غزل ۔ صلیبیں یوں تو رستوں میں گڑی ہیں: از نوید ظفرکیانی

نویدظفرکیانی — اپریل 11، 2012 7:27 صبح
صلیبیں یوں تو رستوں میں گڑی ہیں
سفر ریکھائیں ہاتھوں میں گڑی ہیں
ترا بدلا ہوا چہرہ نہیں ہے
سلاخیں میری آنکھوں میں گڑی ہیں
بہت سے مان ہیں جو روکتے ہیں
یہ زنجیریں جو پیروں میں گڑی ہیں
چراغاں اس سے ہونا تھا جہاں میں
دراڑیں کیوں چراغوں میں گڑی ہیں
وہ کچھ بولے نہیں ہیں ایسا ویسا
مگر شکنیں جو ماتھوں میں گڑی ہیں
تری یادوں سے میں کترا تو جاتا
یہ کیلیں میری سانسوں میں گڑی ہیں
لہو خوابوں کا رستا جا رہا ہے
خراشیں کیسی سوچوں میں گڑی ہیں
نویدظفرکیانی
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 11، 2012 7:30 صبح
بہت خوب جناب۔ داد قبول فرمائیے
نویدظفرکیانی — اپریل 11، 2012 10:02 صبح
بہت خوب جناب۔ داد قبول فرمائیے
مہربانی خلیل صاحب
مغزل — اپریل 11، 2012 12:24 شام
رسید حاضر ہے قبلہ ۔ بشرطِ عدم مصروفیت حاضر ہوتا ہوں۔
الف عین — اپریل 11، 2012 4:27 شام
بہت خوب نوید۔ دلچسپ زمین نکالی ہے۔ اس مصرع پر غور کریں، میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔ دراڑیں چراغوں میں؟
دراڑیں کیوں چراغوں میں گڑی ہیں
محمد بلال اعظم — اپریل 11، 2012 4:36 شام
مزہ آ گیا پڑھ کے۔
نویدظفرکیانی — اپریل 12، 2012 6:03 صبح
بہت خوب نوید۔ دلچسپ زمین نکالی ہے۔ اس مصرع پر غور کریں، میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے۔ دراڑیں چراغوں میں؟
دراڑیں کیوں چراغوں میں گڑی ہیں

میں ہنوز کنفیوز ہوں ۔۔۔۔کیا واقعی چراغوں میں دراڑیں نہیں پڑ سکتیں؟
محمد وارث — اپریل 12، 2012 7:26 صبح
خوب غزل ہے کیانی صاحب، کیا کہنے۔
الف عین — اپریل 12، 2012 3:19 شام
میں ہنوز کنفیوز ہوں ۔۔۔ ۔کیا واقعی چراغوں میں دراڑیں نہیں پڑ سکتیں؟
دراڑیں پڑنا ہی نہیں، یہاں تو گڑنے کا بھی بیان ہے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B5%D9%84%DB%8C%D8%A8%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%D9%88%DA%BA-%D8%AA%D9%88-%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D9%88%DA%BA-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DA%AF%DA%91%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B2-%D9%86%D9%88%DB%8C%D8%AF-%D8%B8%D9%81%D8%B1%DA%A9%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C.50801/