غزل۔۔۔ اتنا شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہو کر ۔۔۔ میری اور والد صاحب کی مشترکہ کاوش

متلاشی — دسمبر 4، 2013 4:27 شام
عافیہ چیختی ہو گی پسِ زنداں ہو کر
بیٹیاں رہ گئیں بے دامن و داماں ہو کر
لفظ نکلے ہیں مرے نطق سے نالاں ہو کر
اتنا شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہو کر
دن نکلتا ہے نئے دردکا ساماں ہو کر
شام آتی ہے تو شامِ غریباں ہو کر
کیا ستم ہے کوئی آہ رسا نہیں ہوتی
لوٹ آتی ہے صدا خوابِ پریشاں ہو کر
کس طرح آہ مری آج فلک تک پہنچے
رہ گیا شہر میرا شہرِ خموشاں ہو کر
آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ تو اپنی
نہیں پستی تجھے شایاں ارے ذیشاںؔ ہو کر
(والد گرامی اور میری ایک مشترکہ کاوش )​
متلاشی — دسمبر 5، 2013 2:56 صبح
الف عین محمد یعقوب آسی
الف عین — دسمبر 5، 2013 3:08 صبح
بہت خوب۔ اچھی کاوش ہے۔۔گرچہ عروض کے مطابق سوالات اٹھتے ہیں
متلاشی — دسمبر 5، 2013 3:10 صبح
بہت خوب۔ اچھی کاوش ہے۔۔گرچہ عروض کے مطابق سوالات اٹھتے ہیں
شکریہ استاذ گرامی ! سوالات ضرور اٹھائیں۔۔۔۔؟ تاکہ میرے علم میں اضافہ ہوسکے۔۔۔!
الف عین — دسمبر 6، 2013 2:54 صبح
یہ مصرعے بحر سے خارج ہیں۔
شام آتی ہے تو شامِ غریباں ہو کر
کیا ستم ہے کوئی آہ رسا نہیں ہوتی
آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ تو اپنی
آصف اثر — دسمبر 6، 2013 5:33 صبح
یہ مصرعے بحر سے خارج ہیں۔
شام آتی ہے تو شامِ غریباں ہو کر
کیا ستم ہے کوئی آہ رسا نہیں ہوتی
آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ تو اپنی
میرے خیال میں یہ مصرعے کچھ یوں ہونے چاہیے:
۱: شام آتی ہے تو اِک شامِ غریباں ہوکر
۲:کیا ستم ہے نہیں ہوتی بھی کوئی آہ رسا
۳: آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ اپنی
یا
آہ غافل ذرا پہچان قدر تو اپنی۔۔۔
باقی کاوش تو لاجواب ہے۔۔۔ماشاء اللہ۔۔۔
آصف اثر — دسمبر 6، 2013 5:39 صبح
ایک بات اور کہ تصحیح کے بعد ہم اسے ”مہر نستعلیق“ میں جلوہ گر دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔
شاید کسی کو جَلا دے۔۔۔شاید کسی کو جِلا دے۔۔۔
ابن رضا — دسمبر 6، 2013 5:54 صبح
لفظ نکلے ہیں مرے نطق سے نالاں ہو کر
اتنا شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہو کر
اجی کیا خوب غزل کہہ دی جنابِ ذیشاں
حرف بہ حرف پڑھی ہم نے یہ حیراں ہو کر
بہت عمدہ جناب۔ خوش رہیں۔ اللہ کرے حسنِ قلم زیادہ
عبد الرحمن — دسمبر 6، 2013 7:20 صبح
ماشاء اللہ! بہت خوب لکھا ہے متلاشی بھائی!
سید شہزاد ناصر — دسمبر 6، 2013 7:41 صبح
ماشاءاللہ :)
بہت خوب لکھا
اللہ کرے زور قلم زیادہ
متلاشی — دسمبر 6، 2013 12:35 شام
پسندیدگی کے لئے تمام احباب کا شکر گذار ہوں
سید عاطف علی — دسمبر 6، 2013 12:59 شام
میرے خیال میں یہ مصرعے کچھ یوں ہونے چاہیے:
۱: شام آتی ہے تو اِک شامِ غریباں ہوکر
۲:کیا ستم ہے نہیں ہوتی بھی کوئی آہ رسا
۳: آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ اپنی
یا
آہ غافل ذرا پہچان قدر تو اپنی۔۔۔
باقی کاوش تو لاجواب ہے۔۔۔ ماشاء اللہ۔۔۔
قدر کو بدر کے وزن پر باندھا جائے گا ۔
شام بھی آتی ہے تو شامِ غریباں ہوکر
کیا ستم ہے کہ نہیں ہوتی کوئی آہ رسا
قدر کو اپنی تو پہچان ذرا ا ےغافل
نور وجدان — اگست 12، 2015 4:38 شام
عافیہ چیختی ہو گی پسِ زنداں ہو کر
بیٹیاں رہ گئیں بے دامن و داماں ہو کر
لفظ نکلے ہیں مرے نطق سے نالاں ہو کر
اتنا شرمندہ ہوں اس دور کا انساں ہو کر
دن نکلتا ہے نئے دردکا ساماں ہو کر
شام آتی ہے تو شامِ غریباں ہو کر
کیا ستم ہے کوئی آہ رسا نہیں ہوتی
لوٹ آتی ہے صدا خوابِ پریشاں ہو کر
کس طرح آہ مری آج فلک تک پہنچے
رہ گیا شہر میرا شہرِ خموشاں ہو کر
آہ غافل ذرا پہچان قدر آپ تو اپنی
نہیں پستی تجھے شایاں ارے ذیشاںؔ ہو کر
(والد گرامی اور میری ایک مشترکہ کاوش )​

ماشاء اللہ ! آپ کے خیالات کی بلندی کو میرا سلام ۔۔۔
بہت اچھی ہے
متلاشی — اگست 12، 2015 5:36 شام
ماشاء اللہ ! آپ کے خیالات کی بلندی کو میرا سلام ۔۔۔
بہت اچھی ہے
آپ کی قدردانی پر آپ کا شکر گذار ہوں
بے الف اذان — اگست 23، 2015 9:17 شام
واہ واہ ! بہت سی داد اور مبارکباد ۔ ۔ ۔
کاشف اسرار احمد — اگست 29، 2015 9:21 صبح
ماشا اللہ ۔۔ کیا کہنے ہیں۔
خوب زور خطابت دکھایا آپ نے!
(y)
محمداحمد — اگست 29، 2015 10:07 صبح
ماشاءاللہ۔
بہت خوب!
متلاشی — اگست 29، 2015 10:34 صبح
ماشا اللہ ۔۔ کیا کہنے ہیں۔
خوب زور خطابت دکھایا آپ نے!
(y)
شکریہ جناب

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D8%B2%D9%84%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%D8%AA%D9%86%D8%A7-%D8%B4%D8%B1%D9%85%D9%86%D8%AF%DB%81-%DB%81%D9%88%DA%BA-%D8%A7%D8%B3-%D8%AF%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%88-%DA%A9%D8%B1-%DB%94%DB%94%DB%94-%D9%85%DB%8C%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%A7%D9%84%D8%AF-%D8%B5%D8%A7%D8%AD%D8%A8-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D8%B4%D8%AA%D8%B1%DA%A9%DB%81-%DA%A9%D8%A7%D9%88%D8%B4.69872/