کی مبارکباد ! محترم ظہیراحمدظہیر بھائی کے حکم کی تعمیل میں ایک غزل پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
غزل
کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے
زنداں سے بےگناہ نکالے نہیں گئے
رکّھا تھا راہِ حق میں کبھی ہم نے اک قدم
مدّت ہوئی ہے، پاؤں کے چھالے نہیں گئے
ہَم کو نہیں اذیتِ دوراں کا ڈر کوئی
ہَم عیش کی فضاؤں میں پالے نہیں گئے
ٹکسال ایک بھی نہ ملیگی جہان میں
سکّے جہاں پہ خون سے ڈھالے نہیں گئے
دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
شاید ہوں اب بھی مسجد و بتخانہ منتظر
ہرچند خود کو پوجنے والے نہیں گئے
آئی ہیں اس کے بعد بھی صبحیں کئی مگر
پلکوں سے اک سحر كے اجالے نہیں گئے
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
نکلے تھے بےبسی میں وسیلے جو ہاتھ سے
عابدؔ کبھی وہ دِل سے نکالے نہیں گئے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
الف عین — مارچ 19، 2024 9:12 شام
واہ، اچھی غزل ہے بطور خاص
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
عرفان علوی — مارچ 21، 2024 12:55 صبح
واہ، اچھی غزل ہے بطور خاص
محترم اعجازصاحب، پذیرائی اور ہمّت افزائی کے لئے بیحد ممنون ہوں . بہت شکریہ! جزاک الله .
ایس ایس ساگر — مارچ 21، 2024 12:39 شام
کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے
زنداں سے بےگناہ نکالے نہیں گئے
رکّھا تھا راہِ حق میں کبھی ہم نے اک قدم
مدّت ہوئی ہے، پاؤں کے چھالے نہیں گئے
ہَم کو نہیں اذیتِ دوراں کا ڈر کوئی
ہَم عیش کی فضاؤں میں پالے نہیں گئے
ٹکسال ایک بھی نہ ملیگی جہان میں
سکّے جہاں پہ خون سے ڈھالے نہیں گئے
دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
شاید ہوں اب بھی مسجد و بتخانہ منتظر
ہرچند خود کو پوجنے والے نہیں گئے
آئی ہیں اس کے بعد بھی صبحیں کئی مگر
پلکوں سے اک سحر كے اجالے نہیں گئے
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
نکلے تھے بےبسی میں وسیلے جو ہاتھ سے
عابدؔ کبھی وہ دِل سے نکالے نہیں گئے
بہت خوب عرفان علوی بھائی۔
لاجواب۔ عمدہ غزل ہے۔
اللہ سلامت رکھے آپ کو۔ آمین۔
عرفان علوی — مارچ 23، 2024 3:20 شام
بہت خوب عرفان علوی بھائی۔
لاجواب۔ عمدہ غزل ہے۔
اللہ سلامت رکھے آپ کو۔ آمین۔
ساگر صاحب ، بہت نوازش! جزاک الله .
صابرہ امین — مارچ 24، 2024 12:21 صبح
خوبصورت غزل۔ داد قبول کیجیے۔
دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
واہ، بہت خوب!
عرفان علوی — مارچ 24، 2024 2:52 صبح
خوبصورت غزل۔ داد قبول کیجیے۔
دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
واہ، بہت خوب!
صابرہ بہن، نگاہ کرم اور داد کے لئے بےحد احسان مند ہوں . جزاک الله .
سید عاطف علی — مارچ 24، 2024 6:46 صبح
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
واہ واہ واہ علوی صاحب ، خوب غزل ہے ۔ہمیشہ کی طرح ۔ شاد آباد ۔
عرفان علوی — مارچ 24، 2024 4:44 شام
واہ واہ واہ علوی صاحب ، خوب غزل ہے ۔ہمیشہ کی طرح ۔ شاد آباد ۔
عاطف بھائی ، آپ کے گراں قدر تعریفی کلمات میرے لئے بےحد مسرّت کا باعث ہیں . جزاک الله .
ظہیراحمدظہیر — اپریل 15، 2024 12:37 صبح
احباب گرامی ، سلام عرض ہے . آپ سب کوماہ رمضان کی مبارکباد ! محترم ظہیراحمدظہیر بھائی کے حکم کی تعمیل میں ایک غزل پیش ہے . ملاحظہ فرمائیے اور اپنی رائے سے نوازیے .
غزل
کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے
زنداں سے بےگناہ نکالے نہیں گئے
رکّھا تھا راہِ حق میں کبھی ہم نے اک قدم
مدّت ہوئی ہے، پاؤں کے چھالے نہیں گئے
ہَم کو نہیں اذیتِ دوراں کا ڈر کوئی
ہَم عیش کی فضاؤں میں پالے نہیں گئے
ٹکسال ایک بھی نہ ملیگی جہان میں
سکّے جہاں پہ خون سے ڈھالے نہیں گئے
دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
شاید ہوں اب بھی مسجد و بتخانہ منتظر
ہرچند خود کو پوجنے والے نہیں گئے
آئی ہیں اس کے بعد بھی صبحیں کئی مگر
پلکوں سے اک سحر كے اجالے نہیں گئے
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
نکلے تھے بےبسی میں وسیلے جو ہاتھ سے
عابدؔ کبھی وہ دِل سے نکالے نہیں گئے
نیازمند ،
عرفان عابدؔ
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی ۔ داد قبول فرمائیے!
محمد شکیل خورشید — اپریل 19، 2024 1:18 شام
ماشا اللہ عرفان علوی بھائی داد قبول فرمایئے، نہایت ہی اعلیٰ کلام
محمد عدنان اکبری نقیبی — اپریل 19، 2024 1:22 شام
لاجواب بہترین کلام
یہ شعر تو بہت عمدہ ہے
ہَم کیا کسی کی آنکھ کو دینگے حَسِین خواب
ہَم سے تو اپنے خواب سنبھالے نہیں گئے
عرفان علوی — اپریل 20، 2024 4:53 شام
بہت خوب! اچھے اشعار ہیں ، عرفان بھائی ۔ داد قبول فرمائیے!
ظہیر بھائی ، آپ کی داد سر آنکھوں پر . بہت نوازش !
عرفان علوی — اپریل 20، 2024 4:54 شام
ماشا اللہ عرفان علوی بھائی داد قبول فرمایئے، نہایت ہی اعلیٰ کلام
شکیل بھائی ، عنایت کے لئے بےحد ممنون ہوں . بہت شکریہ !
عرفان علوی — اپریل 20، 2024 4:57 شام
لاجواب بہترین کلام
یہ شعر تو بہت عمدہ ہے
عدنان بھائی ، ذرّہ نوازی کے لئے احسان مند ہوں . بہت شکریہ !
محمداحمد — مئی 18، 2024 7:26 شام
کِس کِس بِنا پہ فیصلے ٹالے نہیں گئے
زنداں سے بےگناہ نکالے نہیں گئے

رکّھا تھا راہِ حق میں کبھی ہم نے اک قدم
مدّت ہوئی ہے، پاؤں کے چھالے نہیں گئے

ہَم کو نہیں اذیتِ دوراں کا ڈر کوئی
ہَم عیش کی فضاؤں میں پالے نہیں گئے

دنیا میں بھوک سے بھی تو مارے گئے ہیں لوگ
نیزوں پہ سر اگرچہ اچھالے نہیں گئے
واہ واہ!
بہت خوب عرفان بھائی! بہت اچھے اشعار ہیں۔ داد قبول فرمائیے۔
عرفان علوی — مئی 23، 2024 3:23 صبح
واہ واہ!
بہت خوب عرفان بھائی! بہت اچھے اشعار ہیں۔ داد قبول فرمائیے۔
محمّد احمد بھائی , بہت نوازش . جزاک الله .
جاسمن — اگست 1، 2024 12:30 شام
واہ واہ! بہت خوب! عمدہ اشعار ہیں۔
عرفان علوی — اگست 3، 2024 4:07 صبح
واہ واہ! بہت خوب! عمدہ اشعار ہیں۔
جاسمن بہن ، نوازش کے لئے ممنون ہوں . بہت شکریہ ! جزاک الله .

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%D9%90%D8%B3-%DA%A9%D9%90%D8%B3-%D8%A8%D9%90%D9%86%D8%A7-%D9%BE%DB%81-%D9%81%DB%8C%D8%B5%D9%84%DB%92-%D9%B9%D8%A7%D9%84%DB%92-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%D8%A6%DB%92.120530/