محمداحمد — جون 6، 2014 11:26 صبح
غزل
اشک ہو، آنکھیں بھگونا ہو تو پھر
آنکھ میں سپنا سلونا ہو تو پھر
کب تلک بخیہ گری کا شوق بھی
عمر بھر سینا پرونا ہو تو پھر
دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو !
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر
وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر
اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر
اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو
اُس کو پا نا ، اُس کوکھونا ہو تو پھر؟
نازُکی تو سیکھی اُس نے پھو ل سے
تتلیوں کا بوجھ ڈھونا ہو تو پھر؟
یوں جو خوش ہو اُس کو ہنستا دیکھ کر
اُس کا ہنسنا ،اُس کا رونا ہو تو پھر؟
یوں تو گجروں سے کلائی سج گئی
چاہ اُس کی چاندی سونا ہو تو پھر؟
لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا گول ہے
مفلسی کونہ بہ کونہ ہو تو پھر
احمدؔ اپنے دل کو خوش کرنے چلے
اور غم دل کا کھلونا ہو تو پھر؟
محمد احمدؔ
نیرنگ خیال — جون 6، 2014 11:28 صبح
دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو !
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر
یوں جو خوش ہو اُس کو ہنستا دیکھ کر
اُس کا ہنسنا ،اُس کا رونا ہو تو پھر؟
لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا گول ہے
مفلسی کونہ بہ کونہ ہو تو پھر
واہ واہ۔۔۔ احمد بھائی شاندار۔۔۔ حسب روایت بہت ہی اعلیٰ کلام۔۔۔ زبردست ۔۔۔۔ لطف آگیا۔۔۔ شاد رہیں سرکار۔۔۔۔ اللہ کرے زورِ سخن اور زیادہ
شیزان — جون 6، 2014 11:29 صبح
دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو !
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر
وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر
اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر
اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو
اُس کو پا نا ، اُس کوکھونا ہو تو پھر؟
اعلیٰ احمد بھائی
داد قبول فرمایئے
محمداحمد — جون 6، 2014 11:37 صبح
دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو !
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر
یوں جو خوش ہو اُس کو ہنستا دیکھ کر
اُس کا ہنسنا ،اُس کا رونا ہو تو پھر؟
لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا گول ہے
مفلسی کونہ بہ کونہ ہو تو پھر
واہ واہ۔۔۔ احمد بھائی شاندار۔۔۔ حسب روایت بہت ہی اعلیٰ کلام۔۔۔ زبردست ۔۔۔ ۔ لطف آگیا۔۔۔ شاد رہیں سرکار۔۔۔ ۔ اللہ کرے زورِ سخن اور زیادہ
شکریہ ذوالقرنین بھائی ۔۔۔۔!
خوش رہیے۔

عظیم — جون 6، 2014 11:43 صبح
بہت خوب احمد بھائی
بہت سی داد قبول کیجئے
محمداحمد — جون 6، 2014 11:50 صبح
دوست! انٹرنیٹ پر؟ اچھا، چلو !
اور گلے جو لگ کےرونا ہو تو پھر
وہ مری دلجوئی کو حاضر مگر
اُس کا ہونا بھی نہ ہونا ہو تو پھر
اُس کو پانے کی طلب!پر سوچ لو
اُس کو پا نا ، اُس کوکھونا ہو تو پھر؟
اعلیٰ احمد بھائی
داد قبول فرمایئے
بہت شکریہ شیزان بھائی ۔۔۔۔!
ممنون ہوں۔
محمداحمد — جون 6، 2014 12:27 شام
بہت خوب احمد بھائی
بہت سی داد قبول کیجئے
شکریہ عظیم صاحب،
خوش رہیے۔

ابن رضا — جون 6، 2014 12:34 شام
عمده است جناب. سلامت باشید
فلک شیر — جون 6، 2014 12:36 شام
ایسے شعر نکالنے والا بندہ محفل میں
محمداحمد ہی ہو سکتا ہے ۔۔
بہت خوب احمد بھائی

دل تو چاہ رہا ہے، کہ آپ کے گلے ملا جائے جلد ہی ۔۔ رونا تو بعد کی بات ہے ۔۔
فلک شیر — جون 6، 2014 12:39 شام
رشک آ رہا ہے شاعر کی قسمت پہ ، کہ لفظ گری سے لے کر معانی آفرینی سب منازل سےگزرتا ہے۔ اللہم یبارک فیک اخی الکریم
محمداحمد — جون 6، 2014 1:09 شام
عمده است جناب. سلامت اشید
بہت شکریہ ابنِ رضا بھائی ۔۔۔۔!
عبد الرحمن — جون 6، 2014 7:50 شام
ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ!
بہت ہی شان دار غزل ہے۔
جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
اللھم زد فزد!
ساقی۔ — جون 7، 2014 7:38 صبح
ایسے شعر نکالنے والا بندہ محفل میں محمداحمد ہی ہو سکتا ہے ۔
ہمیں بھی وہ مقام بتایا جائے جہاں سے آپ ایسے شعر نکالتے ہیں

زبردست!
محمداحمد — جون 7، 2014 8:34 صبح
ایسے شعر نکالنے والا بندہ محفل میں
محمداحمد ہی ہو سکتا ہے ۔۔
بہت خوب احمد بھائی

دل تو چاہ رہا ہے، کہ آپ کے گلے ملا جائے جلد ہی ۔۔ رونا تو بعد کی بات ہے ۔۔
بہت شکریہ فلک شیر بھائی ۔۔۔!
آپ ایسے دوستوں کی محبت ہی تو ہے کہ جس سے زندگی کے مختلف مراحل میں ڈھارس ملتی رہتی ہے۔
رشک آ رہا ہے شاعر کی قسمت پہ ، کہ لفظ گری سے لے کر معانی آفرینی سب منازل سےگزرتا ہے۔ اللہم یبارک فیک اخی الکریم
شکریہ ۔۔۔!

شعر کہنے کا عمل سوچ اور الفاظ کی مدد سے تصاویر بنانے کا عمل ہے اور یہ واقعی بہت ہی دل فریب شے ہے۔
محمداحمد — جون 7، 2014 8:41 صبح
ہمیں بھی وہ مقام بتایا جائے جہاں سے آپ ایسے شعر نکالتے ہیں

ہم نے فکر کے بینک میں شاعری کے نام سے ایک اکاؤنٹ کھولا ہے اس اکاؤنٹ سے منسلک خیال آفرینی کے غیر مقفل لاکر میں یہ اور ایسے بہت سارے اشعار پائے جاتے ہیں۔

آپ بھی اگر اس طرح کے اشعار نکالنا چاہیں تو نکال سکتے ہیں۔

بس یہ کہ ہمارے اکاؤنٹ سے نہیں نکال سکیں گے۔

آپ کو اپنا الگ اکاؤنٹ کھولنا ہوگا۔

محمداحمد — جون 7، 2014 8:41 صبح
شکریہ ۔۔۔۔۔!

محمداحمد — جون 7، 2014 10:26 صبح
ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ!
بہت ہی شان دار غزل ہے۔
جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
اللھم زد فزد!
بہت شکریہ عبدالرحمٰن بھائی ۔۔۔۔!
اس محبت کے لئے ممنون ہوں۔

الف عین — جون 7، 2014 12:11 شام
بہت خوب۔
کونہ بہ کونہ۔۔۔ کبھی دیکھا نہیں، کو بہ کو ہی سنا ہے۔ یہ استعمال اچھا نہیں لگا۔
عبد الرحمن — جون 7، 2014 12:17 شام
بہت شکریہ عبدالرحمٰن بھائی ۔۔۔ ۔!
اس محبت کے لئے ممنون ہوں۔
کس محبت کے لیے؟

محمداحمد — جون 7، 2014 1:13 شام
بہت خوب۔
کونہ بہ کونہ۔۔۔ کبھی دیکھا نہیں، کو بہ کو ہی سنا ہے۔ یہ استعمال اچھا نہیں لگا۔
بہت شکریہ اعجاز عبید صاحب،
"کونہ بہ کونہ " شاید اس لئے برا لگ رہا ہو کہ "کونہ" ہندی کا اور "بہ" فارسی کا ہے۔ لیکن یہ تو پورا کا پورا شعر ہی دنیا کی گولائی اور کونوں پر منحصر ہے سو تبدیلی تو ممکن نہیں ہے۔ شعر ہی غزل سے نکالا جا سکتا ہے۔