غزل،

احمد وصال — اگست 30، 2018 1:04 شام
راس آئے نہ شہر زار ہمیں
مل گئے رستے خاردار ہمیں
اس کی آنکھوں کی اب حکومت ہے
اب کہاں خود پہ اختیار ہمیں
مٹ گیا جو نہ ساتھ چل پایا
وقت کہتا ہے بار بار ہمیں
مثل خوشبو ہیں پھول چھوڑ آئے
ڈھونڈے اب دشت و لالہ زار ہمیں
سامنے وہ بھی ہے، اجل بھی ہے
زندگی سانس دے ادھار ہمیں
توڑ کر ، بھول جانے والے آ
اپنے ہاتھوں سے پھر سنوار ہمیں
اک محبت کا روگ کیوں پالیں
اور بھی غم ہیں بے شمار ہمیں
چھین کر لے گیا سکون و قرار
سونپ ڈالا ہے انتظار ہمیں
یہ تعلق بھی واجبی سا ہے
کہہ رہا ہے وہ رشتہ دار ہمیں
مجھ کو اب ہے سکوں میں بے چینی
ہائے وحشت ذرا پکار ہمیں
اس بھرے شہر میں ملا ہے وصال
کوئی مونس، نہ غم گسار ہمیں
احمد وصال
وجاہت حسین — اگست 30، 2018 2:33 شام
بہت خوب. ماشاءاللہ
مٹ گیا جو نہ ساتھ چل پایا
وقت کہتا ہے بار بار ہمیں
مثل خوشبو ہیں پھول چھوڑ آئے
ڈھونڈے اب دشت و لالہ زار ہمی
واہ
الف عین — اگست 31، 2018 11:50 صبح
واہ اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
احمد وصال — ستمبر 1، 2018 6:04 صبح
واہ اچھی غزل ہے ماشاءاللہ
بہت محبت محترم
احمد وصال — ستمبر 1، 2018 6:05 صبح
بہت خوب. ماشاءاللہ
واہ
سپاس گزار ہوں محترم
اکمل زیدی — ستمبر 1، 2018 6:20 صبح
مجھ کو اب ہے سکوں میں بے چینی
ہائے وحشت ذرا پکار ہمیں
خوب ۔ ۔ ۔
سردار محمد نعیم — ستمبر 1، 2018 7:49 صبح
وااہ ماشاءاللہ
ظہیراحمدظہیر — ستمبر 6، 2018 5:03 شام
بہت خوب ! اچھے اشعار ہیں احمد وصال صاحب!
؎ ڈھونڈے اب دشت و لالہ زار ہمیں
اس مصرع میں ڈھونڈیں ہونا چاہئے ۔ اسے دیکھ لیجئے ۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84%D8%8C.103030/