غزل ۔ جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا

سید عاطف علی — نومبر 12، 2022 3:43 شام
کچھ اشعار پیش ہیں چند ایک روز سے زیر غور تھے ۔

غزل
جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا
پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا
اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا
دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا
یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا
گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا

-------------------------
سید عاطف علی
12 نومبر-2022
ظہیراحمدظہیر — نومبر 12، 2022 4:10 شام
واہ واہ! بہت خوب، عاطف بھائی! خوبصورت غزل ہے !
میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
چُھوٹے گی کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
واہ! کیا بات ہے ، کیا انداز ہے !
سیما علی — نومبر 12، 2022 4:21 شام
یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا
گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
بہت اعلیٰ
ایک ایک شعر لاجواب ۔
کیا کہنے ؀
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
عرفان علوی — نومبر 12، 2022 5:10 شام
کچھ اشعار پیش ہیں چند ایک روز سے زیر غور تھے ۔

غزل
جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا
پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا
اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا
دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا
یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا
گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا

-------------------------
سید عاطف علی
12 نومبر-2022
بہت خوب ، عاطف صاحب ! عمدہ غزل ہے .
محمد عبدالرؤوف — نومبر 12، 2022 7:45 شام
واہ واہ۔۔۔ بہت خوب، بہت اچھی غزل ہے
سید عاطف علی — نومبر 13، 2022 4:17 صبح
بہت خوب ، عاطف صاحب ! عمدہ غزل ہے .
آداب و شکریہ علوی صاحب ۔ سلامت رہیے۔
سید عاطف علی — نومبر 13، 2022 1:06 شام
واہ واہ! بہت خوب، عاطف بھائی! خوبصورت غزل ہے !
میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
چُھوٹے گی کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
واہ! کیا بات ہے ، کیا انداز ہے !
بہت بہت شکریہ و آداب ۔ ظہیر بھائی آپ کی پذیرائی مجھے خصوصاََ دلشاد کرتی ہے ۔ سلامت رہیے ۔
سید عاطف علی — نومبر 13، 2022 7:00 شام
بہت اعلیٰ
ایک ایک شعر لاجواب ۔
کیا کہنے ؀
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
تھینک یو آپا ۔ آداب و تشکر آپ کے لیے سلامت رہیئے ۔
الف عین — نومبر 14، 2022 3:44 صبح
عمدہ ہے غزل۔واہ!
محمد وارث — نومبر 14، 2022 5:45 صبح
اچھی غزل ہے سید صاحب، بہت خوب۔
محمداحمد — نومبر 14، 2022 10:38 صبح
بہت خوب عاطف بھائی!
اچھے اشعار ہیں۔ ڈھیروں داد قبول کیجے۔
آپ کے دیگر کلام سے کچھ مختلف ہے یہ غزل۔
اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا

گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
بہت خوب!!!
سید عاطف علی — نومبر 14، 2022 2:03 شام
شکریہ اور آداب محمد احمد بھائی ۔
آپ کے دیگر کلام سے کچھ مختلف ہے یہ غزل۔
یہ غزل میں نے در اصل شاہین آفریدی سے لکھوائی ہے ۔
اس لیے ذرا جارحانہ لگ رہی ہے۔ کچھ شعر زخمی بھی لگ رہے ہوں گے۔
سید عاطف علی — نومبر 15، 2022 4:51 صبح
آداب و تشکر اعجاز بھائی ۔سلامت رہیے ۔
سید عاطف علی — نومبر 16، 2022 8:52 صبح
واہ واہ۔۔۔ بہت خوب، بہت اچھی غزل ہے
آداب و تشکر برارد محمد عبدالرؤوف ۔ آباد رکھے مولیٰ آپ کو ۔
سید عاطف علی — اپریل 24، 2024 2:21 شام
اچھی غزل ہے سید صاحب، بہت خوب۔
آداب و تشکر ۔
خدا رحمت کند آن عاشقان پاک طینت را
ایس ایس ساگر — اپریل 24، 2024 7:47 شام
جاگے گی ایک دن مری تقدیر دیکھنا
کام آئے گی تمہاری نہ تدبیر دیکھنا
پہلے تم اس کے دام کی تزویر دیکھنا
پھر کس سے کون ہوتا ہے تسخیر دیکھنا
اک دن مقابلے پہ صف آرا ملوں گا میں
ٹوٹے گی میرے پاؤں کی زنجیر دیکھنا
میرا حریف بن کے مرے سامنے ہے وہ
اب چُھوٹے کس کے ہاتھ سے شمشیر دیکھنا
مزدور جس کے قصر کی بنیاد میں ہوں دفن
چھن جاتی ہے پھر اس کی بھی جاگیر دیکھنا
دارو رسن سدا ہیں انالحق کے ساتھ ساتھ
کیا جرم ، کیا ہے اس کی یہ تعزیر دیکھنا
یوں نام وہ نہ لے گا مرا اپنی بزم میں
اس کی لکھی ہوئی کوئی تحریر دیکھنا
گر اس کی داستاں میں تمہیں کچھ کمی لگے
پھر تم بیاض میں رکھی تصویر دیکھنا
عاطف کا ایک شعر سنانا اسے ذرا
وہ جو کرے کلام کی تفسیر ، دیکھنا
واہ ! کیا بات ہے سید عاطف علی بھائی!
نہایت خوبصورت غزل ہے۔ ماشاءاللہ۔
اللہ آپ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمین۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%AC%D8%A7%DA%AF%DB%92-%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%AF%D9%86-%D9%85%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D9%82%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%AF%DB%8C%DA%A9%DA%BE%D9%86%D8%A7.119007/