غزل ۔ روح کے اندر تھے سناٹے بہت : از نویدظفرکیانی

نویدظفرکیانی — جون 6، 2012 11:58 صبح
روح کے اندر تھے سناٹے بہت
ہم حصارِذات میں گونجے بہت
موج کو کشتی بنا پائے نہیں
وقت کے گرداب سے الجھے بہت
کون سی منزل رہی پیشِ نظر
یہ قدم چلتے رہے الٹے بہت
ساحلِ ہستی کی گیلی ریت پر
زائچے طوفان نے کھینچے بہت
آس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے
ہجر کے کچھ کوس تھے لمبے بہت
درد کا سیلاب اُترا ہی نہیں
ہم مگر ڈوبے بہت ابھرے بہت
اس قدر سفاک تھی بوٹوں کی چاپ
خشک پتے خاک ہو جاتے بہت
دستکیں تھیں جانی پہچانی ہوئی
دل مقفل ہو کے بھی دھڑکے بہت
اپنے ہی قدموں میں آ کر گر پڑے
تھے ہمارے خواب تو اونچے بہت
نویدظفرکیانی
الف عین — جون 6، 2012 2:54 شام
اچھی غزل ہے نوید۔
محمداحمد — جون 6، 2012 3:24 شام
بہت خوب جناب ۔۔۔۔!
اچھی غزل ہے، داد حاضرِ خدمت ہے۔
نایاب — جون 6، 2012 5:16 شام
واہہہہہہہہہ
بہت خوب غزل
روح کے اندر تھے سناٹے بہت
ہم حصارِذات میں گونجے بہت
محمد وارث — جون 7، 2012 4:54 شام
خوب غزل ہے جناب کیانی صاحب
فائزہ رضوی — جون 25، 2012 11:19 صبح
روح کے اندر تھے سناٹے بہت
ہم حصارِذات میں گونجے بہت
موج کو کشتی بنا پائے نہیں
وقت کے گرداب سے الجھے بہت
کون سی منزل رہی پیشِ نظر
یہ قدم چلتے رہے الٹے بہت
ساحلِ ہستی کی گیلی ریت پر
زائچے طوفان نے کھینچے بہت
آس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے
ہجر کے کچھ کوس تھے لمبے بہت
درد کا سیلاب اُترا ہی نہیں
ہم مگر ڈوبے بہت ابھرے بہت
اس قدر سفاک تھی بوٹوں کی چاپ
خشک پتے خاک ہو جاتے بہت
دستکیں تھیں جانی پہچانی ہوئی
دل مقفل ہو کے بھی دھڑکے بہت
اپنے ہی قدموں میں آ کر گر پڑے
تھے ہمارے خواب تو اونچے بہت
نویدظفرکیانی
اچھا ہے

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B1%D9%88%D8%AD-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D8%AA%DA%BE%DB%92-%D8%B3%D9%86%D8%A7%D9%B9%DB%92-%D8%A8%DB%81%D8%AA-%D8%A7%D8%B2-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF%D8%B8%D9%81%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C.51895/