غموں کی آگ میں لپٹا دکھائی دیتا ہے۔ عُمر سیف

عمر سیف — جنوری 22، 2017 11:35 صبح
تازہ
غموں کی آگ میں لپٹا دکھائی دیتا ہے
یہ دل بھی ایک دیا سا دکھائی دیتا ہے
تری تلاش میں نکلے تو ہم نے یہ جانا
یہاں تو ہر کوئی تجھ سا دکھائی دیتا ہے
اور اب کی بار محبت میں جیتنا ہے مجھے
شکستہ دل میں یہ جذبہ دکھائی دیتا ہے
میں روز ایک محبت کا خواب بُنتا ہوں
پھر اس کا چاند سا چہرہ دکھائی دیتا ہے
ندی کے پار کبھی آفتاب کو دیکھو
ترے فراق میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے
چمن میں پھول بہت ہیں مگر گلابوں سا
وہ لالہ رخ گُلِ رعنا دکھائی دیتا ہے
کبھی کبھی تو ستارے مچلنے لگتے ہیں
گلی میں چاند نکلتا دکھائی دیتا ہے
یہ کیسا خوف مرے رتجگوں میں شامل ہے
کہ اپنا سایہ ہی چلتا دکھائی دیتا ہے
وہ شخص آج بھی کرتا ہے پیار کی باتیں
عُمر وہ اب بھی اکیلا دکھائی دیتا ہے
عُمر سیف​
عمر سیف — جنوری 22، 2017 5:38 شام
محمد بلال اعظم
سید ذیشان حیدر — جنوری 22، 2017 7:31 شام
بہت اعلٰی
جاسمن — جنوری 22، 2017 11:15 شام
بہت خوب!
تقریباََ اسی بحر میں ایک چھوٹی سی کوشش میں نے بھی کی تھی۔
اے خان — جنوری 23، 2017 12:56 صبح
بہت خوب لکھا :)
طارق سعید — جنوری 23، 2017 12:15 شام
بہت خوب
اَبُو مدین — جنوری 23، 2017 12:25 شام
تری تلاش میں نکلے تو ہم نے یہ جانا
یہاں تو ہر کوئی تجھ سا دکھائی دیتا ہے
واہ واہ. بہت خوب.
عمر سیف — جنوری 23، 2017 3:57 شام

بہت خوب!
تقریباََ اسی بحر میں ایک چھوٹی سی کوشش میں نے بھی کی تھی۔
دیکھتا ہوں ابھی


سب کا بہت شکریہ
محمد خلیل الرحمٰن — جنوری 23، 2017 4:05 شام
واہ! مزیدار مزیدار
عمر سیف — جنوری 23، 2017 4:51 شام
واہ! مزیدار مزیدار
شکریہ سر
یوسف سلطان — جنوری 26، 2017 1:11 شام
وہ شخص آج بھی کرتا ہے پیار کی باتیں
عُمر وہ اب بھی اکیلا دکھائی دیتا ہے
بہت خوب​
عمر سیف — جنوری 26، 2017 2:39 شام
شکریہ یوسف
محمد بلال اعظم — فروری 1، 2017 5:04 شام
تری تلاش میں نکلے تو ہم نے یہ جانا
یہاں تو ہر کوئی تجھ سا دکھائی دیتا ہے

میں روز ایک محبت کا خواب بُنتا ہوں
پھر اس کا چاند سا چہرہ دکھائی دیتا ہے

کبھی کبھی تو ستارے مچلنے لگتے ہیں
گلی میں چاند نکلتا دکھائی دیتا ہے

واہ واہ واہ عمر بھائی
بالا اشعار بہت پسند آئے
بہت سی داد
عمر سیف — فروری 1، 2017 7:18 شام
واہ واہ واہ عمر بھائی
بالا اشعار بہت پسند آئے
بہت سی داد
محبت ہے بلال بہت شکریہ
ابن فقیر — فروری 2، 2017 8:14 صبح
بہت خوب
محمد عدنان اکبری نقیبی — فروری 2، 2017 8:31 صبح
بہت خوب لکھا۔​
عمر سیف — فروری 3، 2017 2:16 شام

بہت شکریہ

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%85%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%A2%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%84%D9%BE%D9%B9%D8%A7-%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D8%A6%DB%8C-%D8%AF%DB%8C%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92%DB%94-%D8%B9%D9%8F%D9%85%D8%B1-%D8%B3%DB%8C%D9%81.94344/