غزل یکم جنوری 2019 کو لکھی

Wajih Bukhari — جنوری 1، 2019 7:46 صبح
کاش رہ جائے مری راکھ سلگنے کے لئے
عمر تھوڑی ہے ترے عشق میں جلنے کے لئے
دل مرا چُھو لے تبسم سے کہ تیّار ہے اب
تیشۂِ حُسن سے یہ سنگ ترشنے کے لئے
چُن رہا ہے تری آنکھوں سے ستاروں کو فلک
کہکشاؤں کی حسیں مانگ میں بھرنے کے لئے
مئے لالہ میں شرابور مچلتا ہے سخن
قطرہ قطرہ ترے ہونٹوں سے ٹپکنے کے لئے
نازک اندام گلابوں سے زِیادہ تُو ہے
پنکھڑی جسم کو کافی ہے کسکنے کے لئے!
اٹھ گئے ہیں کئی طوفان تری آہٹ سے
موج اٹھتی ہے سفینوں کو پلٹنے کے لئے
اس لئے پاس ترے دل مجھے لے آیا ہے
زندگی دل کو ہے مطلوب دھڑکنے کے لئے
چند گھڑیوں کے لئے تھام لے ہاتھوں میں مجھے
دلِ مضطر کو محبت سے تھپکنے کے لئے
داستاں رخ پہ ترے حسن کی ایسی ہے رقم
خون صدیوں کا جلا تھا جسے لکھنے کے لئے
یہ جھپکنا ترا پلکوں کو قیامت ہے مجھے
مر کے اک بار اٹھا پھر تجھے تکنے کے لئے
ایک چھوٹی سی گزارش ہے تری زلفوں سے
ابر چھائے دلِ تشنہ پہ برسنے کے لئے
-۔-- ۔۔-- ۔۔-- ۔۔-
الف عین — جنوری 9، 2019 9:45 صبح
واہ اچھی غزل ہے بس ذرا قوافی گڑبر ہیں
Wajih Bukhari — جنوری 9، 2019 10:54 صبح
واہ اچھی غزل ہے بس ذرا قوافی گڑبر ہیں
جناب وضاحت فرمائیے۔
فلسفی — جنوری 9، 2019 11:02 صبح
جناب وضاحت فرمائیے۔
مطلع میں اصل لفظ "سلگ" اور "جل" ہے جس کو "سلگنے" اور "جلنے" بنایا گیا ہے۔ "سلگ" اور "جل" ہم قافیہ الفاظ نہیں۔
میرے ناقص علم کے مطابق ایک مشورہ ہے کہ مطلع کچھ ایسا کہیں جس میں اصل لفظ "زمانے"، "فسانے" وغیرہ کم از کم ایک مصرعے میں ضرور ہو تو باقی غزل درست قرار پائے گی۔
Wajih Bukhari — جنوری 9، 2019 11:10 صبح
مہربانی آپ نے مری کاوش کو پڑھا۔ میں نے سہ حرفی قافیہ باندھا تھا جس کا پہلا حرف ساکن ہو اور الف، واو ،یہ وغیرہ نہ ہو۔ آخری دو حرف 'نے' ہوں۔ جیسے سلگنے، جلنے، لکھنے۔
Wajih Bukhari — جنوری 9، 2019 1:24 شام
ابھی ابھی میری ایک نامور شاعر سے اس موضوع پر بات ہوئی۔ انہوں کے کہا کہ اس غزل کے قافیوں میں "نے" سے پہلے جو حرف آتا ہے وہ ساکن ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حرف کی حرکت یا سکون بھی قافیہ ہو سکتا ہے۔
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس مرض کی دوا کیا ہے
۔۔۔ ماجرا کیا ہے
اس غزل کے قافیے میں الف سے پہلے کے حروف مختلف ہیں اور قافیہ ان کی حرکت یعنی زبر ہے۔
اس غزل کا قافیہ ایطا کے زمرے میں اس لئے نہیں آتا کیونکہ 'نے' لفظ کا حصہ ہے نہ کہ ایک مرکبی لفظ۔
آپ احباب تعلیم دیجئے کہ درست بات کیا ہے۔
الف عین — جنوری 10، 2019 4:42 صبح
کچھ لوگ قبول کر لیتے ہیں اس قسم کے قوافی کو، لیکن درست تو یہی ہے کہ چچا غالب کی مذکورہ غزل میں بھی ایطا ہے۔
محمداحمد — مارچ 16، 2019 1:47 شام
بہت خوب!
اچھی غزل ہے جناب!
یاسر شاہ — مارچ 16، 2019 2:40 شام
بھائی معذرت -آپ کی اس سال کی پہلی غزل کا قافیہ ٹھیک نہیں -
فارسی میں ایک فی البدیہہ تک بندی کی ہے، آپ کی غزل کو دیکھ کر:
چہ چیز است آورد ، چہ چیز است آمد
غزل غزل نباشد، چوں قافیہ ندارد
وارث بھائی رہنمائی فرمائیے کہ فارسی ٹھیک ہے ؟
محمد وارث

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%8C%DA%A9%D9%85-%D8%AC%D9%86%D9%88%D8%B1%DB%8C-2019-%DA%A9%D9%88-%D9%84%DA%A9%DA%BE%DB%8C.104904/