غزل ۔ اک عجب ہی سلسلہ تھا،میں نہ تھا ۔ محمد احمدؔ

محمداحمد — مئی 5، 2015 10:52 صبح
غزل
اک عجب ہی سلسلہ تھا، میں نہ تھا
مجھ میں کوئی رہ رہا تھا ، میں نہ تھا
میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا
آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا
میں تمھارا مسئلہ ہرگز نہ تھا
یہ تمھارا مسئلہ تھا، میں نہ تھا
پھر کُھلا میں دونوں کے مابین ہوں
اِک ذرا سا فاصلہ تھا ، میں نہ تھا
ایک زینے پر قدم جیسے رُکیں
تری رہ کا مرحلہ تھا، میں نہ تھا
وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا، میں نہ تھا
اونچی نیچی راہ محوِ رقص تھی
ڈگمگاتا راستہ تھا ، میں نہ تھا
تم نے جس سے سمت پوچھی دشت میں
وہ کوئی قبلہ نما تھا، میں نہ تھا
یہ کہانی تھی، مگر میری نہ تھی
وہ جو مردِ ماجرا تھا، میں نہ تھا
میں تو اپنی شاخ سے تھا متصل
پات جو وقفِ ہوا تھا، میں نہ تھا
خُود سے مل کر بُجھ گیا تھا میں تو کل
دیپ جو شب بھر جلا تھا، میں نہ تھا
"میں نہ تھا" کہتا تھا جو ہربات پر
وہ تو کوئی دوسرا تھا، میں نہ تھا
میں تو احمدؔ کب سےمحوِ یاس ہوں
کل جو محفل میں ہنسا تھا، میں نہ تھا​

محمد احمدؔ
فاروق احمد بھٹی — مئی 5، 2015 10:56 صبح
خُود سے مل کر بُجھ گیا تھا میں تو کل
دیپ جو شب بھر جلا تھا، میں نہ تھا
بہت خوب احمد بھائی کیا کہنے جناب بہت ساری داد قبول فرمائیے
سید عاطف علی — مئی 5، 2015 11:25 صبح
وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا، میں نہ تھا
واہ احمد بھائی نہت خوب ۔سلامت سلامت۔ماشاءاللہ
محمداحمد — مئی 5، 2015 2:08 شام
بہت خوب احمد بھائی کیا کہنے جناب بہت ساری داد قبول فرمائیے

بہت شکریہ فاروق بھائی !
شاد آباد رہیے۔ :)
محمداحمد — مئی 5، 2015 2:09 شام
وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا، میں نہ تھا
واہ احمد بھائی نہت خوب ۔سلامت سلامت۔ماشاءاللہ

شکریہ عاطف بھائی!
بے حد ممنون ہوں۔ :)
مقدس — مئی 5، 2015 2:36 شام
واہ واہ
پڑهے بغیر ہی :rollingonthefloor:
یہ شاعر پهر زندہ ہو گیا بهائی
آوازِ دوست — مئی 5، 2015 3:30 شام
بہت خوب احمد صاحب عمدہ کاوش ہے۔
الف عین — مئی 5، 2015 3:31 شام
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہے۔
میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا
آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا
کچھ تشنہ محسوس ہو رہا ہے، ’یہ‘ کی غیر موجودگی میں۔
محمد خلیل الرحمٰن — مئی 6، 2015 3:48 صبح
اچھی نئی غزلیں پڑھے زمانہ ہوگیا تھا۔ بہت شکریہ محمداحمد بھائی ۔ ساتھ ہی بہت داد قبول فرمائیے
ہما حمید ناز — مئی 6، 2015 3:58 صبح
بہت خوبصورت اشعار ہیں ۔ واہ ! ایک مابعدالطبیعاتی سی کیفیت ہے ہر شعر میں ۔ کہیں کہیں تصوف کا رنگ بھی !!
مرحوم اطہر نفیس کی مشہور غزل کا ایک شعر بے ساختہ یاد آگیا ۔
صدا آئی " کوئی گھر پر نہیں کیا ؟"
تو میں نے بھی کہا "کوئی نہیں ہے"
محمد وارث — مئی 6، 2015 4:26 صبح
خوب غزل ہے احمد صاحب، لاجواب
محمداحمد — مئی 6، 2015 7:42 صبح
واہ واہ
پڑهے بغیر ہی :rollingonthefloor:
یہ شاعر پهر زندہ ہو گیا بهائی

آپ کو بھی اُسی دن ٹپکنا تھا جب ہم نے اپنی غزل لگائی۔ :)
شاعر مرا نہیں تھا ہائبرنیٹ ہو گیا تھا۔ :)
محمداحمد — مئی 6، 2015 7:43 صبح
بہت خوب احمد صاحب عمدہ کاوش ہے۔

بہت شکریہ محترم !
شاد آباد رہیے۔ :)
محمداحمد — مئی 6، 2015 7:46 صبح
ماشاء اللہ۔ اچھی غزل ہے۔
میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا
آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا
کچھ تشنہ محسوس ہو رہا ہے، ’یہ‘ کی غیر موجودگی میں۔

بہت شکریہ اعجاز عبید صاحب!
'یہ' کی گنجائش نہیں تھی سو ایسے ہی لکھ دیا۔ شاید اس طرح بھی کچھ شعراء کے ہاں دیکھا ہے میں نے۔
x boy — مئی 6، 2015 7:49 صبح
بہت عمدہ
داد قبول کیجئے
میں نہ تھا
شبیر حسین تاب — مئی 6، 2015 8:04 صبح
خوب بهائی !!
استادانہ غزل ہے
عبد الرحمن — مئی 6، 2015 9:00 صبح
شاندارررر!
لاجواب غزل ہے احمد بھائی!
ماشاء اللہ!
(سرگوشی)
:D
محمد حفیظ الرحمٰن — مئی 6، 2015 10:18 صبح
غزل
اک عجب ہی سلسلہ تھا، میں نہ تھا
مجھ میں کوئی رہ رہا تھا ، میں نہ تھا
میں کسی کا عکس ہوں مجھ پر کُھلا
آئینے کا آئینہ تھا ، میں نہ تھا
میں تمھارا مسئلہ ہرگز نہ تھا
یہ تمھارا مسئلہ تھا، میں نہ تھا
پھر کُھلا میں دونوں کے مابین ہوں
اِک ذرا سا فاصلہ تھا ، میں نہ تھا
ایک زینے پر قدم جیسے رُکیں
تری رہ کا مرحلہ تھا، میں نہ تھا
وہ جو اک گم کردہ رہ تھا دشت میں
وہ تو میرا رہنما تھا، میں نہ تھا
اونچی نیچی راہ محوِ رقص تھی
ڈگمگاتا راستہ تھا ، میں نہ تھا
تم نے جس سے سمت پوچھی دشت میں
وہ کوئی قبلہ نما تھا، میں نہ تھا
یہ کہانی تھی، مگر میری نہ تھی
وہ جو مردِ ماجرا تھا، میں نہ تھا
میں تو اپنی شاخ سے تھا متصل
پات جو وقفِ ہوا تھا، میں نہ تھا
خُود سے مل کر بُجھ گیا تھا میں تو کل
دیپ جو شب بھر جلا تھا، میں نہ تھا
"میں نہ تھا" کہتا تھا جو ہربات پر
وہ تو کوئی دوسرا تھا، میں نہ تھا
میں تو احمدؔ کب سےمحوِ یاس ہوں
کل جو محفل میں ہنسا تھا، میں نہ تھا​

محمد احمدؔ
واہ محمد احمد بھائی ۔ کیا خوب غزل ہے ۔بہت ساری داد قبول کیجیے۔
محمداحمد — مئی 6، 2015 12:55 شام
اچھی نئی غزلیں پڑھے زمانہ ہوگیا تھا۔ بہت شکریہ محمداحمد بھائی ۔ ساتھ ہی بہت داد قبول فرمائیے

بہت شکریہ محمد خلیل الرحمٰن بھائی!
آپ کی داد بہت حوصلہ افزا ہے میرے لئے۔ :)
محمداحمد — مئی 6، 2015 1:01 شام
بہت خوبصورت اشعار ہیں ۔ واہ ! ایک مابعدالطبیعاتی سی کیفیت ہے ہر شعر میں ۔ کہیں کہیں تصوف کا رنگ بھی !!
بہت شکریہ ہما صاحبہ۔
بے حد ممنون ہوں۔ :)
مرحوم اطہر نفیس کی مشہور غزل کا ایک شعر بے ساختہ یاد آگیا ۔
صدا آئی " کوئی گھر پر نہیں کیا ؟"
تو میں نے بھی کہا "کوئی نہیں ہے"

واہ واہ واہ!
کیا ہی اچھا شعر ہے۔
سبحان اللہ۔
صفحات: 1 2 3 4

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%A7%DA%A9-%D8%B9%D8%AC%D8%A8-%DB%81%DB%8C-%D8%B3%D9%84%D8%B3%D9%84%DB%81-%D8%AA%DA%BE%D8%A7%D8%8C%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%86%DB%81-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF%D8%94.81757/