غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے ! ۔۔۔ ایک غزل

کاشف اسرار احمد — اگست 29، 2015 9:08 صبح
احباب اردو محفل کی خدمت میں ایک غزل پیش ہے۔ آپ کی آراء کا منتظر رہونگا۔
----------------------------------------------
غم کی پونجی تو گنوانے سے رہے !
درد سے کہہ دو، ٹھکانے سے رہے !
صدقہِ دولتِ ہجراں ہی سہی
اشک اب ہم تو بہانے سے رہے !
اس محبّت کو، عقیدہ نہ کریں!
الجھنیں، اور بڑھانے سے رہے !
سوزشِ جان فُزُوں ہے ، تو رہے !
ہم لگی دل کی، بجھانے سے رہے !
روز آتے ہیں تو آئیں آلام !
ہم یہ مہمان، بھگانے سے رہے !
ہر سکوں، مجھ سے خفا ہو کے گیا
روٹھے!، اب ہم تو منانے سے رہے !
اب نہ مانگیں گے، نئی کوئی دعا
پھر نیا درد، جگانے سے رہے !
اک نِدامت کا، گِراں بوجھ ہے جو
ہاں، وہ قِصّہ تو سنانے سے رہے !
اوپری دل سے یوں پوچھو گے اگر
حال اپنا تَو، سنانے سے رہے !
کہنے کو کہہ تو دیں کاشف، لیکن
ہر خلش دل کی، مٹانے سے رہے !
سیّد کاشف
----------------------------------------------
محمداحمد — اگست 29، 2015 10:11 صبح
روز آتے ہیں تو آئیں آلام !
ہم یہ مہمان، بھگانے سے رہے !
اب نہ مانگیں گے، نئی کوئی دعا
پھر نیا درد، جگانے سے رہے !
اک نِدامت کا، گِراں بوجھ ہے جو
ہاں، وہ قِصّہ تو سنانے سے رہے !

سبحان اللہ۔
خوب غزل ہے بھائی!
شاد آباد رہیے۔ :)
کاشف اسرار احمد — اگست 29، 2015 11:34 صبح
سبحان اللہ۔
خوب غزل ہے بھائی!
شاد آباد رہیے۔ :)
جزاک اللہ ۔
نور وجدان — اگست 29، 2015 11:53 صبح
بہت خوب ! آپ کی یہ کاوش مجھے پسند آئی ہے
کاشف اسرار احمد — اگست 29، 2015 12:11 شام
بہت خوب ! آپ کی یہ کاوش مجھے پسند آئی ہے
شکریہ نور۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D9%BE%D9%88%D9%86%D8%AC%DB%8C-%D8%AA%D9%88-%DA%AF%D9%86%D9%88%D8%A7%D9%86%DB%92-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%DB%81%DB%92-%DB%94%DB%94%DB%94-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D8%BA%D8%B2%D9%84.84272/