فراق ِ یار

سیدہ سارا غزل — اکتوبر 16، 2011 1:27 شام
شبیہ ِ غم کی چمک تابناک ہو جائے
ملے نہ درد اگر زیست خاک ہو جائے
غزل کہیں کہ سُنیں شام ِ سرمئی سے غزل
فراق ِ یار سے گر سینہ چاک ہو جائے
سیدہ سارا غزل ہاشمی
محمد امین — اکتوبر 16، 2011 1:36 شام
واہ واہ۔۔۔ کیا مصرعہ ہے صاحب۔۔ غزل کہیں کہ سنیں شامِ سرمئی سے غزل۔۔۔ بہت خوب۔۔
سیدہ سارا غزل — اکتوبر 16، 2011 1:45 شام
شکریہ محمد امین صاحب ، سدا سلامت رہیں
الف عین — اکتوبر 16، 2011 4:29 شام
اچھے اشعار ہیں، غزل کے ہیں۔ لیکن عنوان کیوں۔ پہلے بھی غزل کا عنوان دیا گیا تھا، معلوم نہیں کس لئے؟

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B1%D8%A7%D9%82-%D9%90-%DB%8C%D8%A7%D8%B1.34829/