غزل: کچھ سفر زندگی کا باقی ہے

محمد شکیل خورشید — فروری 3، 2022 6:13 صبح
داغ دل کی لگی کا باقی ہے
درد اک بے کلی کا باقی ہے
ہوگئے ختم یوں تو سارے مرض
روگ دیوانگی کا باقی ہے
باقی رستے سبھی تمام ہوئے
پھیر اک اُس گلی کا باقی ہے
نسلِ نو کو نوید ہو کہ ابھی
قرض پچھلی صدی کا باقی ہے
اور باقی نہیں ہے کوئی کمال
اک ہنر بندگی کا باقی ہے
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
آؤ رستے نئے تلاش کریں
کچھ سفر زندگی کا باقی ہے
آنکھ پتھرا گئی شکیل مگر
اک تاثر نمی کا باقی ہے
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
محمد عبدالرؤوف — فروری 3، 2022 6:21 صبح
بہت خوب شکیل بھائی!
کیا ہی اچھے شعر ہیں، ماشاءاللہ
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
بہت خوب۔۔ واہ واہ
الف عین — فروری 4، 2022 4:56 صبح
واہ شکیل میاں، اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، اصلاح کی ضرورت نہیں میرے خیال میں
سیما علی — فروری 4، 2022 5:03 صبح
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
کیا کہنے شکیل صاحب
خامشی کا شور بے جھنکار دار ہوتا بس سننے کی طلب شرط ہے ۔۔۔۔۔
بہت ڈھیر ساری داد و تحسن
سلامتی ہو آپ پر !!!!!
محمد شکیل خورشید — فروری 4، 2022 5:13 صبح
بہت خوب شکیل بھائی!
کیا ہی اچھے شعر ہیں، ماشاءاللہ
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
بہت خوب۔۔ واہ واہ
پسندیدگی کا شکریہ
محمد شکیل خورشید — فروری 4، 2022 5:14 صبح
واہ شکیل میاں، اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، اصلاح کی ضرورت نہیں میرے خیال میں
شکریہ استادِ محترم
بس آپ کی جانب سے صاد ہو جائے تو تسلی ہوجاتی ہے
محمد شکیل خورشید — فروری 4، 2022 5:15 صبح
کیا کہنے شکیل صاحب
خامشی کا شور بے جھنکار دار ہوتا بس سننے کی طلب شرط ہے ۔۔۔۔۔
بہت ڈھیر ساری داد و تحسن
سلامتی ہو آپ پر !!!!!
جزاک اللہ، پسندیدگی کا شکریہ، اس سے حوصلہ بڑھتا ہے
سیما علی — فروری 4، 2022 8:01 صبح
جززاک اللہ، پسندیدگی کا شکریہ، اس سے حوصلہ بڑھتا ہے
جیتے رہیے خوش رہیے 😊😊😊😊😊
علی وقار — فروری 4، 2022 10:34 صبح
عمدہ کلام ہے شکیل بھائی۔
محمد شکیل خورشید — فروری 4، 2022 10:37 صبح
عمدہ کلام ہے شکیل بھائی۔
پسندیدگی کا شکریہ بھائی
Wajih Bukhari — فروری 4، 2022 12:42 شام
واہ
عرفان علوی — فروری 6، 2022 5:11 صبح
داغ دل کی لگی کا باقی ہے
درد اک بے کلی کا باقی ہے
ہوگئے ختم یوں تو سارے مرض
روگ دیوانگی کا باقی ہے
باقی رستے سبھی تمام ہوئے
پھیر اک اُس گلی کا باقی ہے
نسلِ نو کو نوید ہو کہ ابھی
قرض پچھلی صدی کا باقی ہے
اور باقی نہیں ہے کوئی کمال
اک ہنر بندگی کا باقی ہے
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
آؤ رستے نئے تلاش کریں
کچھ سفر زندگی کا باقی ہے
آنکھ پتھرا گئی شکیل مگر
اک تاثر نمی کا باقی ہے
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
عمدہ غزل ہے ، شکیل بھائی ! داد حاضر ہے .
محمد شکیل خورشید — فروری 6، 2022 8:14 شام
عمدہ غزل ہے ، شکیل بھائی ! داد حاضر ہے .
عزت افزائی کا شکریہ، محترم
صابرہ امین — فروری 6، 2022 11:54 شام
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
خوبصورت اشعار سے مزين غزل۔ ما شا اللہ۔ ڈھيروں داد۔
محمد شکیل خورشید — فروری 7، 2022 6:18 صبح
خوبصورت اشعار سے مزين غزل۔ ما شا اللہ۔ ڈھيروں داد۔
عزت افزائی کا شکریہ بہن، جزاک اللہ
محمداحمد — فروری 26، 2022 1:18 شام
بہت خوب!
کیا کہنے!
ایک سے ایک عمدہ اشعار ہیں۔
ہوگئے ختم یوں تو سارے مرض
روگ دیوانگی کا باقی ہے

باقی رستے سبھی تمام ہوئے
پھیر اک اُس گلی کا باقی ہے

اور باقی نہیں ہے کوئی کمال
اک ہنر بندگی کا باقی ہے

ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے

آؤ رستے نئے تلاش کریں
کچھ سفر زندگی کا باقی ہے

آنکھ پتھرا گئی شکیل مگر
اک تاثر نمی کا باقی ہے

ڈھیروں داد!
ایس ایس ساگر — فروری 26، 2022 2:29 شام
داغ دل کی لگی کا باقی ہے
درد اک بے کلی کا باقی ہے
ہوگئے ختم یوں تو سارے مرض
روگ دیوانگی کا باقی ہے
باقی رستے سبھی تمام ہوئے
پھیر اک اُس گلی کا باقی ہے
نسلِ نو کو نوید ہو کہ ابھی
قرض پچھلی صدی کا باقی ہے
اور باقی نہیں ہے کوئی کمال
اک ہنر بندگی کا باقی ہے
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
آؤ رستے نئے تلاش کریں
کچھ سفر زندگی کا باقی ہے
آنکھ پتھرا گئی شکیل مگر
اک تاثر نمی کا باقی ہے
واہ۔ بہت خوب۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے سر۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین۔
مقبول — فروری 26، 2022 11:09 شام
داغ دل کی لگی کا باقی ہے
درد اک بے کلی کا باقی ہے
ہوگئے ختم یوں تو سارے مرض
روگ دیوانگی کا باقی ہے
باقی رستے سبھی تمام ہوئے
پھیر اک اُس گلی کا باقی ہے
نسلِ نو کو نوید ہو کہ ابھی
قرض پچھلی صدی کا باقی ہے
اور باقی نہیں ہے کوئی کمال
اک ہنر بندگی کا باقی ہے
گرچہ روندی گئی کلاہِ فقیر
جاہ اس کی کجی کا باقی ہے
ہو گئیں گم تمام آوازیں
شور اک خامشی کا باقی ہے
آؤ رستے نئے تلاش کریں
کچھ سفر زندگی کا باقی ہے
آنکھ پتھرا گئی شکیل مگر
اک تاثر نمی کا باقی ہے
محترم الف عین
محترم محمد خلیل الرحمٰن
اور دیگر اساتذہ و احباب کی نذر
بہت خوبصورت کلام ۔ بہت داد
محمد شکیل خورشید — فروری 27، 2022 9:28 شام
بہت خوب!
کیا کہنے!
ایک سے ایک عمدہ اشعار ہیں۔
ڈھیروں داد!
عزت افزائی کا شکریہ محترم
محمد شکیل خورشید — فروری 27، 2022 9:29 شام
واہ۔ بہت خوب۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے سر۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔آمین۔
شکریہ محترم
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DA%86%DA%BE-%D8%B3%D9%81%D8%B1-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%DA%A9%D8%A7-%D8%A8%D8%A7%D9%82%DB%8C-%DB%81%DB%92.118063/