غزل: ہوں چمن میں مگر قرار نہیں

نامعلوم اول — فروری 11، 2013 8:06 شام
ہوں چمن میں مگر قرار نہیں
تابِ خوش خانیِ ہزار نہیں​
ایک ضد ہے کہ وہ مجھے مل جائے
ورنہ اتنا بھی اس سے پیار نہیں​
ہجر میں تیرے بے قرار ہے دل
لیکن اتنا بھی بے قرار نہیں​
چشم کو دید کی طلب کیا ہو
دل ہی جب محوِ انتظار نہیں​
قطعہ​
میں تنزّل پہ شوق کے خوش ہوں
کاہشِ غم پہ شرمسار نہیں​
کل کیا دل نے ترکِ نالۂِ شب
آج آنکھیں بھی اشکبار نہیں​
اے عجب دشت کے مکینوں کو
غم ہے گلشن میں کیوں بہار نہیں​
اُس کی آمد کا سن کے خوش کیوں ہوں
جس کے وعدے پہ اعتبار نہیں​
عشق ہے پر جنوں نہیں کاملؔ
آرزو ہے پر انتظار نہیں​
مجیب — فروری 21، 2013 7:42 صبح
اُس کی آمد کا سن کے خوش کیوں ہوں
جس کے وعدے پہ اعتبار نہیں

بہت خوبصورت انداز !
ویسے تو پورا کلام ہی شاہکار ہے مگر یہ شعر خاص طور پر پسند آیا
مہ جبین — مارچ 7، 2013 4:04 صبح
اُس کی آمد کا سن کے خوش کیوں ہوں
جس کے وعدے پہ اعتبار نہیں
واہ خوب ہے
شیزان — مارچ 7، 2013 4:56 صبح
میں تنزّل پہ شوق کے خوش ہوں
کاہشِ غم پہ شرمسار نہیں
کل کیا دل نے ترکِ نالۂِ شب
آج آنکھیں بھی اشکبار نہیں
بہت عمدہ کاشف جی۔۔
عثمان شوکت — نومبر 8، 2018 7:31 شام
اُس کی آمد کا سن کے خوش کیوں ہوں
جس کے وعدے پہ اعتبار نہیں
کمال بہت عمدہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%81%D9%88%DA%BA-%DA%86%D9%85%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DA%AF%D8%B1-%D9%82%D8%B1%D8%A7%D8%B1-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.59780/