ایس فصیح ربانی — اگست 11، 2011 8:56 صبح
شاہین فصیح ربانی
غزل
پہلے اس خاکدان سے نکلے
پھر کوئی آسمان سے نکلے
حسرتوں کے جہان سے نکلے
دل جو تیرے گمان سے نکلے
دونوں کردار ہی ضروری ہیں
کون اس داستان سے نکلے
اس کے ہونے سے میرا ہونا ہے
پھر وہ کیوں میرے دھیان سے نکلے
رنجشیں جس سے اور بڑھ جائیں
لفظ وہ کیوں زبان سے نکلے
سامنا ہے کسی سمندر کا
راستہ درمیان سے نکلے
کس کی خواہش نہیں فصیحؔ کہ وہ
سرخرو اس جہان سے نکلے
محمد وارث — اگست 12، 2011 5:44 صبح
خوب غزل ہے جناب فصیح صاحب۔
الف عین — اگست 12، 2011 10:44 صبح
واہ، اچھی غزل ہے۔ عزیز من اپنی ٍزلوں کو کمپائل کر کے مجھ کو ای میل کر دیں کہ ان کی برقی کتاب بنائی جا سکے۔ ایک عنوان بھی تجویز کر دیں کتاب کا۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 1، 2011 8:52 شام
خوب غزل ہے جناب فصیح صاحب۔
محمد وارث صاحب آپ کا بہت شکریہ، سدا خوش رہیے۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 1، 2011 8:56 شام
واہ، اچھی غزل ہے۔ عزیز من اپنی ٍزلوں کو کمپائل کر کے مجھ کو ای میل کر دیں کہ ان کی برقی کتاب بنائی جا سکے۔ ایک عنوان بھی تجویز کر دیں کتاب کا۔
حوصلہ افزائی کرنے کے لیے بہت شکرگزار ہوں آپ کا،
ہر پل شاد رہیے۔
آپ کا ای میل ایڈریس درکا ہو گا غزلیں بھیجنے کے لیے لیکن کچھ وقت لگ جائے گا۔
آپ کی اس نوازش کے لیے بھی بہت ممنون ہوں۔
امیداورمحبت — ستمبر 3، 2011 8:41 شام
خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایس فصیح ربانی — ستمبر 3، 2011 8:53 شام
آپ کا بہت شکریہ، سدا خوش رہیے۔