غزل ۔ زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں

ایس فصیح ربانی — مارچ 15، 2012 3:34 شام
زیست میں ہو کوئی ترتیب ضروری تو نہیں
لوگ ہوں تابعِ تہذیب ضروری تو نہیں
مہربانوں نے بلایا ہے محبت سے مگر
راس آ جائے وہ تقریب ضروری تو نہیں
آپ جھٹلائیں مجھے، آپ کا ہے ظرف مگر
میں کروں آپ کی تکذیب، ضروری تو نہیں
دوست بھی تو مری تعمیر سے خائف ہوں گے
ہوں عدو ہی پسِ تخریب، ضروری تو نہیں
مجھ کو بچنا ہے جدائی کے کٹھن لمحوں سے
گارگر ہو مری ترکیب ضروری تو نہیں
آپ ہو جائیں محبت میں وفا پر مائل
رنگ لائے مری ترغیب ضروری تو نہیں
بہتری لائیے کچھ اپنے رویے میں فصیح
بات بے بات ہو تادیب، ضروری تو نہیں

شاہین فصیح ربانی
محمد خلیل الرحمٰن — مارچ 15، 2012 6:37 شام
بہت خوب۔ بہت عمدہ۔ داد قبول فرمائیے جناب
الف عین — مارچ 15، 2012 11:10 شام
اچھی غزل ہے۔ لیکن تمہاری مختصر بحروں کی غزلوں کی طرح متاثر کن نہیں۔
فاتح — مارچ 16، 2012 1:04 صبح
واہ بہت خوب۔ عمدہ غزل ہے۔ سبحان اللہ
ابن سعید — مارچ 16، 2012 1:08 صبح
بہت خوب۔ :)
محمد وارث — مارچ 16، 2012 5:53 صبح
اچھی غزل ہے فصیح صاحب۔
ایس فصیح ربانی — مارچ 31، 2012 6:38 شام
آپ سبھی محترم احباب کی ان پرخلوص اور ہمت افزاء آراء کے لیے بہت شکرگزار ہوں۔
ہمیشہ خوش و خرم رہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B2%DB%8C%D8%B3%D8%AA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88-%DA%A9%D9%88%D8%A6%DB%8C-%D8%AA%D8%B1%D8%AA%DB%8C%D8%A8-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA.50304/