غزل: کیا کریں تن کو لباسوں میں چھپانے والے

عرفان علوی — اپریل 10، 2022 8:57 شام
احباب گرامی، سلام عرض ہے!
انڈیا میں اکثریت کا انتہا پسند طبقہ آج کل مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کر رہا ہے . اِس سلسلے میں حال ہی میں ایک کڑی اور جڑی جب مسلمان بچّیوں کو اسکولوں میں حجاب پہننے سے روکا جانے لگا . اِس کا ایک مقصد تو مذہبی نفرت بھڑکانا ہے، لیکن اصل میں یہ لوگ مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کر كے ان کا مستقبل تاریک کر دینا چاہتے ہیں . اِس صورت حال پر ذہن سے ایک شعر برآمد ہوا جس سے پِھر ایک غزل کی ترغیب ملی . اِس تمام غزل میں ان ہی شر پسند عناصر كے کارناموں کا ذکر ہے . لیکن اگر آپ غزل کو اِس پس منظر كے بغیر بھی دیکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ اشعار آپ تک پہنچ جائینگے انشاء اللہ . وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے برّ صغیر میں ہم سب کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے . بس ا سٹیج، کردار اور اداکار بَدَل جاتے ہیں . بہر حال غزل ملاحظہ فرمائیے .
کیا کریں تن کو لباسوں میں چھپانے والے
نوچ لیتے ہیں ردا سَر سے زمانے والے
ذاتِ نسواں کی ترقی کا اٹھاتے ہیں سوال
شبِ تاریک میں بیٹی کو جلانے والے!
تاج ایمان ہے اور تخت دھرم ہے جن کا
آج بن بیٹھے ہیں مذہب کو بچانے والے
لکھ كے سو جھوٹ وہ اک سچ کو بَدَل سکتے ہیں
جن كے قبضے میں ہوں اخبار چلانے والے
اور جو بھی ہوں، چمن ساز نہیں ہو سکتے
صحنِ گلشن سے گل و برگ چرانے والے
کیا مٹائینگے کسی کو یہ، مگر ممکن ہے
خود ہی مٹ جا ئیں محبت کو مٹانے والے
ایک اک ذرّے سے پھوٹےگی کرن سورج کی
یاد رکّھیں یہ چراغوں کو بجھانے والے
ان سے لازم ہے کہ محتاط رہیں اہلِ وطن
ماہرِ مکر ہیں یہ خواب دکھانے والے
خود ہی لڑنا ہے مصائب سے تجھے اے عابدؔ
تیری قسمت کے ستارے نہیں آنے والے
نیازمند،
عرفان عابدؔ
الف عین — اپریل 11، 2022 6:27 صبح
اچھی غزل ہے
صریر — اپریل 11، 2022 7:15 شام
بہت خوب کہا عرفان علوی صاحب!👍
عرفان علوی — اپریل 14، 2022 3:39 صبح
محترم اعجاز صاحب ، حوصلہ افزائی كے لیے بے حد ممنون ہوں .
عرفان علوی — اپریل 14، 2022 3:40 صبح
صریر صاحب ، بہت نوازش !
خورشیداحمدخورشید — اپریل 14، 2022 7:27 صبح
اگر آپ غزل کو اِس پس منظر كے بغیر بھی دیکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ اشعار آپ تک پہنچ جائینگے
بالکل درست فرمایا سر آپ نے!
اشعار واقعی زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہیں۔
بہت خوب سر!
ایس ایس ساگر — اپریل 14، 2022 11:42 صبح
واہ۔ خوبصورت اشعار۔ عمدہ غزل۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے عرفان علوی بھائی۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
محمداحمد — اپریل 14، 2022 6:37 شام
بہت خوب عمدہ غزل ہے عرفان بھائی!
لکھ كے سو جھوٹ وہ اک سچ کو بَدَل سکتے ہیں
جن كے قبضے میں ہوں اخبار چلانے والے

اور جو بھی ہوں، چمن ساز نہیں ہو سکتے
صحنِ گلشن سے گل و برگ چرانے والے

ایک اک ذرّے سے پھوٹےگی کرن سورج کی
یاد رکّھیں یہ چراغوں کو بجھانے والے
کیا کہنے!
بہت داد
عرفان علوی — اپریل 16، 2022 6:24 شام
بالکل درست فرمایا سر آپ نے!
اشعار واقعی زمان و مکاں کی قید سے آزاد ہیں۔
بہت خوب سر!
خورشید صاحب ، ذرہ نوازی كے لیے احسان مند ہوں . شکریہ !
عرفان علوی — اپریل 16، 2022 6:26 شام
واہ۔ خوبصورت اشعار۔ عمدہ غزل۔
ڈھیروں داد قبول کیجیے عرفان علوی بھائی۔
اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین۔
ساگر صاحب ، عنایت ، جناب ! بہت شکریہ !
عرفان علوی — اپریل 16، 2022 6:27 شام
بہت خوب عمدہ غزل ہے عرفان بھائی!
کیا کہنے!
بہت داد
اَحْمَد صاحب ، نظر عنایت اور پذیرائی کا بہت شکریہ !
یاسر شاہ — اپریل 17، 2022 1:03 شام
کیا مٹائینگے کسی کو یہ، مگر ممکن ہے
خود ہی مٹ جا ئیں محبت کو مٹانے والے
ایک اک ذرّے سے پھوٹےگی کرن سورج کی
یاد رکّھیں یہ چراغوں کو بجھانے والے
ان سے لازم ہے کہ محتاط رہیں اہلِ وطن
ماہرِ مکر ہیں یہ خواب دکھانے والے
خود ہی لڑنا ہے مصائب سے تجھے اے عابدؔ
تیری قسمت کے ستارے نہیں آنے والے
واہ علوی صاحب -بہت خوب
عرفان علوی — اپریل 19، 2022 2:44 صبح
واہ علوی صاحب -بہت خوب
یاسر صاحب ، کرم فرمائی كے لیے ممنون ہوں .
عبدالصمدچیمہ — اپریل 19، 2022 4:03 صبح
احباب گرامی، سلام عرض ہے!
انڈیا میں اکثریت کا انتہا پسند طبقہ آج کل مسلمانوں کو طرح طرح سے پریشان کر رہا ہے . اِس سلسلے میں حال ہی میں ایک کڑی اور جڑی جب مسلمان بچّیوں کو اسکولوں میں حجاب پہننے سے روکا جانے لگا . اِس کا ایک مقصد تو مذہبی نفرت بھڑکانا ہے، لیکن اصل میں یہ لوگ مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کر كے ان کا مستقبل تاریک کر دینا چاہتے ہیں . اِس صورت حال پر ذہن سے ایک شعر برآمد ہوا جس سے پِھر ایک غزل کی ترغیب ملی . اِس تمام غزل میں ان ہی شر پسند عناصر كے کارناموں کا ذکر ہے . لیکن اگر آپ غزل کو اِس پس منظر كے بغیر بھی دیکھیں گے تو مجھے امید ہے کہ اشعار آپ تک پہنچ جائینگے انشاء اللہ . وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے برّ صغیر میں ہم سب کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے . بس ا سٹیج، کردار اور اداکار بَدَل جاتے ہیں . بہر حال غزل ملاحظہ فرمائیے .
کیا کریں تن کو لباسوں میں چھپانے والے
نوچ لیتے ہیں ردا سَر سے زمانے والے
ذاتِ نسواں کی ترقی کا اٹھاتے ہیں سوال
شبِ تاریک میں بیٹی کو جلانے والے!
تاج ایمان ہے اور تخت دھرم ہے جن کا
آج بن بیٹھے ہیں مذہب کو بچانے والے
لکھ كے سو جھوٹ وہ اک سچ کو بَدَل سکتے ہیں
جن كے قبضے میں ہوں اخبار چلانے والے
اور جو بھی ہوں، چمن ساز نہیں ہو سکتے
صحنِ گلشن سے گل و برگ چرانے والے
کیا مٹائینگے کسی کو یہ، مگر ممکن ہے
خود ہی مٹ جا ئیں محبت کو مٹانے والے
ایک اک ذرّے سے پھوٹےگی کرن سورج کی
یاد رکّھیں یہ چراغوں کو بجھانے والے
ان سے لازم ہے کہ محتاط رہیں اہلِ وطن
ماہرِ مکر ہیں یہ خواب دکھانے والے
خود ہی لڑنا ہے مصائب سے تجھے اے عابدؔ
تیری قسمت کے ستارے نہیں آنے والے
نیازمند،
عرفان عابدؔ
واہ واہ واہ۔ بہت خوب۔
عرفان علوی — اپریل 22، 2022 4:28 صبح
واہ واہ واہ۔ بہت خوب۔
عبدالصمد صاحب ، ستائش کا بہت بہت شکریہ !
محمد شکیل خورشید — مئی 6، 2022 7:56 شام
بہت اعلیٰ عرفان صاحب، بہت ہی فکر انگیز کلام
عرفان علوی — مئی 7، 2022 4:21 شام
بہت اعلیٰ عرفان صاحب، بہت ہی فکر انگیز کلام
شکیل صاحب ، نوازش كے لیے ممنون ہوں . شکریہ !

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DA%A9%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%D9%86-%DA%A9%D9%88-%D9%84%D8%A8%D8%A7%D8%B3%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%86%DA%BE%D9%BE%D8%A7%D9%86%DB%92-%D9%88%D8%A7%D9%84%DB%92.118356/