پچھلے دنوں سمیسٹر امتحانات سے فارغ ہوتے ہی کچھ کام نمٹانے کا سوچا تو کام تو نہ کرسکا، البتہ ایک عدد نظم ہوگئی، معلوم نہین کسی بحر میں بھی ہے کہ نہیں، بہرحال وزن کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے میں نے۔۔۔۔ اور یہ بھی نہیں معلوم مجھے کہ یہ آزاد نظم شمار ہوگی یا۔۔۔ فراغت کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔
فراغت جب بھی ملتی ہے،
خوشی سے جھوم جاتا ہوں،
طرب کے نغمے گاتا ہوں،
ہزاروں کام ہوتے ہیں،
جنہیں عرصے سے کرنا ہو،
مگر جووقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،
فراغت جب بھی ملتی ہے،
بس اک یلغار ہوتی ہے،
وہ سارے کام جو میں نے،
ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،
مجھے سب یاد آتے ہیں، فراغت میں بھی اکثر بھر،
بہت مصروف ہوتا ہوں،
مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں،
تذبذب کے اک عا لم میں،
بہت مجبور ہو کر تب،
وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!!
مغزل — جنوری 10، 2009 11:54 صبح
بہت خوب امین قریشی ،
سدا سلامت رہیں ۔ یہ وہی نظم ہے جو آپ نے مجھے موبائل پر ارسال کی تھی۔
نظم بہت خوب ہے ، اس میں وحدتِ تاثر ہے ، موضوع گو کہ ذاتی ہے مگر ہم سب کا
ہے ، نظم اپنے آہنگ میں بھیخوب ہے ، میری ناچیز مبارکباد قبول کیجیے ۔
نظم بحر میں ہے ۔ اور یہ آزاد نظم کہلاتی ہے۔
اللہ کرے زورِقلم اور زیادہ
والسلام
محمد امین — جنوری 10، 2009 11:57 صبح
جزاک اللہ۔۔۔ حوصلہ افزائی پر ممنون ہوں۔۔۔
عمار ابن ضیا — جنوری 10، 2009 2:16 شام
واہ بھئی، امتحانات سے فارغ ہوتے ہی کمال کی انٹری دی ہے۔ بہت اچھی لگی نظم۔ اب سب کام یکبارگی چھوڑ کر بیٹھ تو گئے ہو فراغت میں۔۔۔ کیا ارادہ ہے اب؟
پچھلے دنوں سمیسٹر امتحانات سے فارغ ہوتے ہی کچھ کام نمٹانے کا سوچا تو کام تو نہ کرسکا، البتہ ایک عدد نظم ہوگئی، معلوم نہین کسی بحر میں بھی ہے کہ نہیں، بہرحال وزن کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے میں نے۔۔۔۔ اور یہ بھی نہیں معلوم مجھے کہ یہ آزاد نظم شمار ہوگی یا۔۔۔ فراغت کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔
فراغت جب بھی ملتی ہے،
خوشی سے جھوم جاتا ہوں،
طرب کے نغمے گاتا ہوں،
ہزاروں کام ہوتے ہیں،
جنہیں عرصے سے کرنا ہو،
مگر جووقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،
فراغت جب بھی ملتی ہے،
بس اک یلغار ہوتی ہے،
وہ سارے کام جو میں نے،
ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،
مجھے سب یاد آتے ہیں، فراغت میں بھی اکثر بھر،
بہت مصروف ہوتا ہوں،
مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں،
تذبذب کے اک عا لم میں،
بہت مجبور ہو کر تب،
وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!!
السلام علیکم
محترم محمد امین جی
بہت خوب
فراغت کو خوب مصروف کیا ہے ۔
شاید اسی لیے کہا گیا کہ ۔۔
" جو لوگ کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں "
سو فراغت بھی باکمال کر دیتی ہے ۔
نایاب
ابن سعید — جنوری 10، 2009 3:23 شام
اجی یہ کم ہی لکھتے ہیں
مگر جب جب بھی لکھتے ہیں
قلم کو توڑ دیتے ہیں دلوں کے تار ٹوٹے ہوں
اجی سو بار ٹوٹے ہوں
یہ ان کو جوڑ دیتے ہیں اور بھی کچھ لکھوں یا بس کروں امین بھائی۔
محمد امین — جنوری 11، 2009 11:03 صبح
ابنِسعید۔۔۔ میں نے قلم سے لکھنا چھوڑ دیا ہے ہاہاہاہا۔۔۔۔ اب یا تو موبائل فون میں لکھ کر رکھتا ہوں یا کمپیوٹر میں۔ فنون کی ترقی و جدت ہمارے اس شوق پر بھی حملہ آور ہوئی ہے۔۔۔ ھاھا
ابن سعید — جنوری 11، 2009 11:04 صبح
بھائی یہ منہگے ہوتے ہیں ان کے ساتھ بھی وہ سلوک مت کر بیٹھیے گا جو قلم کے ساتھ کرتے تھے۔
محمد امین — جنوری 11، 2009 11:28 صبح
ان میں اکثر میں یہ کرتا ہوں کہ لکھنے کے کچھ عرصے کے بعد اپنی تخلیقات مٹا دیتا ہوں۔۔ کیوںکہ آج تک اپنی کوئی تحریر اس حد تک پسند نہیں آئی مجھے کہ اس پہ فخر کروں، نہ ہی کچھ اس قابل ہوتا ہے۔۔۔
ابن سعید — جنوری 11، 2009 11:33 صبح
اور میں تو محفل کے کوڑے دن میں ڈال دیتا ہوں اپنی تحریریں۔ سب اکٹھا پڑی رہتی ہیں۔ ابھی آج ایک تھیلا بے پر کی نامی کوڑے دان میں ڈالا ہے۔
محمد امین — جنوری 11، 2009 12:14 شام
کیونکہ تمہاری تحاریر اس قابل ہوتی ہیں کہ انہیں سنبھال کر رکھا جائے
ابن سعید — جنوری 11، 2009 1:44 شام
ہا ہا ہا ہا ہا خوب یعنی صاحبزاے یہاں بھی بے پر کی اڑانے لگے۔
پچھلے دنوں سمیسٹر امتحانات سے فارغ ہوتے ہی کچھ کام نمٹانے کا سوچا تو کام تو نہ کرسکا، البتہ ایک عدد نظم ہوگئی، معلوم نہین کسی بحر میں بھی ہے کہ نہیں، بہرحال وزن کا خیال رکھنے کی کوشش کی ہے میں نے۔۔۔۔ اور یہ بھی نہیں معلوم مجھے کہ یہ آزاد نظم شمار ہوگی یا۔۔۔ فراغت کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔
فراغت جب بھی ملتی ہے،
خوشی سے جھوم جاتا ہوں،
طرب کے نغمے گاتا ہوں،
ہزاروں کام ہوتے ہیں،
جنہیں عرصے سے کرنا ہو،
مگر جووقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،
فراغت جب بھی ملتی ہے،
بس اک یلغار ہوتی ہے،
وہ سارے کام جو میں نے،
ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،
مجھے سب یاد آتے ہیں، فراغت میں بھی اکثر بھر،
بہت مصروف ہوتا ہوں،
مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں،
تذبذب کے اک عا لم میں،
بہت مجبور ہو کر تب،
وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!!
بہت اچھا کرتے ہیں آپ کام چھوڑ کر، فراغت میں کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اچھی آزاد نظم ہے، اور آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس نظم کو وزن میں رکھنے کا قصد کیا اور اس میں کامیاب رہے، فقط ایک مصرعہ تھوڑی گڑ بڑ کر رہا ہے: تذبذب کے اک عالم میں اس کو اگر دیکھ سکیں تو چاند پر یہ دھبا بھی نہیں رہے گا
الف عین — جنوری 11، 2009 5:51 شام
واہ۔۔ اس کوشش کو برقی کوڑے دان میں نہ ڈال دینا۔ واقعی اچھی نظم ہے اور وزن میں مکمل درست ہے۔ بس وہ وارث کی بات کا خیال رہے۔
اس کو مزید واضح کر دوں۔ "عالم" کی ’ع‘ گر رہی ہے جو جائز نہیں۔ مزید تشریح۔۔۔۔ وزن ہے ’مفاعیلن‘ اس پر تقطیع کریں۔
تذبذب کے۔۔۔ مفاعیلن
اکالم میں۔ مفاعیلن
اک عالم، اکالم بن جاتا ہے ’ع‘ گرانے سے۔ یہ غلط ہے
بہت اچھا کرتے ہیں آپ کام چھوڑ کر، فراغت میں کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اچھی آزاد نظم ہے، اور آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس نظم کو وزن میں رکھنے کا قصد کیا اور اس میں کامیاب رہے، فقط ایک مصرعہ تھوڑی گڑ بڑ کر رہا ہے: تذبذب کے اک عالم میں اس کو اگر دیکھ سکیں تو چاند پر یہ دھبا بھی نہیں رہے گا
ہمممم ۔۔۔ میرا حوصلہ بڑھا ہے آپ لوگوں کی ستائش سے۔۔۔ ورنہ تو میں سمجھ رہا تھا کہ جس طرح میرے ناناجان سے بے وزن و بے بحر "اشعار" کہنے پر ڈانٹ پڑتی ہے، ویسی ہی کچھ سننے کو ملے گی، مگر شاید غلط سلط لکھ لکھ کر تھوڑا بہت ٹھیک بھی لکھنے لگا ہوں میں ۔۔ اور اس "تذبذب کے عالم" کا بھی کچھ کرتا ہوں۔۔۔
واہ۔۔ اس کوشش کو برقی کوڑے دان میں نہ ڈال دینا۔ واقعی اچھی نظم ہے اور وزن میں مکمل درست ہے۔ بس وہ وارث کی بات کا خیال رہے۔
اس کو مزید واضح کر دوں۔ "عالم" کی ’ع‘ گر رہی ہے جو جائز نہیں۔ مزید تشریح۔۔۔۔ وزن ہے ’مفاعیلن‘ اس پر تقطیع کریں۔
تذبذب کے۔۔۔ مفاعیلن
اکالم میں۔ مفاعیلن
اک عالم، اکالم بن جاتا ہے ’ع‘ گرانے سے۔ یہ غلط ہے
شکریہ چاچوجان ۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ یہ کس وزن میں لکھ ڈالی ہے میں نے، آپ کے بتانی پر میں نے غور کیا۔۔۔ اب کبھی موڈ بنا تو اس کو ٹھیک کروںگا مگر مشکل ہی ہے۔۔۔ پتا نہیں کیوں ایک مرتبہ لکھنے کے بعد کسی بھی نظم یا غزل کو درست کرنے کا موڈ مہیں بنتا، یا ویسی کیفیت دوبارہ نہیں آتی۔۔۔
واہ۔۔ اس کوشش کو برقی کوڑے دان میں نہ ڈال دینا۔ واقعی اچھی نظم ہے اور وزن میں مکمل درست ہے۔ بس وہ وارث کی بات کا خیال رہے۔
اس کو مزید واضح کر دوں۔ "عالم" کی ’ع‘ گر رہی ہے جو جائز نہیں۔ مزید تشریح۔۔۔۔ وزن ہے ’مفاعیلن‘ اس پر تقطیع کریں۔
تذبذب کے۔۔۔ مفاعیلن
اکالم میں۔ مفاعیلن
اک عالم، اکالم بن جاتا ہے ’ع‘ گرانے سے۔ یہ غلط ہے
بہت اچھا کرتے ہیں آپ کام چھوڑ کر، فراغت میں کوئی کام نہیں کرنا چاہیے اچھی آزاد نظم ہے، اور آپ مبارکباد کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس نظم کو وزن میں رکھنے کا قصد کیا اور اس میں کامیاب رہے، فقط ایک مصرعہ تھوڑی گڑ بڑ کر رہا ہے: تذبذب کے اک عالم میں اس کو اگر دیکھ سکیں تو چاند پر یہ دھبا بھی نہیں رہے گا
فراغت کیسی ہوتی ہے۔۔۔۔
فراغت جب بھی ملتی ہے،
خوشی سے جھوم جاتا ہوں،
طرب کے نغمے گاتا ہوں،
ہزاروں کام ہوتے ہیں،
جنہیں عرصے سے کرنا ہو،
مگر جووقت نہ ملنے پہ اکثر چھوڑ دیتا ہوں،
فراغت جب بھی ملتی ہے،
بس اک یلغار ہوتی ہے،
وہ سارے کام جو میں نے،
ادھورے چھوڑے ہوتے ہیں،
مجھے سب یاد آتے ہیں، فراغت میں بھی اکثر پھر،
بہت مصروف ہوتا ہوں،
مگر پھر تھک کے میں بستر پہ اپنے بیٹھ جاتا ہوں، تذبذب اور تھکن سے پھر،
بہت مجبور ہو کر تب،
وہ سارے کام میں یکبارگی میں چھوڑ دیتا ہوں!!! میرا خیال ہے اب وزن کا مسئلہ نہیں رہ گیا۔
ایم اے راجا — جولائی 5، 2009 7:34 صبح
بہت خوب امین، بہت کمال، ایک زاتی مسئلہ کو جو کہ بقولِ مغل صاحب ہم سب کا ہے واقعی آپن نے بہت خوب نظم کیا مبارک ہو
محمد امین — جولائی 5، 2009 1:54 شام
نوازش ہے بھائی میں کہاں اس قابل، بس یہ آپ صاحبان کی صحبت کا اثر ہے۔۔۔