غزل: فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے
زمیں کو بھی اسی رفتار پر رکھا ہوا ہے ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے دیکھا
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے کسے کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے ہوا سے جنگ لڑنے کی یہ ہے پہلی علامت
نشیمن میں جو اک بیکار پر رکھا ہوا ہے ذرا بھی یہ نہیں سرکا کسی نیکی کے بدلے
عجب پتھر ہمارے غار پر رکھا ہوا ہے شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے
ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے پلٹ کر آ ہی جائے گا کبھی بھولے سے شاید
سو میں نے اک دیا دیوار پر رکھا ہوا ہے ( از: ذرا جو تم ٹھہر جاتے)
مغزل — نومبر 12، 2008 1:00 شام
سرکار رسید حاضر ہے بندہ کل حاضر ہوتا ہے۔۔ زحمت کو معذرت خواہ ہوں۔
والسلام
فرخ منظور — نومبر 12، 2008 2:33 شام
بہت اچھی غزل ہے- شکریہ آصف صاحب!
الف نظامی — نومبر 12، 2008 2:37 شام
ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے دیکھا
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے واہ!
محمد وارث — نومبر 13، 2008 5:23 صبح
بہت اچھی غزل ہے آصف صاحب، لا جواب!
زھرا علوی — نومبر 13، 2008 5:51 صبح
بہت خوبصورت غزل ہے آصف صاحب۔۔۔
داد قبول ہو۔۔۔
شکریہ۔۔۔
مغزل — نومبر 13، 2008 6:38 صبح
غزل: فلک کو کس نے اک پرکار پر رکھا ہوا ہے
زمیں کو بھی اسی رفتار پر رکھا ہوا ہے اچھا مطلع ہے ، بیان معلوم حقیقت کا ہے ، مگر سوال سے شعر ہوگیا ہے ۔۔ واہ۔ واہ ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے دیکھا
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے داخلی کیفیات کا امیجری اظہار، خؤبصورت شعر ہے ، واہ۔۔ واہ ۔ کسی کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے ہممم ۔۔ واہ ۔۔ اچھا شعر ہے مگر غزل کے درج بالا اشعار کے مزاج سے منحرف ہوچلا ہے۔
کسی میں تحریر کی غلطی رہی اور اٹھاتے کی
بجائے اگر بڑھاتے تو محلِ نظر نہ ہوتا ۔۔ ویسے آپ کی رائے صائب ہے۔۔ ہوا سے جنگ لڑنے کی یہ ہے پہلی علامت
نشیمن میں جو اک بیکار پر رکھا ہوا ہے شعر اچھا ہے ، بُنَد بھی خوب ہے ، مگر یہ آخری علامت کو پہلی علامت ، سمجھنے سے قاصر ہوں۔
ذرا بھی یہ نہیں سرکا کسی نیکی کے بدلے
عجب پتھر ہمارے غار پر رکھا ہوا ہے درونِ ذات کی کیفیات کو خارج سے منطبق کرنے اور استعارے کی زبان پر داد حاضر ہے ۔۔ خوب شعر ہے واہ۔۔ شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے
ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے شعر اچھا ہے ، المیہ کی طرف اشارہ ہے، کنایہ کا رخ بھی جھلکتا ہے، مصرع اولی میں ’’ ہے ‘‘
تقابلِ ردیفین کی شکل اختیار کرنے کو ہے ۔۔ طبیعت پر بار ہونے کی پیشگی معذرت ۔۔ (آتا کرکے جان چھوٹسکتی ہے) پلٹ کر آ ہی جائے گا کبھی بھولے سے شاید
سو میں نے اک دیا دیوار پر رکھا ہوا ہے ضمیرِ موصولہ کی کمی بہرحال ہے ، (یعنی ’’وہ‘‘ شاید )، شعر عمومی پیرائے میںہے ،
آپ کے مزاج سے لگّا نہیں کھاتا ، ( از: ذرا جو تم ٹھہر جاتے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف شفیع صاحب ، آداب
گو کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ کسی سینیئر کے کلام پر رائے زنی کروں مگر جب یہاں سیکھنے کو آیا ہوں تو امید ہے
کہ آپ میری کج فہمی و کم علمی کو خطائے "طفلاں" خیال کرکے ، شفقت سے پیش آئیں گے۔
والسلام
غزل: مغل صاحب! آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے غزل کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ فورم پر کلام پیش کرنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہےکہ کلام کے بارے میں دوسرے لوگوں کی آرا معلوم ہو سکیں۔ تمام شعروں کے بارے میں آپ کی رائے بہت معتبر ہے۔ البتہ آپ کی آرا سے کچھ مزید وضاحت کی ضرورت پیدا ہوئی ہے -احباب سے گذارش ہے کہ اس پر تفصیلی بحث فرمائیں۔ کسی کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے ہممم ۔۔ واہ ۔۔ اچھا شعر ہے مگر غزل کے درج بالا اشعار کے مزاج سے منحرف ہوچلا ہے۔
کسی میں تحریر کی غلطی رہی اور اٹھاتے کی
بجائے اگر بڑھاتے تو محلِ نظر نہ ہوتا ۔۔ ویسے آپ کی رائے صائب ہے۔۔ اگر شعر اچھا ہے تو ٹھیک ہے غزل کے مزاج سے موافقت رکھنا ضروری نہیں۔ مجھے ابھی تک Satisfaction نہیں ہوئی کہ کسی کے سامنے دست طلب اٹھانا صحیح ہے یا بڑھانا ۔ وارث صاحب یا اعجاز صاحب اپنی رائے سے نوازیں۔ ہوا سے جنگ لڑنے کی یہ ہے پہلی علامت
نشیمن میں جو اک بیکار پر رکھا ہوا ہے شعر اچھا ہے ، بُنَد بھی خوب ہے ، مگر یہ آخری علامت کو پہلی علامت ، سمجھنے سے قاصر ہوں۔ ہوا سے جنگ لڑنے کی پہلی علامت سے مراد فرسٹ فلائیٹ ہے ۔ آخری سے آپ کی کیا مراد ہے؟ شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے
ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے شعر اچھا ہے ، المیہ کی طرف اشارہ ہے، کنایہ کا رخ بھی جھلکتا ہے، مصرع اولی میں ’’ ہے ‘‘
تقابلِ ردیفین کی شکل اختیار کرنے کو ہے ۔۔ طبیعت پر بار ہونے کی پیشگی معذرت ۔۔ (آتا کرکے جان چھوٹسکتی ہے)
آتا سے جان چھوٹ نہیں جاتی بلکہ پھنس جاتی ہے۔ شعر بے وزن ہو جاتا ہے۔ ردیف العین کا مسئلہ ضرور ہے لیکن اگر مصرعے کو چھیڑیں تو شعرکی روانی متا ثر ہو گی۔ غزل میں ایک آدھ شعر میں اتنا برا نہیں لگتا بشرطیکہ دوسری اچھی آپشن موجود نہ ہو تو۔ پلٹ کر آ ہی جائے گا کبھی بھولے سے شاید
سو میں نے اک دیا دیوار پر رکھا ہوا ہے ضمیرِ موصولہ کی کمی بہرحال ہے ، (یعنی ’’وہ‘‘ شاید )، شعر عمومی پیرائے میںہے ،
آپ کے مزاج سے لگّا نہیں کھاتا ،
کوئی دوسری آپشن؟
اور شاید کی جگہ آصف کیسا رہے گا؟ [/color]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آصف شفیع صاحب ، آداب
گو کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ کسی سینیئر کے کلام پر رائے زنی کروں مگر جب یہاں سیکھنے کو آیا ہوں تو امید ہے
کہ آپ میری کج فہمی و کم علمی کو خطائے "طفلاں" خیال کرکے ، شفقت سے پیش آئیں گے۔
والسلام
بہت شکریہ آصف صاحب۔
آتا سے میری مراد قطعی یہ نہ تھی کے ہے کی بجائے آتا رکھیں۔۔
ہے اور آتا کا وزن مجھے کم کم سہی مگرآتا ہے۔۔
بیکار پر کی بابت میری رائے اپنی جگہ ہے کہ میںایک قاری کی نظر سے
اور اپنی ذہنی اپچ سے شعر سمجھنا چاہتا ہوں۔۔ وگرنہ آپ کے شعر پر
میرا کوئی اعتراض نہیں۔۔ بلکہ میری فکری پرواز کا دخل ہے۔
شاید کو آصف کرنے پر میں ۔۔ ہچکچاہٹ کا شکار ہوں۔۔۔ آپ کی کرم نوازی کا شکریہ
بہت شکریہ آصف صاحب۔
آتا سے میری مراد قطعی یہ نہ تھی کے ہے کی بجائے آتا رکھیں۔۔
ہے اور آتا کا وزن مجھے کم کم سہی مگرآتا ہے۔۔
بیکار پر کی بابت میری رائے اپنی جگہ ہے کہ میںایک قاری کی نظر سے
اور اپنی ذہنی اپچ سے شعر سمجھنا چاہتا ہوں۔۔ وگرنہ آپ کے شعر پر
میرا کوئی اعتراض نہیں۔۔ بلکہ میری فکری پرواز کا دخل ہے۔
شاید کو آصف کرنے پر میں ۔۔ ہچکچاہٹ کا شکار ہوں۔۔۔ آپ کی کرم نوازی کا شکریہ
بہت شکریہ۔ مجھے در اصل آپ کی اس بات کی سمجھ نہیں آ رہی کی آپ آخری علامت کس کو کہنا چاہتے ہیں۔ پہلی علامت سے مراد تو یہ ہے کہ جب پرندے نے اڑنا سیکھا ،ہوا سے جنگ لڑنا سیکھی تو اس جنگ میں جو پہلا پر ٹوٹا اسے نشیمن میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے اور یہ ہوا سے جنگ لڑنے کی پہلی علامت یعنی نشانی ہے۔ شاید دوسرے اسے بیکار پر سمجھ رہے ہوں لیکن در اصل یہ ہوا سے جنگ لڑنے کی پہلی علامت ہے۔
آخری نشانی کیا ہو گی؟ کچھ وضاحت کریں شاید آپ کا مفہوم زیادہ بامعنی ہو۔ پلیز وضاحت کیجیے۔
جیا راؤ — نومبر 15، 2008 11:59 صبح
ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے دیکھا
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے کسے کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے واہ واہ واہ۔۔۔۔
بہت خوبصورت۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت !!
ڈھیر ساری داد قبول کیجئیے۔۔۔
ابھی اک خواب میں نے جاگتے میں ایسے دیکھا
مرا آنسو ترے رخسار پر رکھا ہوا ہے کسے کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے واہ واہ واہ۔۔۔۔
بہت خوبصورت۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت !!
ڈھیر ساری داد قبول کیجئیے۔۔۔
شفیع صاحب ۔۔ میں عرض کرتا ہوں ۔۔ بس ایک دو مسائل کی وجہ سے کمپیوٹر سے دوری ہے ۔۔ جلد ہی حاضر ہوتا ہو ں۔۔
محمداحمد — نومبر 17، 2008 11:44 صبح
ذرا بھی یہ نہیں سرکا کسی نیکی کے بدلے
عجب پتھر ہمارے غار پر رکھا ہوا ہے شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے
ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے آصف شفیع صاحب، ماشاءاللہ ، اچھی غزل پیش کی ہے آپ نے، خاص طور پر درج بالا دو اشعار خوب ہیں ۔ نذرانہءتحسین پیشِ خدمت ہے۔ خوش رہیے۔
ذرا بھی یہ نہیں سرکا کسی نیکی کے بدلے
عجب پتھر ہمارے غار پر رکھا ہوا ہے شکست و فتح کی خاطر ہمیں لڑنا نہیں ہے
ہمارا فیصلہ سالار پر رکھا ہوا ہے آصف شفیع صاحب، ماشاءاللہ ، اچھی غزل پیش کی ہے آپ نے، خاص طور پر درج بالا دو اشعار خوب ہیں ۔ نذرانہءتحسین پیشِ خدمت ہے۔ خوش رہیے۔
جی بہت شکریہ آپ کا۔ خوبصورت انداز ہے داد دینے کا۔ بہت بہت شکریہ
ش زاد — نومبر 17، 2008 4:23 شام
کسی کے سامنے دستِ طلب کیسے اٹھاتے
کہ ہم نےخود کو اک معیار پر رکھا ہوا ہے ہممم ۔۔ واہ ۔۔ اچھا شعر ہے مگر غزل کے درج بالا اشعار کے مزاج سے منحرف ہوچلا ہے۔
کسی میں تحریر کی غلطی رہی اور اٹھاتے کی
بجائے اگر بڑھاتے تو محلِ نظر نہ ہوتا ۔۔ ویسے آپ کی رائے صائب ہے۔۔ اگر شعر اچھا ہے تو ٹھیک ہے غزل کے مزاج سے موافقت رکھنا ضروری نہیں۔ مجھے ابھی تک Satisfaction نہیں ہوئی کہ کسی کے سامنے دست طلب اٹھانا صحیح ہے یا بڑھانا ۔ وارث صاحب یا اعجاز صاحب اپنی رائے سے نوازیں۔
اردو محاورہ میں دستِ طلب و سوال اُٹھنا موجود ہے دستِ طلب بڑھانے کی وضاحت نہیں ملتی یا کم سے کم میری نظر سے نہیں گزری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے دستِ طلب اٹھاتے زیادہ درست ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغل صاحب آپ کچھ اور وضاحت دیجئیے اس بارے۔۔۔۔۔۔۔ آصف صاحب اتنی اچھی غزل پیش کرنے پر داد وصولیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو محاورہ میں دستِ طلب و سوال اُٹھنا موجود ہے دستِ طلب بڑھانے کی وضاحت نہیں ملتی یا کم سے کم میری نظر سے نہیں گزری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے دستِ طلب اٹھاتے زیادہ درست ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مغل صاحب آپ کچھ اور وضاحت دیجئیے اس بارے۔۔۔۔۔۔۔ آصف صاحب اتنی اچھی غزل پیش کرنے پر داد وصولیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔