عاطف ملک — اکتوبر 16، 2019 6:05 شام
فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو
لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو
خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو
لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو
خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
خدا کرے کہ کسی سے بھی اس کو پیار نہ ہو
بچھڑنے والے بھی لَوٹے ہیں آہ و زاری سے؟
کسی کے واسطے عاطفؔ یوں سوگوار نہ ہو
عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
فاخر رضا — اکتوبر 17، 2019 4:18 صبح
لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو
بہترین دعا
خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو
بہت اعلیٰ
لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو
اگر خدا نے روگ لگا دیا ہو تو کیا کہیے گا
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 17، 2019 7:45 صبح
ماشاءاللہ ۔
بہت عمدہ غزل ۔
خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
بھیا شاید یہاں ٹائپو ہے ، درست کر لیں ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 17، 2019 7:59 صبح
بھیا شاید یہاں ٹائپو ہے ، درست کر لیں ۔
ہم نے بہت گھور گھور کر دیکھا لیکن ٹائیپو نہ پاسکے۔ کچھ مدد فرمائیے!
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 17، 2019 8:36 صبح
ہم نے بہت گھور گھور کر دیکھا لیکن ٹائیپو نہ پاسکے۔ کچھ مدد فرمائیے!
خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
بیتے
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 17، 2019 8:38 صبح
آہا اب سمجھے۔ یہ لکھاری کا کمال نہیں بلکہ شاید فونٹ کی کارستانی ہے۔ آپ کو ت کے بجائے ٹ نظر آرہا ہوگا۔
محمد عدنان اکبری نقیبی — اکتوبر 17، 2019 8:39 صبح
بیتے
آہا اب سمجھے۔ یہ لکھاری کا کمال نہیں بلکہ شاید فونٹ کی کارستانی ہے۔ آپ کو ت کے بجائے ٹ نظر آرہا ہوگا۔
جی سر یہ فونٹ کا ہی مسئلہ ہے ۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 17، 2019 8:42 صبح
بیتے
جی سر یہ فونٹ کا ہی مسئلہ ہے ۔
یعنی آپ کو پہلے سے علم تھا ؟
ظہیراحمدظہیر — اکتوبر 17، 2019 4:07 شام
واہ واہ واہ!! بہت خوب ! کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
کلاسیکی غزلیہ مضامین اور شستہ زبان! ماشاء اللہ آپ کی غزل کا رنگ نکھرتا جارہا ہے ۔
مطلع کے بارے میں ایک چھوٹا سا نکتہ گوش گزار ہے اور وہ یہ کہ واؤ عطف کے ساتھ اس طرح کی ترکیب میں نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون ہوا کرتا ہے ۔ یعنی پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے: فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
عاطف ملک — اکتوبر 18، 2019 2:15 صبح
بہت شکریہ
اگر خدا نے روگ لگا دیا ہو تو کیا کہیے گا
ماشاءاللہ ۔
بہت عمدہ غزل ۔
بھیا شاید یہاں ٹائپو ہے ، درست کر لیں ۔
شکریہ عدنان بھائی،
مجھے بھی فانٹ کی وجہ سے کافی مسئلہ ہوا تھا۔
واہ واہ واہ!! بہت خوب ! کیا اچھی غزل ہے عاطف بھائی !
کلاسیکی غزلیہ مضامین اور شستہ زبان! ماشاء اللہ آپ کی غزل کا رنگ نکھرتا جارہا ہے
بہت بہت شکریہ محترم ظہیر صاحب

آپ وقت نکال کر یہ اشعار پڑھتے ہیں اور اپنی پھر اپنی رائے بھی دیتے ہیں تو بہت خوشی ہوتی ہے
مطلع کے بارے میں ایک چھوٹا سا نکتہ گوش گزار ہے اور وہ یہ کہ واؤ عطف کے ساتھ اس طرح کی ترکیب میں نون غنہ کے بجائے اعلانِ نون ہوا کرتا ہے ۔ یعنی پہلا مصرع یوں ہونا چاہئے: فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
فارسی کی تراکیب کے حوالے سے اکثر کنفیوژن رہتی ہے کہ کہاں ں غنہ ہو گا اور کہاں معلنہ

ن کا اعلان کر دیتے ہیں، مصرع تو بحر میں ہی رہے گا نا!
کیوں
یاسر شاہ بھائی؟
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 18، 2019 2:24 صبح
فغاں و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو
لبوں پہ تذکرہ، دل میں خیالِ یار نہ ہو
دعا ہے عمر میں میری وہ پل شمار نہ ہو
خدایا ضبط عطا کر پہ اس قدر بھی نہ کر
کہ حالِ دل مرا ان پر ہی آشکار نہ ہو
لگایا جس نے مجھے روگ زندگی بھر کا
وہ زندگی میں کبھی غم سے ہم کنار نہ ہو
خدا کرے کہ نہ بیتے شبِ فراق اس پر
خدا کرے کہ کسی سے بھی اس کو پیار نہ ہو
بچھڑنے والے بھی لَوٹے ہیں آہ و زاری سے؟
کسی کے واسطے عاطفؔ یوں سوگوار نہ ہو
عاطفؔ ملک
اکتوبر ۲۰۱۹
خوبصورت خوبصورت۔
محمد خلیل الرحمٰن — اکتوبر 18، 2019 2:28 صبح
ن کا اعلان کر دیتے ہیں، مصرع تو بحر میں ہی رہے گا نا!
اعلان تو پھر سُرخی ہی سے ہوتا ہے! ہم نے سُرخی میں بھی ن کا اعلان کردیا ہے۔
عاطف ملک — اکتوبر 18، 2019 2:31 صبح
بہت شکریہ استادِ محترم
اعلان تو پھر سُخی ہی سے ہوتا ہے! ہم نے سُرخی میں بھی ن کا اعلان کردیا ہے۔
میرے پاس پوسٹ کی تدوین کا آپشن نہیں، ادھر بھی آپ ہی "اعلان" کر دیجیے

یاسر شاہ — اکتوبر 18، 2019 5:54 شام
خوب غزل ہے بھائی عاطف
فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو
گو اعلان نون سے اصول کی رعایت تو ہو گئی -مگر ابتدائی "ن -و-نا"کی آواز سے صوتی تنافر در آیا ہے - "فغان و نالہ" کی جگہ "بُکاونالہ " کیا جا سکتا ہے -
جاسمن — اکتوبر 18، 2019 6:22 شام
بہت اعلیٰ۔
واہ واہ!
خوبصورت اشعار۔
فرحان محمد خان — اکتوبر 20، 2019 8:12 صبح
عاطف بھائی کیا کہنے واہ واہ واہ کیا عمدہ غزل ہے
عاطف ملک — اکتوبر 20، 2019 3:18 شام
خوب غزل ہے بھائی عاطف
فغان و نالہ و شیون پہ اختیار نہ ہو
کسی کے ہجر میں یوں کوئی بے قرار نہ ہو
گو اعلان نون سے اصول کی رعایت تو ہو گئی -مگر ابتدائی "ن -و-نا"کی آواز سے صوتی تنافر در آیا ہے - "فغان و نالہ" کی جگہ "بُکاونالہ " کیا جا سکتا ہے -
صوتی تنافر کا تو یقیناً احساس ہے۔
چلیں دیکھتا ہوں۔بہت بہت شکریہ کہ آپ نے اتنا اچھا مشورہ دیا۔
غزل کی تعریف کیلیے ممنون ہوں
بہت اعلیٰ۔
واہ واہ!
خوبصورت اشعار۔
بہت شکریہ آپا
عاطف بھائی کیا کہنے واہ واہ واہ کیا عمدہ غزل ہے
