غزل ۔ کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا ۔ محمد احمد

محمداحمد — ستمبر 12، 2009 7:08 صبح
غزل
کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا
ملی منزل کسے کارِ وفا میں
مگریہ راستہ کتنا حسیں تھا
جلو میں تشنگی، آنکھوں میں ساحل
کہیں سینے میں صحرا جاگزیں تھا
محمد احمد
محمد وارث — ستمبر 12، 2009 7:35 صبح
بہت اچھی غزل ہے احمد صاحب، اچھے اشعار ہیں۔ بہت جاندار مطلع ہے، لاجواب۔
زیبِ مطلع میں 'فتح' غلط بندھ گیا ہے یہ لفظ 'درد' کے وزن پر ہے یعنی تا ساکن ہے۔
بہت داد قبول کریں جناب۔
محمداحمد — ستمبر 12، 2009 7:42 صبح
بہت شکریہ وارث بھائی!
زیبِ مطلع کی کوئی اور ممکنہ صورت ہو تو ضرور بتائیے ۔
محمد وارث — ستمبر 12، 2009 7:51 صبح
یہ تو آپ کو خود ہی ڈھونڈنا پڑے گی :)
ویسے فقط تقدم و تاخیر سے یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے
شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
لیکن اس طرح، شکست و ریخت کے ساتھ مجھے جیت بھی رواں لگ رہا ہے
شکست و ریخت کیسی، جیت کیسی
لیکن ظاہر ہے بھیا، یہ سب آپ کو خود کرنا پڑے گا :)
محمود احمد غزنوی — ستمبر 12، 2009 7:51 صبح
کہاں کی جیت اور کیسی ھزیمت
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
محمداحمد — ستمبر 12، 2009 7:58 صبح
بہت شکریہ وارث بھائی!
یہ تو آپ کو خود ہی ڈھونڈنا پڑے گی :)
یہ بھی ٹھیک کہا آپ نے :grin:
ویسے میرا خیال ہے کہ
"شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی"
ٹھیک لگ رہا ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟
محمداحمد — ستمبر 12، 2009 7:59 صبح
کہاں کی جیت اور کیسی ھزیمت
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا

بہت شکریہ محمود غزنوی صاحب!
محمد وارث — ستمبر 12، 2009 8:09 صبح
خوب ہے احمد صاحب، مصرع بھی اصلی حالت میں رہتا ہے :)
فرخ منظور — ستمبر 12، 2009 9:38 صبح
واہ واہ بہت خوب غزل ہے احمد صاحب! مزا آگیا پڑھ کر۔ بہت داد قبول فرمائیں۔ :)
عمران شناور — ستمبر 12، 2009 10:59 صبح
بہت خوب محمد احمد صاحب بہت اعلٰی غزل ہے۔ ماشاء اللہ
الف عین — ستمبر 12، 2009 5:00 شام
بہت اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، احمد صاحب نکھرتے جا رہے ہیں۔
محمداحمد — ستمبر 14، 2009 8:36 صبح
واہ واہ بہت خوب غزل ہے احمد صاحب! مزا آگیا پڑھ کر۔ بہت داد قبول فرمائیں۔ :)

بہت شکریہ فرخ بھائی!
آپ ایسے سخنور اور سخن فہم کی داد میرے لئے نعمت سے کم نہیں ہے۔ :)
محمداحمد — ستمبر 14، 2009 8:45 صبح
بہت خوب محمد احمد صاحب بہت اعلٰی غزل ہے۔ ماشاء اللہ

بہت شکریہ عمران بھیا!
خوش رہیے۔
ش زاد — ستمبر 14، 2009 5:58 شام
جلو میں تشنگی، آنکھوں میں ساحل
کہیں سینے میں صحرا جاگزیں تھا
بہت اچھی غزل ہے احمد بھائی
محمداحمد — ستمبر 15، 2009 9:51 صبح
بہت اچھی غزل ہے ماشاء اللہ، احمد صاحب نکھرتے جا رہے ہیں۔

بہت شکریہ اعجاز صاحب! یہ آپ سب کی صحبت کا ہی فیض ہے۔
محمداحمد — ستمبر 15، 2009 9:52 صبح
بہت اچھی غزل ہے احمد بھائی

بھائی ش زاد،
بڑی نوازش ہے آپ کی۔
بہت شکریہ۔
فاتح — ستمبر 15، 2009 10:28 صبح
سبحان اللہ! کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
محمداحمد — ستمبر 15، 2009 11:14 صبح
سبحان اللہ! کیا ہی خوبصورت غزل ہے۔ مبارک باد قبول کیجیے۔
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

بہت شکریہ فاتح صاحب!
آپ کی توجہ ،محبت اور دعا کے لئے بے حد ممنون ہوں۔
زرقا مفتی — ستمبر 19، 2009 12:13 صبح
بہت خوب
میری جانب سے داد قبول کیجیے
والسلام
زرقا
کاشفی — ستمبر 19، 2009 2:53 صبح
غزل
کہیں تھا میں، مجھے ہونا کہیں تھا
میں دریا تھا مگر صحرا نشیں تھا
شکست و ریخت کیسی، فتح کیسی
کہ جب کوئی مقابل ہی نہیں تھا
ملے تھے ہم تو موسم ہنس دیئے تھے
جہاں جو بھی ملا، خنداں جبیں تھا
سویرا تھا شبِ تیرہ کے آگے
جہاں دیوار تھی، رستہ وہیں تھا
ملی منزل کسے کارِ وفا میں
مگریہ راستہ کتنا حسیں تھا
جلو میں تشنگی، آنکھوں میں ساحل
کہیں سینے میں صحرا جاگزیں تھا
محمد احمد

بہت ہی خوبصورت۔۔عمدہ ۔۔محمد احمد بھائی بہت خوب۔۔
صفحات: 1 2

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%DB%94-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%D9%85%DB%8C%DA%BA%D8%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%DB%81%D9%88%D9%86%D8%A7-%DA%A9%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%AA%DA%BE%D8%A7-%DB%94-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%A7%D8%AD%D9%85%D8%AF.25262/