غم پلے سینے میں ہوٹوں پر ہنسی ہے رقص میں

سیدہ سارا غزل — نومبر 17، 2011 6:33 شام
غم پلے سینے میں ہونٹوں پر ہنسی ہے رقص میں
کس دوراہے پر مری خود آگہی ہے رقص میں
خشک آنکھوں پر برستی ہی نہیں دل کی گھٹا
بہتے دریا کے لبوں پر تشنگی ہے رقص میں
آرزو کے بند دروازوں پہ دستک دے ذرا
کس لئے کمروں میں قیدی روشنی ہے رقص میں
درد کے چڑھتے ہوئے سورج سے آنکھیں تو ملا
کیوں ترے رستے میں حائل روشنی ہے رقص میں
مضطرب رہنے لگا دل ہونٹ سی لینے کے بعد
روح پر سنگِ ملامت کی جھڑی ہے رقص میں
سر پہ ہے شمشیر ہر پل ہجر کی لٹکی ہوئی
دل کے آنگن میں سجن کی مورتی ہے رقص میں
تیرگی ایسی کہ روشن کر گئی آنکھیں غزل
اور منور شہرِ دل کی ہر گلی ہے رقص میں
سیدہ سارا زوہیب غزل
سیدہ سارا غزل — نومبر 17، 2011 6:40 شام
معزز ایڈمن صاحب سے گزارش ہے کہ موضوع کے عنوان میں ٹائپنگ کی غلطی ( غم پلے سینے میں ہوٹوں پر ہنسی ہے رقص میں ) سےپلے کی بجائے یلے ٹائپ ہو گیا ہے جس کی ایڈیٹنگ کی آپشن موجود نہیں۔ مہربانی فرما کر اسے درست کر دیں۔ شکریہ
ابن سعید — نومبر 17، 2011 7:38 شام
معزز ایڈمن صاحب سے گزارش ہے کہ موضوع کے عنوان میں ٹائپنگ کی غلطی ( غم پلے سینے میں ہوٹوں پر ہنسی ہے رقص میں ) سےپلے کی بجائے یلے ٹائپ ہو گیا ہے جس کی ایڈیٹنگ کی آپشن موجود نہیں۔ مہربانی فرما کر اسے درست کر دیں۔ شکریہ

بٹیا رانی در اصل عنوان درست ہے، لیکن متن کا زیریں حصہ ذیلی متن کے باعث کٹ رہا ہے۔ ٹیمپلیٹ میں تھوڑی سی تبدیلی کے بعد وہ درست دکھنے لگے گا ان شاء اللہ۔ :)
ابھی ایک دلچسپ بات ہوئی۔ ہم آپ کے اشعار پڑھ رہے تھے۔ بے خیالی میں ہم نے مطلع کچھ یوں پڑھا:
غم پلے سینے میں ہونٹوں پر ہنسی ہے محو رقص
کس دوراہے پر مری خود آگہی ہے محو رقص
جب اگلے شعر پر پہونچے تو اچانک محسوس ہوا کہ شاید ردیف بدل گیا ہے۔ اور جب ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تومسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ :)
کاشفی — نومبر 17، 2011 8:56 شام
بہت خوب ۔بہت عمدہ!
محمداحمد — نومبر 18، 2011 8:17 صبح
بہت خوب سارا صاحبہ ،
اچھی غزل ہے۔ خوش رہیے۔
سیدہ سارا غزل — نومبر 18، 2011 2:01 شام
واہ کیا بات ہے میرے سعود بھیا کی، میں غزل کا ردیف محو ِ رقص ہی کر لیتی تو بہتر رہتا، ویسے آپ نے بات ہی بات میں اتنی اچھی رائے اتنے خوبصورت بہانے سے دی ہے کہ مان گئی آپ کی ذہانت کو۔ سلامت رہیں
سیدہ سارا غزل — نومبر 18، 2011 2:02 شام
شکریہ کاشفی صاحب۔ سلامت رہیں
سیدہ سارا غزل — نومبر 18، 2011 2:03 شام
شکریہ احمد صاحب۔ اللہ خوش رکھے
ابن سعید — نومبر 18، 2011 3:58 شام
واہ کیا بات ہے میرے سعود بھیا کی، میں غزل کا ردیف محو ِ رقص ہی کر لیتی تو بہتر رہتا، ویسے آپ نے بات ہی بات میں اتنی اچھی رائے اتنے خوبصورت بہانے سے دی ہے کہ مان گئی آپ کی ذہانت کو۔ سلامت رہیں

جی نہیں بٹیا رانی! بالکل بھی نہیں! "رقص میں" کہنے میں نغمگی اور روانی زیادہ ہے۔ :) :) :)
فاتح — نومبر 18، 2011 4:10 شام
سیدہ سارا زوہیب غزل صاحبہ! واہ خوبصورت اشعار کہے آپ نے۔
محمد وارث — نومبر 19، 2011 7:23 صبح
خوب غزل ہے سیدہ صاحبہ، لاجواب
ایس فصیح ربانی — نومبر 19، 2011 6:29 شام
بہت خوب، اچھی غزل ہے۔
داد قبول کیجیے۔
ایم اے راجا — نومبر 20، 2011 6:32 شام
بہت خوب غزل ہے محترمہ غزل صاحبہ
سیدہ سارا غزل — نومبر 21، 2011 6:56 شام
بہت خوب، اچھی غزل ہے۔
داد قبول کیجیے۔
شکریہ سر ربانی صاحب
سیدہ سارا غزل — نومبر 21، 2011 6:56 شام
بہت خوب غزل ہے محترمہ غزل صاحبہ
بہت شکریہ راجا صاحب
سیدہ سارا غزل — نومبر 21، 2011 6:57 شام
خوب غزل ہے سیدہ صاحبہ، لاجواب
بیحد شکریہ سر وارث صاحب۔ مولٰی سلامت رکھے
سیدہ سارا غزل — نومبر 21، 2011 6:58 شام
بہت خوب ۔بہت عمدہ!
بہت شکریہ کاشفی صاحب۔ سلامت رہیں

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85-%D9%BE%D9%84%DB%92-%D8%B3%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88%D9%B9%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%DB%81%D9%86%D8%B3%DB%8C-%DB%81%DB%92-%D8%B1%D9%82%D8%B5-%D9%85%DB%8C%DA%BA.48665/