فعولن فعولن فعولن فعولن 2 (آؤ مثنوی بنائیں)

محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 11:11 صبح
یہاں مثنوی اب بنانی ہے ہم کو
کہ پیاس اس کی بھی اب بجھانی ہے ہم کو
چلے آؤ اور مثنوی اک بناؤ
ذخیرے کو اردو کے مل کر بڑھاؤ
جو دل میں ہے کہہ دو اسی مثنوی میں
اضافہ کرو یاں گھڑی دو گھڑی میں
الف عین! آجاؤ ، آسی! بھی آؤ
مزمل! چلے آؤ کاشی! بھی آؤ
کہاں ہو منیب! اور کہاں ہو اے احمد!
کہاں ہو اے منصور آفاق! و امجد!
اے فاتح! چلے آؤ دیکھو یہ کیا ہے
اے یازر! اسامہ نظر مانگتا ہے
مغزل!! ، حفیظ! اور امجد! بھی آؤ
زبیر! اور محمود، اسد کو بلاؤ
کہاں ہو تم احسن! یہاں جلد آؤ
ظہیر ، ایس ، عاطف کو ہمراہ لاؤ
اے ابرار! آؤ سلیمان! آؤ
حمید! آؤ تم اور عمران! آؤ
کہاں ہو اے خرم!، کہاں ہو اے وارث!
ہے محفل میں دم تو تمھارے ہی باعث
جو باقی ہیں حضرات! آجائیں وہ بھی
نہ لینے پہ نام ان کا ، دے دیں معافی
جو باقی ہیں شاعر ، انھیں بھی ہے دعوت
چلے آئیں ، کرلیں یہاں سب شراکت
خرم شہزاد خرم — فروری 19، 2013 11:38 صبح
یہاں مثنوی اب بنانی ہے ہم کو
کہ پیاس اس کی بھی اب بجھانی ہے ہم کو
چلے آؤ اور مثنوی اک بناؤ
ذخیرے کو اردو کے مل کر بڑھاؤ
جو دل میں ہے کہہ دو اسی مثنوی میں
اضافہ کرو یاں گھڑی دو گھڑی میں
الف عین! آجاؤ ، آسی! بھی آؤ
مزمل چلے آؤ کاشی! بھی آؤ
کہاں ہو اے خرم! کہاں ہو اے وارث!
کہاں ہو منیب! اور کہاں ہو اے احمد!
کہاں ہو اے منصور آفاق و امجد!!
اے فاتح! چلے آؤ دیکھو یہ کیا ہے
اے یازر! اسامہ نظر مانگتا ہے
مغزل! ، حفیظ! اور امجد! بھی آؤ
زبیر اور محمود اسد کو بلاؤ
ہے محفل میں دم تو تمھارے ہی باعث
جو باقی ہیں حضرات آجائیں وہ بھی
نہ لینے پہ نام ان کا ، دے دیں معافی
میں آ تو گیا ہوں مگر ہوں اناڑی
یہاں چاہیے کوئی ماہر کھلاڑی
الف عین وارث یا پھر آئیں آسی
کہاں ہم ہیں ماہر کہاں ہم لکھاڑی
خرم شہزاد خرم — فروری 19، 2013 11:42 صبح
میں شاعر تو ہوں پر ، میں شاعر نہیں ہوں
میں حضرت کے جیسا تو ماہر نہیں ہوں
میں لکھنے پہ آؤں تو کب بات ہوگی
یہاں دن کروں گا وہاں رات ہوگی
غزل بھی ہے مشکل نظم بھی ہے مشکل
ارے
مثنوی کب کہاں ہو مکمل​
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 11:44 صبح
میں آ تو گیا ہوں مگر ہوں اناڑی
یہاں چاہیے کوئی ماہر کھلاڑی
الف عین وارث یا پھر آئیں آسی
کہاں ہم ہیں ماہر کہاں ہم لکھاڑی
خوشا آپ آئے ، زہے رونق افروز
ہے امید ، آئیں گے یاں آپ ہرروز
خرم شہزاد خرم — فروری 19، 2013 12:00 شام
خوشا آپ آئے ، زہے رونق افروز
ہے امید ، آئیں گے یاں آپ ہرروز
جہاں خانہ پوری ہو کرنی ضروری
وہاں حاضری ہو گی اپنی ضروری
نامعلوم اول — فروری 19، 2013 12:04 شام
عزیزانِ من کیا مبارک گھڑی ہے​
نئی مثنوی ہے نئی اک لڑی ہے​
کیا ہے اسامہ نے آغاز اچھا​
لگا ہے مجھے اس کا انداز اچھا​
نہیں جانتا کیا کہانی بنے گی​
مگر کچھ بھی ہو، یاد ہم کو رہے گی​
چلو وہ دکھائیں قلم کی روانی​
ملے "مثنوی" کو نئی زندگانی​
مزہ آئے گا جب سبھی آ ملیں گے​
نئی طرز میں دل کی باتیں کریں گے​
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 12:18 شام
عزیزانِ من کیا مبارک گھڑی ہے​
نئی مثنوی ہے نئی اک لڑی ہے​
کیا ہے اسامہ نے آغاز اچھا​
لگا ہے مجھے اس کا انداز اچھا​
نہیں جانتا کیا کہانی بنے گی​
مگر کچھ بھی ہو، یاد ہم کو رہے گی​
چلو وہ دکھائیں قلم کی روانی​
ملے "مثنوی" کو نئی زندگانی​
مزہ آئے گا جب سبھی آ ملیں گے​
نئی طرز میں دل کی باتیں کریں گے​
”نئی طرز“ ہے یا ”نیا طرز“ ہے یہ؟
بتائیں مجھے آپ کیا طرز ہے یہ؟
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 12:19 شام
عزیزانِ من کیا مبارک گھڑی ہے​
نئی مثنوی ہے نئی اک لڑی ہے​
کیا ہے اسامہ نے آغاز اچھا​
لگا ہے مجھے اس کا انداز اچھا​
نہیں جانتا کیا کہانی بنے گی​
مگر کچھ بھی ہو، یاد ہم کو رہے گی​
چلو وہ دکھائیں قلم کی روانی​
ملے "مثنوی" کو نئی زندگانی​
مزہ آئے گا جب سبھی آ ملیں گے​
نئی طرز میں دل کی باتیں کریں گے​
روانی ہے کاشف کے جملوں میں اب بھی
نظر نہ لگے ، کہہ دو ، ”ماشاءربی“
خرم شہزاد خرم — فروری 19، 2013 12:35 شام
یہاں مبتدی بھی ہیں، استادبھی ہیں​
نہیں ہیں جو شاعر تو وہ فلسفی ہیں​
جو یہ بھی نہیں وہ تماشائی تو ہیں​
نہیں صاحبِ فن، مگر بھائی تو ہیں​
نہیں غم اگر کوئی کچاّ ابھی ہے​
کہ کچیّ بھی ہو، شاعری، شاعری ہے​
تو خرم نہ ڈرنا، اناڑی اگر ہو​
بنو گے کھلاڑی، جو لکھتے رہے، تو​
اسامہ سے سیکھو کہ کیا ہے ڈھٹائی​
کہ ڈھیٹوں کا سردار ہے میرا بھائی​
مگر پھر بھی لگتا ہے پیارا اسامہ​
جگر کا ہے ٹکڑا، دلارا اسامہ​
خرم شہزاد خرم، محمد اسامہ سَرسَری
محمد یعقوب آسی — فروری 19، 2013 12:35 شام
مثنوی کے اوزان صرف ’’فعولن فعولن ۔۔۔ ‘‘ نہیں ہیں جناب۔ اور ’’مثنوی بنائیں‘‘ اس میں کچھ مزاح سا نہیں ہے کیا؟
۔۔۔۔ دیکھ لیجئے گا۔
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 12:42 شام
مثنوی کے اوزان صرف ’’فعولن فعولن ۔۔۔ ‘‘ نہیں ہیں جناب۔ اور ’’مثنوی بنائیں‘‘ اس میں کچھ مزاح سا نہیں ہے کیا؟
۔۔۔ ۔ دیکھ لیجئے گا۔
بہت شکریہ ، متفق ہوں میں ، لیکن
نہیں حصر کا دعوی میرا بباطن
اگر آگیا ہے مزاح اس میں حضرت
نہیں اس میں کچھ بھی ہرج اور حیرت
نامعلوم اول — فروری 19، 2013 12:46 شام
”نئی طرز“ ہے یا ”نیا طرز“ ہے یہ؟
بتائیں مجھے آپ کیا طرز ہے یہ؟
اسامہ وہی حرکتیں ہیں تمہاری​
بغیرِ سند بات تم نے بنائی​
ذرا دیکھ لو تم لغت کوئی بھیاّ​
ہوئی ہے کہیں گم لغت کوئی بھیا​
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 12:49 شام
اسامہ وہی حرکتیں ہیں تمہاری​
بغیرِ سند بات تم نے بنائی​
ذرا دیکھ لو تم لغت کوئی بھیاّ​
ہوئی ہے کہیں گم لغت کوئی بھیا​
وہی حرکتیں ہی رہیں گی ہماری
کہ ہم سیکھتڑ ، آپ اچھے لکھاری
کوئی اعتراض آپ پر تو نہیں ہے
کیا اک سوال آپ سے تھا یہ میں نے
”نئی طرز“ ہے یا ”نیا طرز“ ہے یہ؟
بتائیں مجھے آپ کیا طرز ہے یہ؟
مغزل — فروری 19، 2013 1:08 شام
نہ بادِ صبا اور نہ صرصر۔۔ نہ سَر سَر
بہت خوب کاوشاُسامہ تمھاری !
اگر مصرع ثانی کچھ ایسا ہو ، کیا ہو ؟
مغزل۔۔ مغزل ۔۔ مغزل۔۔ مغزل
:angel::):battingeyelashes:
نامعلوم اول — فروری 19، 2013 1:13 شام
مثنوی کے اوزان صرف ’’فعولن فعولن ۔۔۔ ‘‘ نہیں ہیں جناب۔ اور ’’مثنوی بنائیں‘‘ اس میں کچھ مزاح سا نہیں ہے کیا؟
۔۔۔ ۔ دیکھ لیجئے گا۔

مکمل علم تو نہیں، مگر بحر متقارب مثمن کے علاوہ، رمل مسدس، ہزج مسدس، سریع مسدس، خفیف مسدس اور متدارک مثمن کی مختلف صورتیں مثنوی کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
مزمل شیخ بسمل — فروری 19، 2013 1:32 شام
بہت شکریہ ، متفق ہوں میں ، لیکن
نہیں حصر کا دعوی میرا بباطن
اگر آگیا ہے مزاح اس میں حضرت
نہیں اس میں کچھ بھی ہرج اور حیرت
ارے اب مری بھی ذرا بات سن لو
بحور اسکی جو منتخب ہیں، وہ چن لو
یہ بحر اصل میں مثنوی کی نہیں ہے
توگویا یہ اب مثنوی ہی نہیں ہے
تو محذوف بحرِ تقارب ہی حل ہے
×جو! فعولن فعولن فعولن فعَل ہے
×یہ "جو" کا اضافہ ایک زحاف کے تحت کیا گیا ہے۔
مثنوی کی مخصوص بحور ہیں جن میں مثنوی کہی جاتی ہے۔ ان کے نام اور اوزان:
1۔ بحرِ متقارب مثمن محذوف:
فعولن فعولن فعولن فعل
2۔ بحرِ ہزج مسدس محذوف:
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
3۔ بحرِ ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف:
مفعولُ مفاعلن فعولن
4۔ بحرِ خفیف مسدس مخبون محذوف:
فاعلاتن مفاعلن فعِلن
5۔ بحر رمل مسدس محذوف:
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
6۔ بحرِ رمل مسدس مخبون محذوف:
فعلاتن فعلاتن فعلن
7۔ بحرِ سریع مسدس محذوف:
مفتعلن مفتعلن فاعلن
بہت آداب۔
محمد یعقوب آسی
کاشف عمران
محمد اسامہ سَرسَری
خرم شہزاد خرم
محمد بلال اعظم
نامعلوم اول — فروری 19، 2013 1:37 شام
وہی حرکتیں ہی رہیں گی ہماری
کہ ہم سیکھتڑ ، آپ اچھے لکھاری
کوئی اعتراض آپ پر تو نہیں ہے
کیا اک سوال آپ سے تھا یہ میں نے

خدا کے لیے ہوش میں آ بھی جاؤ​
یہ کیا لفظ ہے "سیکھتڑ" تم بتاؤ؟​
نہیں اس طرح شاعری ہم سے ہوتی​
گدھی کو کہو تم یہاں آ کے "کھوتی"​
زباں کو بگاڑو، روا یہ نہیں ہے​
چمن کو اجاڑو، روا یہ نہیں ہے​
نہیں قافیے بھی درست آپ کے کچھ​
کہ "ہے" اور "نے" بھی نہیں قافیےکچھ​
کہاں اس طرح مثنوی ہو سکے گی؟​
فقط بے تکی شاعری ہو سکے گی​
محمد اسامہ سَرسَری — فروری 19، 2013 1:37 شام
بہت شکریہ آپ کا اے مزمل
مگر متفق ہوں نہیں تم سے کامل
فعولن فعولن فعولن فعولن
یہ بھی مثنوی ہے ، کہیں سے لو سن گن
محمد بلال اعظم — فروری 19، 2013 1:40 شام
زبردست اور بیحد معلوماتی مزمل شیخ بسمل بھائی اور محمد اسامہ سَرسَری بھائی
نامعلوم اول — فروری 19، 2013 1:45 شام
ارے اب مری بھی ذرا بات سن لو
بحور اسکی جو منتخب ہیں، وہ چن لو
یہ بحر اصل میں مثنوی کی نہیں ہے
توگویا یہ اب مثنوی ہی نہیں ہے

میری ایک پرانی بیاض میں بھی ایسے ہی لکھا ہے۔ یہاں تک میں آپ کی تائید کرتا ہوں۔ مگر میری ذاتی رائے میں فی زمانہ"فعولن فعولن فعولن فعولن"
میں مثنوی کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ ویسے بھی علم عروض اب اپنی افادیت تقریبا کھو چکا ہے۔ نہ استاد رہے۔ نہ لوگوں میں اس کا مذاق کہا۔ پھر نیا تجربہ کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ کچھ پتھر پر لکیر تو ہے نہیں، کہ مٹا ئی نہ جا سکے۔
صفحات: 1 2 3 4 5

Archived from: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-%D9%81%D8%B9%D9%88%D9%84%D9%86-2-%D8%A2%D8%A4-%D9%85%D8%AB%D9%86%D9%88%DB%8C-%D8%A8%D9%86%D8%A7%D8%A6%DB%8C%DA%BA.60113/