غزل : یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے !

رامش عثمانی — نومبر 19، 2016 12:21 شام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مانا حادثہ ایسا نہیں ہے
مگر دل سہہ گیا، ایسا نہیں ہے
وہ پہلا زخم تو جاں لے نہ پایا
مگر یہ دوسرا ایسا نہیں ہے
خدا نے ہی ہماری قسمتوں میں
بچھڑنا لکھ دیا ، ایسا نہیں ہے
محبت میں کڑی مشکل ہے لیکن
یہ سارا راستہ ایسا نہیں ہے
ہم اتنی دور ہیں یہ فاصلہ تو
ہمارے بیچ کا ایسا نہیں ہے
جو تم سنتے رہے ہو مدتوں سے
حقیقت میں ہوا ایسا نہیں ہے
تمہیں جیسا دکھایا جارہا ہے
میرا شہرِ وفا ایسا نہیں ہے
ہمیشہ سے میری تنہایوں میں
غبارِ ہجر تھا ! ایسا نہیں ہے
منا لو تو میں شاید مان جاؤں
مِرا تم سے گلہ ایسا نہیں ہے
زمیں جنت بنانے آسماں سے
مسیحا آئے گا ؟ ایسا نہیں ہے
پزیرائی ملے سچ کو یہاں پر
مزاج اس دیس کا ایسا نہیں ہے
اگرچہ زندگی بھر ساتھ تھے ہم
مگر وہ ساتھ تھا ؟ ایسا نہیں ہے
خدا کے ماننے والوں نے دل سے
ہمیں جینے دیا ایسا نہیں ہے
ازل سے میں ہوں اس کے منکروں میں
تمہیں کس نے کہا ؟ ایسا نہیں ہے !
ان آنکھوں سے بقید ِ ہوش دیکھوں
تمہیں جاتا ہوا ، ایسا نہیں ہے
(رامش عثمانی)
الف عین — نومبر 20، 2016 4:07 صبح
اچھی غزل ہے۔ پسند آئی
رامش عثمانی — نومبر 21، 2016 2:12 شام
نوازش !
نایاب — نومبر 21، 2016 3:13 شام
بہت خوب غزل
بہت دعائیں
رامش عثمانی — نومبر 23، 2016 5:25 صبح
بہت خوب غزل
بہت دعائیں
بہت نوازش ۔۔شکریہ
رامش عثمانی — نومبر 23، 2016 5:26 صبح
اچھی غزل ہے۔ پسند آئی
آپ سے اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہمارے لئے مہمیز ہے۔ بڑی عنایت
اکمل زیدی — نومبر 23، 2016 6:20 صبح
۔۔بہت اچھے ۔ ۔ ۔
ڈاکٹرعامر شہزاد — نومبر 23، 2016 7:09 صبح
واہ بہت خوب
عاطف ملک — نومبر 23، 2016 11:13 صبح
بہت خوب جناب!
ایک ایک شعر دل پہ نقش ہو گیا.
ڈھیروں داد اور بہت سی دعائیں.
حسن محمود جماعتی — نومبر 24، 2016 6:27 صبح
خوبصورت غزل۔ خوب انداز بیاں۔ زبردست۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%8C%DB%81-%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%AD%D8%A7%D8%AF%D8%AB%DB%81-%D8%A7%DB%8C%D8%B3%D8%A7-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92.93114/