غزل ۔ عرصہء خواب میں رہا جائے

ایس فصیح ربانی — ستمبر 22، 2011 8:37 صبح
شاہین فصیح ربانی​

غزل

عرصہء خواب میں رہا جائے
نام تعبیر کا دیا جائے
اس طرف بے سبب چلا جائے
جس طرف دشت کی ہوا جائے
اس یقیں سے سفر کیا جائے
آپ منزل قریب آ جائے
گھر سے مایوس کیوں ہوا جائے
سامنے ہی دیا رکھا جائے
اک جہاں درمیان حائل ہے
کیسے اس تک مری صدا جائے
وہ مری داستاں سنے نہ سنے
اپنا قصہ مجھے سنا جائے
دوسروں کو بدل نہیں سکتے
آپ ہی کو بدل لیا جائے
ہر طرف غم کی تیرگی ہے فصیح
کس طرف دل کا قافلہ جائے
محمد وارث — ستمبر 22، 2011 12:01 شام
یہ شعر لاجواب ہے فصیح صاحب
اس طرف بے سبب چلا جائے
جس طرف دشت کی ہوا جائے
اور مقطع بھی خوب ہے۔
ایس فصیح ربانی — نومبر 19، 2011 6:13 شام
محمد وارث صاحب
شعروں کو سراہنے پر بہت ممنون ہوں،
ہمیشہ خوش رہیے۔
الف عین — نومبر 20، 2011 3:55 صبح
سہل ممتنع میں اچھی غزل ہے فصیح، لیکن یہ کون سا فانٹ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈفالٹ فانٹ ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔
ایس فصیح ربانی — نومبر 30، 2011 2:17 شام
سہل ممتنع میں اچھی غزل ہے فصیح، لیکن یہ کون سا فانٹ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈفالٹ فانٹ ہی رہنے دیں تو بہتر ہے۔
آپ کی اس گرانقدر رائے کیلیے بہت شکرگزار ہوں،
میرا خیال ہے کہ یہ غزل پرانے سسٹم سے یہاں منتقل کی تھی، اس لیے اس کا فانٹ پہلے والا ہے اور شاید میں نے بدلنے کے کوشش بھی کی تھی لیکن ناکام رہا۔
ایس فصیح ربانی — نومبر 30، 2011 2:40 شام
خواب امید کا ہے سر چشمہ
خواب کیوں ٹوٹنے دیا جائے
مغزل — دسمبر 17، 2011 12:29 شام
فصیح صاحب رسید حاضر ہے انشا اللہ بشرطِ فرصت حاضر ہوتا ہوں۔والسلام
غ۔ن۔غ — دسمبر 18، 2011 9:48 صبح
اک جہاں درمیان حائل ہے
کیسے اس تک مری صدا جائے

بہت خوب جناب ۔۔۔۔
داد قبول کیجیئے گا۔
شاکرالقادری — دسمبر 18، 2011 3:27 شام
ہر طرف غم کی تیرگی ہے فصیح
کس طرف دل کا قافلہ جائے
داد قبول کیجئے
ایس فصیح ربانی — دسمبر 29، 2011 6:00 شام
فصیح صاحب رسید حاضر ہے انشا اللہ بشرطِ فرصت حاضر ہوتا ہوں۔والسلام
بھائی آپ کا بہت شکریہ اور آپ کی گرانقدر رائے کا انتظار رہے گا
ایس فصیح ربانی — دسمبر 29، 2011 6:01 شام
اک جہاں درمیان حائل ہے
کیسے اس تک مری صدا جائے
بہت خوب جناب ۔۔۔ ۔
داد قبول کیجیئے گا۔
آپ کی اس عنایت پر بہت ممنون ہوں۔
سدا شاد آباد رہیے۔
ایس فصیح ربانی — دسمبر 29، 2011 6:02 شام
آپ کا بہت شکریہ، ہمیشہ خوش رہیے۔
مغزل — دسمبر 30، 2011 10:31 صبح
فصیح بھائی داخلی واردات پر مبنی غزل ہے زبان و بیان شائستہ ، مصرعوں پر گرفت مضبوط ہے ۔
ابتدائی اشعار کی ذیل میں مطلع در مطلع ہی کہے جاتے تو صنعت کا حسن بھی در آتا مجھ خاکسار کی جانب سے ہدیہ تبریک، گر قبول افتد
ایس فصیح ربانی — جنوری 6، 2012 6:28 شام
فصیح بھائی داخلی واردات پر مبنی غزل ہے زبان و بیان شائستہ ، مصرعوں پر گرفت مضبوط ہے ۔
ابتدائی اشعار کی ذیل میں مطلع در مطلع ہی کہے جاتے تو صنعت کا حسن بھی در آتا مجھ خاکسار کی جانب سے ہدیہ تبریک، گر قبول افتد

محمود بھائی
غزل کے بارے آپ کی اس گرانقدر رائے کے لیے سراپا سپاس ہوں۔
مطلع در مطلع کہنے کی ذرا سی کوشش تو کی تھی لیکن ناکام رہا۔
آپ کا بہت شکریہ، ہمیشہ خوش و خرم رہیے۔
مغزل — جنوری 7، 2012 5:27 صبح
جزاک اللہ پیارے صاحب۔ (اردو محفل کا طرحی مشاعرہ میں آپ کا انتظار ہے ۔)
ایس فصیح ربانی — جنوری 12، 2012 8:24 صبح
جزاک اللہ پیارے صاحب۔ (اردو محفل کا طرحی مشاعرہ میں آپ کا انتظار ہے ۔)
محمود بھائی
آپ کا بہت شکریہ، طرحی مشاعرے میں غزل پوسٹ کر چکا ہوں۔
بہت شاد رہیے۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%D8%B9%D8%B1%D8%B5%DB%81%D8%A1-%D8%AE%D9%88%D8%A7%D8%A8-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B1%DB%81%D8%A7-%D8%AC%D8%A7%D8%A6%DB%92.34689/