غَموں سے ہی مجھے فُرصت نہیں ہے۔

ملک حبیب — اگست 25، 2015 3:04 صبح
وہ ظاہر ہے پَسِ خلوت نہیں ہے
نظر آتا ہے بے صورت نہیں ہے
مُحیطِ ذات سے نکلا تو دیکھا
جُدا مجھ سے تری صورت نہیں ہے
ہے پِنہاں ایک دریا میرے اندر
یہاں اشکوں کی کچھ قِلت نہیں ہے
مری آنکھوں کو گویائی ملی ہے
مجھے لفظوں کی اب حاجت نہیں ہے
وفا کے نام سے ڈرتے ہو کیونکر
یہ سُنت ہے میاں بِدعت نہیں ہے
تمہاری بے نیازی پر بھی چُپ ہوں
وہ پہلی سی مِری حالت نہیں ہے
مِرے حِصے کی خوشیاں بانٹ ڈالو
غموں سے ہی مجھے فُرصت نہیں ہے
مجھے کچھ ضبط کرنا پڑ رہا ہے
وگرنہ یہ مری عادت نہیں ہے
دِل مُضطر کی بیتابی کا بدلہ
مرے مولا فقط جنت نہیں ہے
حبیب اِک شور سے اب واسطہ ہے
سکوں کی آجکل عادت نہیں ہے
کلام ملک حبیب
محمد وارث — اگست 25، 2015 4:26 صبح
خوب ہے ملک صاحب
نورالحسن جوئیہ — اگست 25، 2015 10:59 صبح
خوب کہا
آوازِ دوست — اگست 25، 2015 11:17 صبح
ملک صاحب بہت خوب! اور آپ کے کلام کا ایک مکینیکل ترنم اور نپا تُلا انداز یہ گواہی دے رہا ہے کہ آپ نے جُملہ جان لیوا قواعد کا پورا پورا خیال رکھا ہے :)
ملک حبیب — اگست 25، 2015 11:41 صبح
محمد وارث صاحب ، نُور الحسن جوئیہ اور آوازِ دوست شکر گزار ہوں آپ کی محبتوں کا۔
محمد اطھر طاھر — اکتوبر 12، 2015 10:24 صبح
مری آنکھوں کو گویائی ملی ہے
مجھے لفظوں کی اب حاجت نہیں ہے
بہت خوب ملک صاحب۔۔
ملک حبیب — اکتوبر 13، 2015 11:39 شام
بہت شکریہ جناب
کاشف اسرار احمد — اکتوبر 16، 2015 8:44 شام
دِل مُضطر کی بیتابی کا بدلہ
مرے مولا فقط جنت نہیں ہے
کیا خوب غزل ہے حبیب بھائی۔
اور اس شعر نے تو لطف دوآتشہ کر دیا۔
ملک حبیب — اکتوبر 19، 2015 3:12 شام
کاشف اسرار احمد صاحب سپاس گزار ہوں۔

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%BA%D9%8E%D9%85%D9%88%DA%BA-%D8%B3%DB%92-%DB%81%DB%8C-%D9%85%D8%AC%DA%BE%DB%92-%D9%81%D9%8F%D8%B1%D8%B5%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%DB%81%DB%92%DB%94.84179/