غم کے مارے کب سوتے ہیں ( اسد اقبال )

اسد اقبال — مئی 2، 2017 10:19 صبح
غم کے مارے کب سوتے ہیں
ہم اور تارے کب سوتے ہیں
ہم ہارے ہیں‌ جیتی بازی
ایسے ہارے کب سوتے ہیں
جن کے آنگن دُکھ پلتے ہوں
وہ دُکھیارے کب سوتے ہیں
شب بھر کے ساتھی ہیں میرے
غم بیچارے کب سوتے ہیں
جن کی قسمت میں‌ ہجرت ہو
وہ بنجارے کب سوتے ہیں
اسد اقبال
محمد تابش صدیقی — مئی 2، 2017 10:27 صبح
بہت خوب جناب۔
اردو محفل میں خوش آمدید۔
یہاں جا کر اپنی تعارفی لڑی بھی بنا دیں۔ :)
اسد اقبال — مئی 2، 2017 11:12 صبح
بہت نوازش جناب محمد تابش صدیقی صاحب حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ
الف عین — مئی 2، 2017 3:56 شام
واہ اچھی غزل ہے۔ داد بہت سی
محمد عظیم الدین — مئی 2، 2017 4:04 شام
ہم ہارے ہیں‌ جیتی بازی
ایسے ہارے کب سوتے ہیں
بہت خوب
عاطف ملک — مئی 2، 2017 4:13 شام
غم کے مارے کب سوتے ہیں
ہم اور تارے کب سوتے ہیں
ہم ہارے ہیں‌ جیتی بازی
ایسے ہارے کب سوتے ہیں
جن کے آنگن دُکھ پلتے ہوں
وہ دُکھیارے کب سوتے ہیں
شب بھر کے ساتھی ہیں میرے
غم بیچارے کب سوتے ہیں
جن کی قسمت میں‌ ہجرت ہو
وہ بنجارے کب سوتے ہیں
اسد اقبال
محفل میں خوش آمدید جناب!
بہت ہی خوبصورت غزل ہے۔
تمام ہی اشعار بہت اچھے لگے :)
بہت سی داد قبول کیجیے۔
اسد اقبال — مئی 3، 2017 10:17 صبح
الف عین ، محمد عظیم الدین اور عاطف ملک صاحب آپ تمام احباب کی حوصلہ افزائی کا بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%DA%A9%D8%A8-%D8%B3%D9%88%D8%AA%DB%92-%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D8%AF-%D8%A7%D9%82%D8%A8%D8%A7%D9%84.96161/