غزل ۔ آسی انصاری منڈیروی

عثمان غنی آسؔی — اگست 20، 2020 4:41 شام
تجھکو چاہے جو وہ سنور جائے
بن ترے زندگی بکھر جائے
زندگی پھر گلاب لگتی ہے
عشق جب روح میں اتر جائے
پائے معراجِ زندگانی وہ
پیار میں جو بھی تیرے مر جائے
اس کے قدموں میں حسن جنت ہو
جوتری راہ سے گزر جائے
وہ جو الفت کی اک نظر ڈالے
میرے بھی دل کازخم بھر جائے
تیرا عاشق ہے جو، زمانے سے
غیر ممکن ہے کہ وہ ڈر جائے
آگ دل میں لگی رہے یوں ہی
درد سے دل مرا نکھر جائے
جان و دل ہوش سب فدا تجھ پر
کاش آسی بھی ایسا کر جائے
محمد خلیل الرحمٰن — اگست 20، 2020 6:31 شام
تیرا عاشق ہے جو، زمانے سے
غیر ممکن ہے کہ وہ ڈر جائے

دوسرے مصرع کو یوں کہہ دیا جائے تو؟
غیر ممکن ہے وہ کہ ڈر جائے
عثمان غنی آسؔی — اگست 22، 2020 6:53 شام
دوسرے مصرع کو یوں کہہ دیا جائے تو؟
غیر ممکن ہے وہ کہ ڈر جائے
جی بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%A2%D8%B3%DB%8C-%D8%A7%D9%86%D8%B5%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D9%86%DA%88%DB%8C%D8%B1%D9%88%DB%8C.112905/