فیصلہ کر دیا جنازوں نے ... !
کم نصیبوں سے پوچهتے کیا ہو
ان کو پاگل کیا کتابوں نے
کون حق پر تها کون حق سے دور
فیصلہ کر دیا جنازوں نے
حسیب احمد حسیب
میرے محترم بھائی
عدنان کالم نگار بنتا جا رہا ہے مگر دلائل کمزور ہیں ..
اگر جنازوں میں شرکت ہی حق و باطل کی دلیل ہے تو پھر جنازے میں شرکت کرنے والے اس بات کا اثبوت ہیں کہ اس ملک میں ایک کثیر تعداد قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر یقین رکھتی ہے۔
ملک کے تمام میڈیا گروپس کو حکومت کی طرف سے خاص احکامات جاری ہوئے تھے کہ ممتاز قادری سے متعلق کوئی رپورٹ نہ دی جائے۔ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے سے پیمرا لائسنس منسوخ کر سکتی تھی۔ یہ بات مجھے سماء اور دنیا نیوز میں کام کرنے والے کچھ دوستوں نے بتائی۔
ماشاء اللہ بہت ہی اعلٰی
جیسا کہ اوپر عرض کی یہ شاعری ہے پسند آئے اتفاق کیجئے ناپسند ہو عادت کے مطابق مضحکہ خیز قرار دیں یہاں میں بحث نہیں کرونگا .
شاعری پر بحث نئیں کرتے واہ واہ کرتے ہیں یا ٹماٹر مارتے ہیں۔
لگ رہا ہے لگ چکے ہیں
حسیب بھائی، قطعہ بہت ہی اچھا ہے۔
آپ کی بات بہت وزن رکھتی ہے۔ اقوال و اعمالِ سلف کی بابت بہت سی غلط فہمیاں اسی قسم کے اندھے مقلدانہ رویوں کا نتیجہ ہیں جن کی جانب آپ نے اشارہ فرمایا ہے۔
اگر یونہی ہے تو یہ حقیقت نہایت افسوس ناک ہے۔ اور حالات کی روش بتاتی ہے کہ شاید یونہی ہے۔
شاعر نے اسے 'آپ کی شاعری' کے زمرے میں شائع کیا ہے۔ اچھی بات یہی ہے کہ شاعرانہ محاسن و معائب پر بات زیادہ ہو اور نفسِ مضمون پر کم۔ اس قسم کے موضوع کے لیے تو یہ طرزِ تنقید اور بھی زیادہ ضروری ہے۔
خیال کہ تائید تو نہیں کی جاسکتی البتہ
کیا یہ جائز نہیں قطعات میں ایسے بندھتا رہا ہے ... ؟
اگر عنوان "جنازوں کا جنازہ" کر دیں تو شاید زبردست کی ریٹنگ مل جائے گی۔
کیا میں آپ کو ریٹنگ کا متلاشی لگتا ہوں ....
ویسے تو جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ تاہم جہاں قافیہ لازمی ہے وہاں قافیے کے قوانین کا اطلاق بھی لازمی ہے۔ قطعہ اگر نظم ِ معریٰ وغیرہ کا جزو ہے تو پھر تو کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے مزید براں اگر قطعہ غزل کے دو مسلسل یا مربوط ابیات (جو چار مصرعوں میں ایک مضمون کو سموئے ہوے ہو )کو کہا جاتا ہے تو پھر قواعد بھی غزل کے لاگو ہونگے اور قوافی کی پابندی بھی لازم ٹھہرے گی۔