غزل::وہ چلا بھی گیا زمانہ ہوا:: از: محمد خلیل الرحمٰن

محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 15، 2012 5:58 شام
غزل
محمد خلیل الرحمٰن
وہ چلا بھی گیا ، زمانہ ہوا
میں ہی منت کشِ صدا نہ ہوا
رقم دی، دی ہوئی اسی کی تھی
سود باقی ہے، قرض ادا نہ ہوا
سکھ کا سانس آج لے لیا اس نے
آج ہی میں غزل سرا نہ ہوا
کتنا ہے خوش نصیب فون ترا
کان سے جو کبھی جدا نہ ہوا
گانا ہم نے شروع کیا تو تھا
اک تماشا ہوا، گلا نہ ہوا
کیسا محبوب پالیا ہم نے
آج تک اپنا کچھ بھلا نہ ہوا
کتنا سادہ ہے سامنے والا
’’گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘
قرض لے کر وہ روز اکڑنے لگے
لاکھ کوشش تو کی ادا نہ ہوا
تھا خلیل ایک شاعرِ محفل
پیدا اب کوئی دوسرا نہ ہوا
شمشاد — اپریل 15، 2012 6:05 شام
بہت خوب
اس کو نمکین میں رکھیں کہ میٹھی والی میں۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 15، 2012 6:06 شام
اُستادَ محترم ہی بتائیں گے
محمد بلال اعظم — اپریل 15، 2012 6:14 شام
واہ جی واہ، بہت خوب
الف عین — اپریل 15، 2012 7:36 شام
نہ نمکین میں نہ میٹھی میں۔ اس کو تو سیدھے ’غالب کے اڑیں گے پرزے‘ میں پہنچا دینا چاہئے۔ نہیں بلکہ اس کا نام تو چھوٹے میاں نے ’درگت‘ رکھا ہے۔ شمشاد ہی اس دھاگے کو یہ مجوزہ نام دے دیں اور وہاں محض غالب کی پیروڈیاں شامل ہوں تو مزا آ جائے۔ بلکہ ایک برقی کتاب اور تیار ہو جائے!!
بہت خوب
اس کو نمکین میں رکھیں کہ میٹھی والی میں۔
محمد وارث — اپریل 16، 2012 6:58 صبح
خوب غزل ہے خلیل صاحب۔
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2012 2:38 صبح
واہ جی واہ، بہت خوب
پسند کرنے کا شکریہ قبول کریں جناب۔ جزاک اللہ الخیر
محمد خلیل الرحمٰن — اپریل 17، 2012 2:40 صبح
خوب غزل ہے خلیل صاحب۔
پسند کرنے پر شکریہ قبول کریں جناب محمد وارث صاحب۔ جزاک اللہ الخیر
امجد علی راجا — فروری 13، 2013 8:32 صبح
واہ محمد خلیل الرحمٰن بھیا!
لطف آگیا۔ بہت نمکین انداز میں غالب کے پرزے اڑائے۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 14، 2013 1:51 صبح
واہ محمد خلیل الرحمٰن بھیا!
لطف آگیا۔ بہت نمکین انداز میں غالب کے پرزے اڑائے۔
جزاک اللہ امجد علی راجا بھائی۔ پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیے
امجد علی راجا — فروری 14، 2013 4:31 صبح
جزاک اللہ امجد علی راجا بھائی۔ پسندیدگی پر شکریہ قبول فرمائیے
میں نے اس فورم پر موجود آپ کا تقریبا تمام کلام پڑھ لیا ہے، آپ کے کلام میں جو روانی ہے، بحر کا انتخاب، خوبصورت ردیف، قافیہ کا چنائو، اور پھر کلام میں جو لطف اور روانی، اور زمین کی دلکشی، ابھی تک میں نے کسی اور شاعر کے کلام میں نہیں دیکھی۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اس سال کا سب سے بہترین شاعر کسے کہا جائے تو میں بے دریغ آپ کا نام تجویز کروں گا۔
میری اس اسٹیٹمنٹ کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ میں باقی محفلین اور محمد خلیل الرحمٰن بھیا میں موازنہ کر رہا ہوں، یا مقابلہ والی کوئی بات ہے، میں تو فقط اپنی پسند کا اظہار کر رہا ہوں اس لئے باقی محفلین سے خفا نہ ہونے کی توقع رکھتا ہوں۔
نامعلوم اول — فروری 17، 2013 4:39 صبح
نہ نمکین میں نہ میٹھی میں۔ اس کو تو سیدھے ’غالب کے اڑیں گے پرزے‘ میں پہنچا دینا چاہئے۔ نہیں بلکہ اس کا نام تو چھوٹے میاں نے ’درگت‘ رکھا ہے۔ شمشاد ہی اس دھاگے کو یہ مجوزہ نام دے دیں اور وہاں محض غالب کی پیروڈیاں شامل ہوں تو مزا آ جائے۔ بلکہ ایک برقی کتاب اور تیار ہو جائے!!
کیا پیاری تجویز تھی۔ سال ہونے کو آیا، کمال ہے ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے میری ہی نظروں کا قصور ہو کہ دیکھ نہ سکا ہوں۔ اگر ایسا کام ہوا ہے، تو براہِ مہربانی مجھے ربط دے دیا جائے۔
ویسے غزل پڑھ کر مجھے غالب سے زیادہ "ناصر کاظمی" یاد آئے۔ جانے کیوں۔
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 17، 2013 6:23 صبح
کیا پیاری تجویز تھی۔ سال ہونے کو آیا، کمال ہے ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے میری ہی نظروں کا قصور ہو کہ دیکھ نہ سکا ہوں۔ اگر ایسا کام ہوا ہے، تو براہِ مہربانی مجھے ربط دے دیا جائے۔
ویسے غزل پڑھ کر مجھے غالب سے زیادہ "ناصر کاظمی" یاد آئے۔ جانے کیوں۔

برقی کتاب تو کب کی برقی لائیبریری کی زینت بنادی گئی ہے اور ہمارے برقی پبلشر کا نام ہے جناب الف عین اعجاز عبید صاحب۔
آپ کی محبت ہے کہ آپ نے یاد فرمایا۔ امید ہے کہ اس لنک پر جاکر ہماری کتب کا مطالعہ بھی فرمائیں گے
محمد خلیل الرحمٰن — فروری 17، 2013 6:33 صبح
میں نے اس فورم پر موجود آپ کا تقریبا تمام کلام پڑھ لیا ہے، آپ کے کلام میں جو روانی ہے، بحر کا انتخاب، خوبصورت ردیف، قافیہ کا چنائو، اور پھر کلام میں جو لطف اور روانی، اور زمین کی دلکشی، ابھی تک میں نے کسی اور شاعر کے کلام میں نہیں دیکھی۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ اس سال کا سب سے بہترین شاعر کسے کہا جائے تو میں بے دریغ آپ کا نام تجویز کروں گا۔
میری اس اسٹیٹمنٹ کا قطعی یہ مقصد نہیں کہ میں باقی محفلین اور محمد خلیل الرحمٰن بھیا میں موازنہ کر رہا ہوں، یا مقابلہ والی کوئی بات ہے، میں تو فقط اپنی پسند کا اظہار کر رہا ہوں اس لئے باقی محفلین سے خفا نہ ہونے کی توقع رکھتا ہوں۔

آپ کی محبتوں کے مقروض ہیں۔کلام کی روانی، بحر کا انتخاب، خوبصورت ردیف، خوبصورت قوافی، کلام کا لطف و روانی اور زمین کی دلکشی وغیرہ یہ سب کچھ ہمارا نہیں ، ہم نے تو یہ سب غالب سے مستعار لیا ہے، آپ کی پسند دراصل آپ کا حسنِ نظر ہے، ہم تو کچھ بھی نہیں۔
جاسمن — مارچ 7، 2016 6:17 صبح
قم دی، دی ہوئی اسی کی تھی
سود باقی ہے، قرض ادا نہ ہوا
کتنا سادہ ہے سامنے والا
’’گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا‘‘
قرض لے کر وہ روز اکڑنے لگے
لاکھ کوشش تو کی ادا نہ ہوا
شاعر نے کسی سے ادھار پکڑا ہؤا ہے۔ وہ جب بھی مانگنے آتا ہے۔ شاعر اسے بُرا بھلا کہتا ہے۔ وہ غریب سادہ مزاج مزہ لیتا ہے۔ اور پھر آجاتا ہے۔
ویسے بھائی آپس کی بات ہے۔ کیا وہ قرض ادا ہو گیا؟ :Dیہ شاید 2012 کی بات ہے غالباَََ۔۔۔۔۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84-%D9%88%DB%81-%DA%86%D9%84%D8%A7-%D8%A8%DA%BE%DB%8C-%DA%AF%DB%8C%D8%A7-%D8%B2%D9%85%D8%A7%D9%86%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%A7-%D8%A7%D8%B2-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%84-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D8%AD%D9%85%D9%B0%D9%86.50910/