فریب کھا کر بھی

رشید حسرت — اگست 23، 2021 5:18 شام
اسے بُھلا نہ سکا میں کبھی، بُھلا کر بھی
قرِیب رہتا ہے دل کے، وہ دُور جا کر بھی
وہ جس کے ایک اِشارے پہ جان حاضر کی
اُسی نے منہ نہیں دیکھا کفن ہٹا کر بھی
وہ ایک دور کہ تنہائیوں تھیں بزم مثال
ابھی اکیلا ہوں محفل کوئی سجا کر بھی
غضب خُدا کا ستم گر جلائے چشم چراغ
کسی غریب کے دل کا دیّا بُجھا کر بھی
اگرچہ کرتا رہا ہوں بہت ادا کاری
رہی ہے آنکھ مگر نم سی مُسکرا بھی
کسی نے کھو دیا سب کُچھ ولے ہے سب سے امیر
گدا لگا کوئی مجبور جسم پا کر بھی
ہماری قوم ہے سویا ہؤا محل گویا
کرے گا کیا اِنہیں بیکار میں جگا کر بھی
وہ اپنے دور کی اِک عہد ساز ہستی تھے
بلوچ قوم کے سرخیل میر چاکرؔ بھی
غضب کا حوصلہ پایا ہے تُو نے میرے رشیدؔ
رکھا لبوں پہ تبسّم فریب کھا کر بھی
رشید حسرتؔ
ریحان احمد ریحانؔ — اگست 23، 2021 6:25 شام
بہت خوب
زوجہ اظہر — اگست 23، 2021 6:35 شام
بہت خوب واہ
تنہائیوں ؟ کہیں ٹائپو تو نہیں
صابرہ امین — اگست 24، 2021 12:13 شام
اسے بُھلا نہ سکا میں کبھی، بُھلا کر بھی
قرِیب رہتا ہے دل کے، وہ دُور جا کر بھی
وہ جس کے ایک اِشارے پہ جان حاضر کی
اُسی نے منہ نہیں دیکھا کفن ہٹا کر بھی
وہ ایک دور کہ تنہائیوں تھیں بزم مثال
ابھی اکیلا ہوں محفل کوئی سجا کر بھی
غضب خُدا کا ستم گر جلائے چشم چراغ
کسی غریب کے دل کا دیّا بُجھا کر بھی
اگرچہ کرتا رہا ہوں بہت ادا کاری
رہی ہے آنکھ مگر نم سی مُسکرا بھی
کسی نے کھو دیا سب کُچھ ولے ہے سب سے امیر
گدا لگا کوئی مجبور جسم پا کر بھی
ہماری قوم ہے سویا ہؤا محل گویا
کرے گا کیا اِنہیں بیکار میں جگا کر بھی
وہ اپنے دور کی اِک عہد ساز ہستی تھے
بلوچ قوم کے سرخیل میر چاکرؔ بھی
غضب کا حوصلہ پایا ہے تُو نے میرے رشیدؔ
رکھا لبوں پہ تبسّم فریب کھا کر بھی
رشید حسرتؔ
بہت سی داد قبول کیجیے ۔
رشید حسرت — اگست 25، 2021 4:18 صبح
بہت سی داد قبول کیجیے ۔
بڑی عنایت حضور۔ خوش رہیئے
رشید حسرت — اگست 27، 2021 7:58 شام
بہت سی داد قبول کیجیے ۔
شکریہ
رشید حسرت — ستمبر 2، 2021 2:07 شام
نوازش، مہربانیاں حضور

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B1%DB%8C%D8%A8-%DA%A9%DA%BE%D8%A7-%DA%A9%D8%B1-%D8%A8%DA%BE%DB%8C.117268/