غزل: ہم شکوہءدامان وگریباں نہ کریں گے : از: محمد حفیظ الرحمٰن

محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 17، 2012 10:49 صبح
غزل
از : محمد حفیظ الرحمٰن
ہم شکوہء دامان و گریباں نہ کریں گے
دعواےء محبت بھی مری جاں نہ کریں گے
ویرانیء دل راس نہ آئے تو ہمیں کیا
اس دل کو مگر سروِ چراغاں نہ کریں گے
خم خانہء محبوب سے پیتے ہی رہیں گے
یوں میکدہء دل کبھی ویراں نہ کریں گے
رکھیں گے بھرم اپنی محبت کا کچھ ایسے
جذبات کو خلوت میں بھی عریاں نہ کریں گے
آجائے ترے بن ہمیں جینے کا قرینہ
اس بات کا ہرگز کوئی ساماں نہ کریں گے
بخشی ہے محبت نے جو یہ درد کی دولت
اس درد کا ہرگز کوئی درماں نہ کریں گے
بے مہرئی حالات رہے اپنی جگہ پر
ہم ترک کبھی چوکھٹِ جاناں نہ کریں گے
الف عین — دسمبر 17، 2012 4:06 شام
بہت خوب حفیظ۔
بس ایک خامی کی طرف اشارہ کر دوں۔
چوکھٹِ جاناں کی ترکیب غلط ہے۔ یہاں اضافت نہیں لگ سکتی، چوکھٹ ہندی النسل لفظ ہے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 18، 2012 7:21 صبح
استادِمحترم جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر تصحیح کے لئے بےحد ممنون ہوں۔ کیا یہ مصرع اس طرح ہع سکتاہے؟
ہم ترک کبھی بھی درِجاناںنہ کریں گے
الف عین — دسمبر 18، 2012 9:33 صبح
استادِمحترم جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر تصحیح کے لئے بےحد ممنون ہوں۔ کیا یہ مصرع اس طرح ہع سکتاہے؟
ہم ترک کبھی بھی درِجاناںنہ کریں گے
درست تو ہے، لیکن رواں نہیں۔ کچھ اور سوچو۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 19، 2012 5:56 صبح
محترم جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر میں نے کچھ سوچ بچار کے بعد شعر میں کافی ردوبدل کر دیا ہے۔ ترمیم و اضافہ کے بعد شعر کی شکل کچھ یوں نکلی ہے۔
ہر چند گوارہ نہیں بے مہرئی حالات
شکوہ کبھی اے گردشِ دوراں نہ کریں گے
براےٰ مہربانی اس شعر کے بارے میں مشورہ دیجیے کہ کیا سابقہ شعر کو اس شعر سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
الف عین — دسمبر 19، 2012 1:16 شام
محترم جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر میں نے کچھ سوچ بچار کے بعد شعر میں کافی ردوبدل کر دیا ہے۔ ترمیم و اضافہ کے بعد شعر کی شکل کچھ یوں نکلی ہے۔
ہر چند گوارہ نہیں بے مہرئی حالات
شکوہ کبھی اے گردشِ دوراں نہ کریں گے
براےٰ مہربانی اس شعر کے بارے میں مشورہ دیجیے کہ کیا سابقہ شعر کو اس شعر سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
شعر تو درست ہے، کوئی سقم نہیں، خیال بھی اچھا ہے، البتہ درِ جاناں یا دہلیزِ جاناں والی بات نہیں ہے۔ وہ خیال کچھ اس سے بہتر تھا، لیکن اگر الفاظ نہ ملیں تو یہ بھی درست تو ہے ہی۔
محمد خلیل الرحمٰن — دسمبر 21، 2012 1:38 صبح
ہم شکوہء دامان و گریباں نہ کریں گے
دعواےء محبت بھی مری جاں نہ کریں گے
ویرانیء دل راس نہ آئے تو ہمیں کیا
اس دل کو مگر سروِ چراغاں نہ کریں گے
خم خانہء محبوب سے پیتے ہی رہیں گے
یوں میکدہء دل کبھی ویراں نہ کریں گے
بہت خوب۔ محمد حفیظ الرحمٰن بہت ساری داد قبول کیجیے۔ بہت عمدہ غزل ہے
متلاشی — دسمبر 21، 2012 6:36 صبح
رکھیں گے بھرم اپنی محبت کا کچھ ایسے
جذبات کو خلوت میں بھی عریاں نہ کریں گے
بہت خوب ۔۔۔۔!
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 21، 2012 9:40 صبح
استادِ محترم جناب اعجاز عبید صاحب۔ سر بہت بہت شکریہ۔ میں اور کوشش کروں گا۔ اگر کچھ اور اس سے بہتر نہ بن سکا تو اسی کو استعمال کر لوں گا۔ بہت شکریہ۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 21، 2012 9:43 صبح
جناب خلیل صاحب۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ۔ بڑی نوازش۔
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 21، 2012 9:44 صبح
جناب متلاشی صاحب۔ غزل کی پسندیدگی کے لئے بہت بہت شکریہ۔ بہت نوازش۔
احسن مرزا — دسمبر 27، 2012 10:27 صبح
بہت عمدہ محترم!
محمد حفیظ الرحمٰن — دسمبر 28، 2012 6:09 صبح
بھائی احسن مرزا- غزل آپ کو پسند آئی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ داد کے لئے بہت بہت شکریہ۔
امجد علی راجا — جنوری 7، 2013 11:50 صبح
محترم محمد حفیظ الرحمن صاحب
ماشاء اللہ، بہت لطیف غزل ارشاد فرمائی ہے۔
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 8، 2013 5:57 صبح
جناب امجد علی راجا صاحب۔ ٍغزل کی پسندیدگی پر بےحد مشکور ہوں۔ بڑی نوازش۔
امر شہزاد — جنوری 12، 2013 8:03 شام
آجائے ترے بن ہمیں جینے کا قرینہ
اس بات کا ہرگز کوئی ساماں نہ کریں گے
لا جواب
محمد حفیظ الرحمٰن — جنوری 16، 2013 6:24 صبح
جناب امر شہزاد صاحب۔ حوصلہ افزایئ کے لئے بےحد مشکور ہوں۔ بڑی نوازش جناب۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%81%D9%85-%D8%B4%DA%A9%D9%88%DB%81%D8%A1%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%86-%D9%88%DA%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A8%D8%A7%DA%BA-%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B1%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DB%92-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D9%81%DB%8C%D8%B8-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.57458/