غزل : یونہی بے ساختہ دیکھو کہ شعوری صاحب

اشرف نقوی — اپریل 16، 2015 2:35 شام
یونہی بے ساختہ دیکھو کہ شعوری صاحب
زندہ رہنے کو ہیں کچھ خواب ضروری صاحب
میں تو خود نکلا تھا جنت سے ، بہانہ کر کے
مجھ کو بھاتی ہی نہ تھی خاک سے دوری صاحب
میں کھلونا ہوں ، پرانا بھی ، بہت نازک بھی
میری میعاد تو کب کی ہوئی پوری صاحب
روشنی دے گی کسی روز ستارہ بن کر
غور سے دیکھو ، مِری مٹی ہے نوری صاحب
یہ مِرا عشق ہے ، مجنوں کا فسانہ تو نہیں
کیسے چھوڑوں یہ کہانی میں ادُھوری صاحب
اشرف نقوی​
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 16، 2015 2:43 شام
میں تو خود نکلا تھا جنت سے ، بہانہ کر کے
مجھ کو بھاتی ہی نہ تھی خاک سے دوری صاحب
یہ مِرا عشق ہے ، مجنوں کا فسانہ تو نہیں
کیسے چھوڑوں یہ کہانی میں ادُھوری صاحب
واہ وا! کیا بات ہے
نذر حسین ناز — اپریل 17، 2015 4:13 صبح
عمدہ ۔ جناب ۔ عمدہ ۔ واہ واہ واہ ۔
الف عین — اپریل 17، 2015 12:14 شام
واہ ماشاء اللہ
ندیم مراد — اپریل 19، 2015 9:09 شام

کیا غزل خوب کہی آپ نے پوری صاحب
شاعر اچھے ہیں بہت آپ بھی نقوی صاحب
:congrats:

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%8C%D9%88%D9%86%DB%81%DB%8C-%D8%A8%DB%92-%D8%B3%D8%A7%D8%AE%D8%AA%DB%81-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%88-%DA%A9%DB%81-%D8%B4%D8%B9%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8.81385/